افغانستان ، کابل میں سکول کی تقریب میں خودکش حملہ


141211162702_kabul01

افغانستان ، کابل میں سکول کی تقریب میں خودکش حملہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک سکول کی تقریب میں خودکش حملہ ہوا ہے جس میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق سکول میں ہونے والے خودکش بم حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور پندرہ کے قریب زخمی ہیں۔

140118090636_attack_on_a_restaurant_in_kabul_512x288_ap_nocredit
فرانس کے وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں فرانس کا کوئی شہری شامل نہیں ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق’میں سختی سے دہشت گردی کے اس اقدام کی مذمت کرتا ہوں جس میں متعدد افراد مارے گئے اور کئی زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کوئی فرانسیسی شامل نہیں ہے۔‘
وزیر خارجہ نے واقعے کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عہد کیا۔

141211162702_kabul02
انھوں نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کابل اور پیرس میں کرائسس یونٹ قائم کر دیے گئے ہیں۔
افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ ایوب سالنگی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ فرانس کی مدد سے چلنے والے استقلال نامی سکول میں ہوا۔
1974میں بننے والا یہ سکول کابل کے بہترین سکولوں میں شمار ہوتا ہے اور اس میں دو ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں
ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور تماشائیوں میں بیٹھا تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/12/141211_kabul_school_suicide_attack_tk
سکول ایک قومی دولت ہیں جہاں ملک کے بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر آئندہ ملک و قوم کی خدمت کر تے ہیں۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی کا تمام دارومدار و انحصار ہے. طالبان کی سکول دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہے۔ قرآنی احکامات کی صریح اور کھلی خلاف ورزی کر کے بھی یہ نام نہاد طالبان اسلام اور شریعت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں. اُن کی جہالت کا سب سے بڑا شاہکار بچوں کے سکولوں کا نذرِ آتش کرنا اور طالبعلموں کا قتل ہے۔ا ن دہشت گردوں کا سکولوں کی تباہی اور سکول دشمنی کا رویہ بتاتا ہے کہ وہ طالبان نہیں جاہلان ہیں. یہ انپڑہ ، وحشی طالبان درندے جن کے آگے تاتاریوں کے مظالم ہیچ ہیں کیا جانیں اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت ؟ اسلام کے مطابق علم ایک ایسا اجالا اور نور ہے جو کہ جہالت، لاعلمی اور پسماندگی کے اندہیروں کو دور کرتا ہے اور ہمیں اچھے اور برے میں تمیز، فرق اور پہچان کی صلاحیت دیتا ہے۔ کسی بھی قوم نے بغیر علم و تعلیم کے آج تک ترقی نہ کی ہے۔ اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی۔غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی صلعم کو کہا گیا :
”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم.
(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔(العلق:۱-۵)
طالبان کی سکول دشمنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام اور افغانستان دونوں کے مخلص نہیں اور نہ ہی ان کو افغان عوام میں دلچسپی ہے بلکہ یہ تو اسلام ،افغانستان اور عوام کے دشمن ہیں کیونکہ یہ ہمیں ترقی کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔ سکولوں کو جلانے اور طالب علموںپر حملوں کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم دہشت گردوں کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، افغانستان پر مسلط کریں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. طالبعلموںاور اساتذہ اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔
سکولوں پر حملے خود ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں انہوں نے سکولوں اور طالبعلموں پر حملے کرنے سے منع کیا تھا۔

Advertisements