دہشتگردی کیخلاف جہاد جاری رہے گا


10868119_1563081703928747_5438962334421551010_n

دہشتگردی کیخلاف جہاد جاری رہے گا
تاریخی شہر پشاور میں قیامت صغری کا منظر تھا،پشاور اسکول حملے کے بعد ملک بھر میں فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشک بار ہے ۔پشاور میں آج تعلیمی ادارے بند ہیںجبکہ ملک بھر کے اسکولوں میں آج شہدا کے لیے خصو صی دعائیں کی جا رہی ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ پشاور میں ہوا، آرمی پبلک اسکول میں پڑھنے والے 132 بیٹے،  ماؤں سے چھین لیے گئے، عملے کے 9 ارکان بھی شہید ہوئےاور 124زخمی ہوئے، اس سانحہ پر پوری قوم غم سے نڈھال ہے۔دہشت گردی کے خلاف جاری پاک فوج کے آپریشن ضرب شروع ہونے کےبعد دہشت گردوں نے آگ و خون کی ہولی کھیلنے کے لیے اسکول کےبچوں کو نشانہ بنایا۔ ہولناک واقعے پر ملک بھر میں سوگ کاعالم طاری ہے،زندگی چپ ہے اور فضا سوگوار ہے۔ دہشتگردوں نے یہ حملہ پاکستان کے مستقبل پر کیا ہے۔معصوم بچوں کو مار کر مجاہد کہلانے والوں کو شرم آنی چاہئے، یہ صریحاً دہشت گردی ہے. بچوں اور عورتوں کے مارنے کی  اسلامی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر کوئی اسے اسلام کے ساتھ منسلک کرتا ہے تو یہ اسلام کے چہرے پر بدنما داغ لگانے والی بات ہے،اگر کوئی معصوم بچوں کو مار کر مجاہد کہلانا چاہتا ہے تو انہیں یہ لفظ کہتے ہوئے شرم آنی چاہئے یہ تو صریحاً دہشتگردی ہے۔ طالبان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، پشاور میں دہشتگردوں کے بدترین حملےنے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ جب تک طالبان کو مکمل طور پر شکست نہیں دیدی جاتی، پاکستان میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ سانحہ پشاور، انسانیت کے چہرہ پر بدنما داغ ہےپھول کی معصوم کلیوں کو جس بے دردی کے ساتھ مسل  دیا گیا اس کی آج کے مہذب دور ہی میں نہیں  انسانی تاریخ میں بھی مثال نہیں ملتی۔طالبان کے ظلم و بربریت و سفاکی کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

_79768696_peshawar

indexaa

186Pakistan

"پورا پشاور خون میں نہا گیا، وہ بھی ننھے منے پھولوں کےخون سے۔وہ پھول جو بنا کھلے مرجھا گئے۔وہ پھول جنہوں نے ابھی پائلٹ، ڈاکٹر، صحافی، سیاستدان، انجینئر، فوجی، بینکار بن کر اس ملک کی باگ ڈور کو سنبھالنا تھا۔ وہ بچے جن کی ماؤں نے ان کے سہرے کے پھول دیکھنے تھے سب منوں مٹی تلے جا سوئے۔ جس ماں نے نو مہینے اپنی کھوکھ میں رکھ کر پیدا کیا راتوں کو جاگ جاگ کر اپنے بچوں کو بڑا کیا، آج وہ یہ رات ان کے بنا کیسے گزاریں گے، اس کا جواب کون دے گا؟والدین اسپتالوں میں اپنے بچوں کو دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے اور اس وقت بچوں کی کراہنے کی آوازیں اور لواحقین کی آہ و زاری کی وجہ سے قیامت کا سماں ہےلیکن اب بھی قوم کے حوصلے بلند ہیں۔ بچوں کی لاشیں وصول کرتے وقت بھی والدین کہتے رہے ہمیں اپنے بچوں کی شہادت پر فخر ہے اور حکومت اور پاک فوج چن چن کر ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرے ۔”

index

1000

_79775093_79775092

ترجمان فوج نے بتایا کہ ہم جان چکے ہیں کہ کن دہشت گردوں نے حملہ کیا، دہشت گرد کہاں سے ہدایات لے رہے تھے یہ بھی پتا چل چکا ہے،شہید بچوں کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، یہ درندے انسان، پاکستان اور مسلمان دشمن ہیں۔ دہشت گردوں کی قومیت کے بارے میں ابھی نہیں بتاسکتے، آپریشنل وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے، اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد عربی زبان بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے جگہ کودیکھابھی ہوگااورکسی نےمعلومات بھی دی ہوگی، دہشت گردوں نے کسی کو یرغمال نہیں بنایا، موجود افراد کو مارنا شروع کردیا، اگر دہشت گرد یرغمال بنانے آتے تو کچھ مطالبات رکھتے، دہشت گردوں کا مقصد صرف مارنا تھا، دہشت گردوں کے پاس کئی دن کا اسلحہ اور راشن بھی تھا، دہشت گردوں کے پاس اسلحہ اور راشن اتنا کیوں تھا، کچھ دن بعد واضح ہوگا۔ عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہر شخص کو اپنی ذمےداری نبھانی ہے،ہر شہری اپنا فرض ادا کرے اور جو بھی اطلاع ہو فوری طور پر دے، دہشت گردوں کو شکست دینی ہے، یہ امیدبھی نہیں کرسکتے کہ پاکستان کا کوئی شہری یا پارٹی ایسے دہشت گردوں کو اپنا بچہ کہہ سکے،اگر دہشت گردوں کو کوئی اپنا بچہ کہہ رہا ہے تو سیاسی ایوان، قوم اورہم سب مل کر فیصلہ کریں گے۔

141217002726_funeral_prayer_dead_peshawar_640x360_afpgetty

peshawar-attack-
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہمارے بچے مررہے ہیں ۔ تابوت جتنے چھوٹے ہیں ان کا وزن اتنا ہی زیادہ ہے ۔آج پاکستانی قوم ایک سو سے زیادہ چھوٹے تابوت اٹھارہی ہے ۔ پاکستان کی بقا اور خطے میں امن کے لیے طالبان سب سے بڑا خطرہ ہیں، ان سے جنگ جاری رہے گی. وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت طالبان کے مختلف گروپوں کے درمیان اچھے یا برے طالبان کی تمیز نہیں کرتی ۔ یہ سب برے طالبان ہیں ۔

10858618_875886099123435_7299711307193144762_n
سانحہ پشاورمیں شہید طلبہ اور اساتذہ کی انفرادی طور پر نمازجنازہ اداکرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔کور ہیڈکوارٹرمیں مرحومین کی غائبانہ نمازجنازہ بھی اداکی گئی۔پشاورکی ڈیفنس کالونی میںآرمی پبلک اسکول کے دو مرحوم طالب علموں14سالہ حسین اور 17سالہ عبداللہ کی نمازجنازہ اداکی گئی۔ جوگزشتہ روز دہشت گردی کےواقعےمیں شہید ہوگئےتھے۔نمازجنازہ میں والدین،رشتہ داروں اور دوستوںکی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جس کے بعد دونوں میتوں کو آخوند باباقبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔گلبرگ میں دسویں جماعت کے طالب علم زین اقبال اور بارہویں کے مبین آفریدی کی نمازجنازہ ادا کی گئی۔ جبکہ گلبہار میں حسنین شاہ کی نمازجنازہ ادا کی گئی۔ ادھرکور ہیڈکوارٹر میں سانحہ پشاور کے شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف،ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر،گورنر خیبرپختونخواسردار مہتاب احمد خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک اوردیگر سول و ملٹری حکام نےشرکت کی۔اس سانحےکےخلاف پشاور میں شٹرڈائون ہڑتال بھی جاری ہےاورشہر میں سوگ کی فضاءہے۔

eight_col_068_AA_16122014_392

images
ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والے ملا فضل اللہ کے گروپ نے پشاور کے اسکول پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن بند کیا جائے۔کالعدم تحریک طالبان کا کہنا ہے کہ حملہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا جواب ہے۔

peshawar-school-attack
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ حملے سے ثابت ہوا کہ دہشتگرد صرف پاکستان کے ہی نہیں انسانیت کے بھی دشمن ہیں، اسکول پر حملے سے دہشتگردوں کے عزائم سامنے آگئے، دہشتگردوں نے قوم کے دل پر حملہ کیا ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پر متعدد کارروائیاں کی گئی ہیں، خیبرایجنسی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرآج 10 فضائی حملے کیے گئے ، انتہائی افسوسناک صورتحال ہے لیکن ہمارے عزم کو نیا حوصلہ ملا ہے، وحشی درندوں اور انکے سہولت کاروں کے خاتمے تک ان کا پیچھا کریں گے۔

186Pakistan
سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ اس قسم کے حملے پاکستانی قوم اور سیکیورٹی فورسز کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، دہشت گردوں کو ہر حال میں شکست دی جائے گی، ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیں جو دہشت گردوں کو شہید کہتے ہیں، اب ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے ہمارے بچے شہید کئے گئے،۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو کر دہشت گردوں کا قلع قمع کریں۔ وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ، گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان، وزیراعلی اور گورنر پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان ، آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین پرویز مشرف ، لیاقت بلوچ، عمران خان، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما غلام علی خان،مقصود عباسی،نذیر ہزاروی، شیخ جاوید عالم،ملک طاہر جاوید، سکندر خان، مسعود عباسی،شیخ آصف ، مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہ محمد شاہ، پیپلزپارٹی سٹی کے صدر عبدالمجید بلوچ، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور دیگر نے پشاورحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس وقت وفاقی حکومت کی توجہ حکومت بچانے اور صوبائی حکومت کی توجہ وفاقی حکومت کے گرانے پر ہے، صرف افواج پاکستان ہی دہشت گردوں سے لڑ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پھولوں کے شہر پشاور میں قوم کے معماروں کی شہادت پر پوری قوم شدت غم سے نڈھال اور سوگوا ر ہے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سانحے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

1000

صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردوں سے کسی رعایت سے کام نہیں لیاجائے گا،پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے گا۔صدر مملکت ممنون حسین سے وزیر اعظم نواز شریف نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا کہ ملک کو امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے،قوم کے نونہالوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پرنہیں چھوڑا جا سکتا،دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کر کے انہیں ختم کر دیا جائیگا۔اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کیخلاف پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مکمل اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تقسیم کی تمام لکیریں مٹا کر پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو، انشاء اللہ وطن عزیز کی سرزمین ایسی درندگی کیلئے تنگ کردی جائے گی، آپریشن ضرب عضب کو پوری قوم کی پشت پناہی حاصل ہے، ہمارے بہادر افسروں اور جوانوں کی دوسری نسل کا لہو بھی وطن کی نذر ہو رہا ہے، میڈیا دہشت گردی کے خلاف قومی عزم ابھارنے کو پہلی ترجیح بنائے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رکھنے کے ٹھوس عزم کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے کیلئے متحد ہو جائے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت قوم میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کے خلاف جنگ بہت سے اہم مقاصد میں کامیابی کے بعد اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، قوم اور مسلح افواج ملک سے ہمیشہ کیلئے دہشت گردی کے لعنت کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کو انتہاء پسندوں اور دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

B4-4KwqIgAAZUHg

141217002726_funeral_prayer_dead_peshawar_640x360_afpgetty
وزیراعظم نواز شریف نےکہا ہے کہ کل کےسانحےکےبعد دہشتگردوں کیخلاف جہاد میں پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں، دہشتگردوں کیخلاف سخت فیصلے ہونگے،فوج نے دہشتگردوں کا کمانڈ کنٹرول سسٹم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ،دہشتگردی سے نجات کی خاطر فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔قومی پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،سانحے کی مکمل تفصیلات جلد سامنے آجائیں گی ،پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں معاشی نقصانات سمیت کئی بھاری زخم کھائے ہیں ، دہشتگردی کا جلدخاتمہ کیا جائے،شہیدفوج ،پولیس اور سول اداروں کے افسران کو اللہ تعالی درجات عطا کرے۔نواز شریف نے کہا کہ انتہائی اہم معاملے پر مشاورت کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں ،تمام سیاسی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، دہشتگردی کے مقدمات کے عدالتوں میں فیصلے نہیں ہوپاتے، عدالتیںبھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ واہگہ اور پشاور کے سانحات آپریشن ضرب عضب کےبعد بڑے واقعات ہیں،آپریشن میں کامیابیاں حاصل ہوئیں،افغان صدر نےکل رات گفتگو میں سانحہ پشاور پر افسوس کا اظہار کیا،پاکستان اور افغانستان کےدرمیان ہونیوالے فیصلوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے، آرمی چیف سانحہ پشاور پر بات کرنے افغانستان روانہ ہوگئے ہیں، وہ کابل میں ایساف کمانڈراورافغان حکومت سےواقعات پر بات کرینگے،افغان صدر کے ساتھ طے پایا کہ ادونوں ملک اپنی سرزمین دہشتگردی کیلیےاستعمال نہیں ہونےدینگے،وہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کریں۔انہوں نے کہا کہ سب کی متفقہ رائے تھی کہ دہشتگردوں سے بات چیت کی جائے ،ہم نے بات چیت بھی کی لیکن اس کے نتائج سب کےسامنے ہیں ،شہید ہونےوالے معصوم بچوں کے چہروں کو سامنے رکھ کر جنگ لڑنا ہوگی ،کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ہمیں ضرب عضب آپریشن شروع کرنا پڑا،آپریشن جب منطقی انجام کو پہنچے گا تو ملک میں دائمی امن قائم ہوگا،نہیں چاہتے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دی جانےوالی قربانیاں رائیگاں جائیں ۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’ہم اس بات کا بھی واضح اعلان کرتے ہیں کہ اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز کسی سطح پر روا نہیں رکھی جائے گی جب تک ایک بھی دہشتگرد باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی۔‘اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ،عمران خان سمیت تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت نے شرکت کی ۔ اس موقع پر سانحہ پشاور کے شہداء کیلئے دعائے مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔

_79777166_025139467-1
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔دہشتگردی پورے پاکستانی معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے اسے صرف فوجی آپریشن سے کائونٹر نہیں کیا جاسکتا،اس کے خلاف پوری سوسائٹی کو متحد ہونا ہوگا اور پولیٹیکل اونرشپ دینا ہوگی تبھی ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں ۔.
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ اسلامی شریعہ کی رو سے بدلہ لینا ،پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہ ہے۔
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ، القائدہ و طالبانی دہشت گردوں کا سکول کے پاکستانی بچوںو اساتذہ کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں و اساتذہ کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے .پاکستانی عوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے۔ دہشت گرد ہمارے بچوں کو نشانہ بنا کر ہمارا مستقبل تباہ کرنے چاہتے ہیں۔
دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ۔ سکول حملے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کہاں کی بہادری ہے؟طالبان کی تعلیم و سکول دشمنی کسی سے ڈہکی چھپی نہ ہےجو کہ قانی احکامات کے خلاف ہے۔
طالبان انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
القائدہ و طالبان کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ بقول طالبان کے وہ پاکستان میں نام نہاد اسلامی مملکت کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کر رے ہیں۔ اسلامی مملکت کے خلاف مسلح جدوجہد اسلامی شریعت کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘( المائدة، ۳۲-۵ )
”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے
القائدہ و طالبان اسلامی نظام لانے کے دعویدار ہیں مگر ان سے بڑا اسلام دشمن کوئی نہ ہے اور اسلام کو سب سے زیادہ نقصانالقائدہ و طالبان نے پہنچایا ہے۔دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش ہے۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں. بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ سکول پر حملہ اور طالبعلموں،اساتذہ اور بے گناہوں کا ناحق قتل ملا عمر کےا حکامات کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں انہوں نے طالبان کو ایسا کرنے سے واضع طور پر منع فرمایا تھا۔
دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ملک میں امن وچین کا دور دورہ ہوگا اور خوشحالی و ترقی کا ایک نیاباب شروع ہوگا جس کے ثمرات تمام پاکستانیوں کو پہنچیں گے۔

Advertisements