پشاور میں سوگ، ہر آنکھ پر نم، ہر دل مجروح


10845814_10152993846477044_2895976260147849174_o

پشاور میں سوگ، ہر آنکھ پر نم،ہر دل مجروح
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں۱۰۰ سے زائد بچوں سمیت ۱۲۶ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ۱۲۲ زخمی۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں پیش آیا جب ایف سی کی وردی میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح دہشت گردوں نے سکول کی عمارت میں داخل ہو کر فائرنگ کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کے ترجمان نجیع اللہ خٹک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 126 ہو چکی ہے جبکہ 122 افراد زخمی ہیں۔ اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 60 افراد کی لاشیں سی ایم ایچ اور 24 کی لاشیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں موجود ہیں جبکہ دونوں ہسپتالوں میں 80 سے زیادہ زخمی بھی لائے گئے ہیں۔

1836675_10152993846347044_4873177186163651257_o

B4-4KwqIgAAZUHg
صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فوج کے دستے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران اب تک دو سے تین حملہ آور مارے جا چکے ہیں اور ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سکول میں سکیورٹی اہلکار داخل ہو گئے ہیں جہاں وقفے وقفے سے شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے کچھ بچوں کو بحفاظت سکول سے باہر نکال لیا ہے۔

54900435dfe97
خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے جبکہ وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال کی نگرانی کرنے کے لیے خود پشاور پہنچ رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی پشاور پہنچ رہے ہیں۔

10868176_928892967151041_279867732520847110_n

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آ ج بزدل دہشت گردوں کی طرف سے قوم کے دل کو نشانہ بنایاگیا ہے جس میں معصوم جانوں کے ضیاع پرگہرا صدمہ ہوا ہے مگر اس حملے بعد بھی ہمارا عزم کمزور نہیں ہوا بلکہ نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔ آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ہنگامی طور پر پشاور پہنچنے کے بعد میڈیا کو جاری بیان میں آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں اور آج بہادر افواج کی طرف سے بزدل حملہ آوروں کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پاک فوج کا آپریشن ضرب عضب جاری رکھنے کا اعادہ بھی کیا۔

10868287_928892933817711_4317347982565496666_n
اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔تنظیم مرکزی ترجمان محمد عمر خراسانی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے چھ حملہ آور سکول میں داخل ہوئے ہیں‘۔

10679629_10152993846482044_5581669056493855798_o
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ون کے جواب میں ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141216_peshawar_army_public_school_attack_rh

B492A_MCMAA-8hz

طالبانی دہشتگرد جو اسلامی نظام نافذ کرنے کے دعوے دار ہیں ،ان طالبانی دہشتگردوں نے 132 ماؤں کی گودیں اجاڑ دی ہیں۔ امیدوں کو مار ڈالا گیا اور مستقبل کو قتل کر دیا گیا۔ آج ہر دل خون کےآ نسو رو رہا ہے اور ہر روح مجروح ہے۔آ ج کا دن انسانیت کے لئے ایک تاریک ترین دن ہےاور اسلام کے مقدس نام پر ایک سیاہ دہبہ ہے۔جو لوگ اب بھی طالبان کی حمایت کرتے ہیں وہ بھی قاتلوں کےساتھی ہونے کی وجہ سے اتنے ہی قصوروار ہیں جتنے طالبان قاتل۔آج کا واقعہ پاکستان کے لئے ایک قومی المیہ ہے اور قیامت صغرا سے کم نہیں۔آج پاکستان بھر میں خیبر سے کراچی تک ہر آنکھ پر نم اور ہر دل مجروح ہے۔

548feaf932a49

اب تک کے اوداد و شمار کے مطابق  132بچوں اور سٹاف کے 9 ممبروں  سمیت 1421 افراد جانبحق ۱۰۰ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدوں کے مطابق حملہ آور غیر ملکی تھے اور عربی بول رہے تھے۔ دہشت گردوں کے پشاور میں آرمی اسکول پر حملے کے عینی شاہد طالب علم نے بتایا کہ حملہ آوروں کی بڑی بڑی داڑھیاں تھیں اور وہ سب عربی زبان میں بات کر رہے اورغیر ملکی لگ رہے تھے۔

548fdf57abab1

میڈٰیا سے بات کرتے ہوئے عینی شاہد طالب علم نے بتایا کہ ٹیچر ہمیں فرسٹ ایڈ کے متعلق لیکچر دے رہے تھے کہ اچانک عقب سے ہوائی فائرنگ ہوئی تو ہم نے کلاس کے دروازے بند کر دیئے لیکن دہشتگرد دروازے توڑ کر کلاس میں داخل ہو گئے پہلے ہوائی فائرنگ کی اور بعد میں ایک ایک بچے کو مارتے رہے۔ عینی شاہد نے بتایا کہ دہشتگرد غیر ملکی لگ رہے تھے اور عربی میں بات چیت کر رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ دہشتگردوں کی بہت بڑی بڑی داڑھیاں تھیں۔

548feaf9621b5

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں سانحہ پشاور پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غمزدہ خاندانوں کےغم میں برابرکے شریک ہیں۔منگل کو ہنگامی دورے پر پشاور پہنچنے کے بعد نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ حملہ جرم کے ساتھ ساتھ پرلے درجے کی دہشت گردی اور بزدلی بھی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں ہے اورپاک فوج کوآپریشن ضرب عضب میں حکومت کی پوری حمایت حاصل ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آج معصوم جانوں کے ضیاع کے بعد کوئی وجہ نہیں دہشت گردوں کے ساتھ نرمی روا رکھی جائے، حملے بعد بھی ہماری قوم کا عزم بلند ہے ، ہم دہشتگردوں کیلئے زمین کو تنگ کر دیں گے اور اپنے بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور دہشتگردوں کے مکروہ مقاصد کسی صورت مکمل نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ قوم میں تقسیم کی لکیر ختم مٹا دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بہادر افسران اور جوانوں کی اگلی نسل کا خون بھی مادر وطن کیلئے بہہ رہا ہے۔

141216114000_a_plain_clothes_security_officer__640x360_ap_nocredit
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پشاور کے اندوہناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے کا یہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ اور قومی سانحہ ہے، دہشت گردی کا شکار ہونے والے اسکول کے بچے میرے بچے تھے اور یہ پوری قوم کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے کے بعد وہ اسلام آباد میں نہیں رک سکتے اس لئے فوری طور پر وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ہمراہ پشاور جارہے ہیں جہاں وہ ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کریں گے۔

taliban-storm-pakistan-school
وزیر اعظم نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ دہشت گردی کی اس بےہیمانہ واردات کے ماسٹر مائنڈ کو کسی صورت نہ چھوڑا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران بچوں کو اسکول سے بحفاظت نکالنا پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔

10250227_783545408349816_588862973537782228_n
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اسکول سانحے کے بعد اپنا دورہ کوئٹہ مختصر کرکے ہنگامی طور پر پشاور روانہ ہوگئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویزرشید کہتے ہیں کہ پشاور کے اسکول پر حملہ پاکستان کے بچوں پر حملہ ہے جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کو کسی ایک واقعے سے جوڑنا یا کسی خاص خطے سے منسلک کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ دہشتگردوں کے چند گروہ پوری دنیا کو غیر محفوظ بنا کر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں اور پوری دنیا ان کے خلاف مل کر لڑ رہی ہے۔ پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ پشاور میں اسکول پر حملہ کسی ایک صوبے کا معاملہ نہیں، یہ کارروائی پورے ملک کے خلاف ہے۔ اگر دہشتگرد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اس طرح کی کارروائی سے ہمارے ارادے پست ہوجائیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ پاکستانی قوم نے دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کا تہیہ کررکھا ہے۔ اس طرح کے حملوں سے ہمارا عزم کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے ملک میں دہشتگردی کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس کے ردعمل میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور مزید شدت سے جاری رہے گا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے پشاور سکول حملے کے بارے میں کہا کہ نہ یہودیوں اور نہ ہی ہندوؤں بلکہ ہمارے مسلمان افراد نے کیا وہ نہایت ہی شرمناک ہے۔
ان کا کہنا تھا صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ’آج کا واقعہ سب سے زیادہ درر ناک ہے جس میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عام افراد کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے پشاور سکول حملے کو سب سے ’بدترین‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا آج کا واقعہ 18 کروڑ عوام کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور ساتھ ساتھ مرکزی، صوبائی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عام افراد کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر معاملات میں حکومت کی لا پرواہی برداشت ہو سکتی ہے تاہم اپنے بچوں اور ان کی جان و مال کی حفاظت میں کوتاہی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔
طالبان و القائدہ کی دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔بچوں کو قتل کرنا جہاد نہیں ،جہاد تو اللہ کی راہ میں اللہ کی خوشنودی کے لئے کیا جاتا ہے۔طالبان کے بقول انہوں نے ضرب عضب کا بدلہ لیا ہے۔ اسلام کے مطابق بدلہ لینا جہاد نہ ہے۔ لگتا ہے گمراہ طالبان کو اسلام سے متعلق کچھ معلوم نہ ہے۔
علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں اپنے مخالف علماء ومشائخ کے گلے کاٹیں جائیں ،بے گناہ لوگوں حتی کہ عورتوں اور سکول کے بچوں کو بے دردی کیساتھ شہید کیا جائے ، جس میں جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہو، ۔
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں دہشت گردوں کا پاکستانی بچوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے .پاکستانی عوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے. دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ۔ بم دھماکے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کہاں کی بہادری ہے؟
طالبان انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔
طالبان و القائدہ دہشت گرد دہماکوں اور خودکش حملوں سے پاکستان کو تباہ اور پاکستانی شہریوں کو بلا دریغ ہلاک کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ۔ بے گناہ اور معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوںاور امام بارگاہوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔
اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں ۔دہشت گردوں کے خلاف جہاد میں حکومت سے تعاون ہرشہری کا فرض ہے ۔

مسجدوں،امام بارگاہوں، مزاروں، اسپتالوں، جنازوں، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے جہاد نہیں فساد ہیں۔ بے گناہ طالبات و اساتذہ، بے گناہ انسانوں خواتین اور بچوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں۔ دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔
طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی ،درندے ، انتہا پسند،تشدد پسند ، دہشت گرد اور تنگ نظر ، نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے اغوا اور خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ بقول طالبان کے وہ پاکستان میں نام نہاد اسلامی مملکت کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کر رے ہیں۔ اسلامی مملکت کے خلاف مسلح جدوجہد اسلامی شریعت کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔

طالبان و القائدہ معصوم مسلمانوں اور پاکستانیوں کا دائیں و بائیں ، بے دریغ قتل عام ،خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعہ کر رہے ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘( المائدة، ۳۲-۵ )
”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔’

Advertisements

“پشاور میں سوگ، ہر آنکھ پر نم، ہر دل مجروح” پر ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں۔