دہشتگردوں کے نئے حربے


دہشتگردوں کے نئے حربے
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے ہوئے قوم کوخبردار کیاہے کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اورہمارا دشمن باہر سے نہیں اندر سے ہے. سانحہ پشاور کے تمام ملزم پاکستانی ہیں. انہوں نے متنبہ کیا کہ دہشت گرد پشاور جیسی مزید وحشیانہ کارروائی کی تیاری کررہےہیں۔عوام کوایسے کسی بھی حملے سے بچنے کےلئے متحرک ہونا ہوگا۔ملک اس وقت دہشت گردی اوربدامنی کے جس دور سے گزر رہا ہے اس کومد نظر رکھتے ہوئے وزیرداخلہ کاانتباہ زمینی حقائق اوروقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ کیونکہ طالبان دہشتگرد ، مسلح، تربیت یافتہ سیکورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں، اس لیے وہ اب آسان اہداف” کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پاکستانی قوم کو دہشتزدہ کر کے قوم کے عزم کو متزلزل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

index

Army-Public-School-Peshawar-After-Attack-Inside-Video

اسکولوں اورسکولوں کے بچوں پر حملہ طالبان دہشت پسندوں کا نیا حربہ نہیں ہے، تاہم، آرمی پبلک سکول میں یہ قتل عام طالبان دہشتگردوں کی مایوسی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔پشاور کے آل سینٹس چرچ پر گزشتہ سال کیے جانے والا بم حملہ بھی آسان ہدف کی ایک اور مثال ہے۔

pakistan-school
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشتگرد ، اسکولوں، عبادتگاہوں اور عوامی مقامات جیسے نرم اہداف پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ طالبان نے یہ حربہ بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے، میڈیا میں زندہ رہنے اور قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کی غرض سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے اپنایا ہے۔ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں حکومتی کارروائیوں نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے۔ فوجی کارروائی سے ٹی ٹی پی کی صفوں میں انتشار پھیل گیا ہے اور ملا فضل اللہ مایوسی میں ساٖفٹ ٹارگٹس پر حملے کروا رہے ہیں جس سے پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتیں طالبان کے خلاف ہو گئی ہیں۔

images
فوج قبائلی علاقوں میںضرب عضب اورآپریشن خیبرون میں پہلےسے مصروف ہے۔اب اس کی کارروائیوں کادائرہ پورےملک تک بڑھادیا گیا ہےکیونکہ دشمن نے ہرجگہ قوم کےمفادات پرضرب لگانے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے ۔
دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان ۵۰،۰۰۰ سے زیادہ جانوں کی قربانی دینے کے علاوہ ۸۰ ارب ڈالر سے زیادہ کے اقتصادی و مالی نقصان اٹھاچکاہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دہشتگردی کی اس عفریت کاسرہمیشہ کے لئےکچل دیا جائے۔سانحہ پشاور نے شدت پسندی کے خلاف پوری قوم کومتحد کردیا ہے۔تمام سیاسی پارٹیاں ایک صفحے پرآگئی ہیں اورقومی پارلیمانی کمیٹی دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے جامع ایکشن پلان تیار کررہی ہے۔
پاکستان سےدہشت گردی کےناسور و عفریت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا،اس جنگ میں جیت ہی واحد آپشن ہے،سفاک درندوں نے معصوم بچوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا،پوری قوم اس ناسور کےخاتمے کیلئے متحد اور یکجا ہو چکی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، دہشت گردی میں ملوث عناصرکو نہ بھول سکتےہیں نہ ہی انہیں چھوڑیں گے. نواز شریف نےکہا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کیے جائیں۔کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے والے ہر شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ دہشت گردوں اور انہیں پناہ دینے والوں میں تفریق نہیں کریں گے، ملک کو دہشت گردی کے کینسر سے نجات دلا کر ہی دم لیں گے۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت پاکستان کے لیے ایک کینسر ہے، ملک کو اب اس کینسر سے نجات دلانے کا وقت آگیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ عوام کو ہر ممکن تحفظ اور امن دینے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اور اس کے لئے افواج اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے دہشت گردی کیخلاف ملکر کارروائیاں کررہے ہیں اور ہرگز ایسے افراد رحم کے مستحق نہیں جنہوں نے ہمارے جوانوں، عورتوں ، بوڑھوں اور بچوں کو شہید کیا۔دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، دہشتگردی اور انتہا پسندی کے نظریے کو ہرصورت شکست دینی ہو گی۔آپریشن ضرب عضب آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔

5388a13cb50cc

پاکستان میں ایک غیرمعمولی صورت حال ہے ،ہم نے کمزور اقدامات اٹھائے تو قوم قبول نہیں کرے گی، وزیراعظم کی زیرصدارت قومی پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کے موقع پر نوا زشریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر معمولی صورت حال غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے،خوشی کی بات ہے کہ پشاور کے سانحہ پر تمام رہنما ایک ہی صفحے پر ہیں ،جس طرح پشاور میںبچوں کو ماراگیا انسانی تاریخ میں ایسی مثال شاید ہی ہو،دہشتگردی کینسرجیسی بیماری ہے،جسکاعلاج نہ کیاتوتاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی، یہ مرض نہیں،ایک بڑی بیماری ہے جس کا علاج ہم سب نے مل کر کرنا ہے، قوم کی نظریں ہم پر لگی ہیں، وہ دیکھ رہی ہےکہ ہم کیا فیصلے کرتے ہیں،لولے لنگڑے فیصلوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،سخت فیصلے کرنے ہیں،ہمیں یہ فیصلے ان کیخلاف کرنےہیں جوپاکستان کو جڑ سے اکھاڑپھینکناچاہتےہیں .

taliban-chief-makes-last-ditch-bid-to-assert-authority-1399760943-6834

اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام ایک عالم گیر مذہب کے طور پر تمام عالم انسانیت کا احاطہ کرتا ہے اس لئے اس میں سب انسان مساوی سلوک کے حقدار ہیں ۔ اسلام رنگ،نسل اور ذات پات کی بنیاد پر کسی تفریق کا روادار نہیں ۔ آپﷺ نے اپنے عمل صالح سے یہ ثابت کیا کہ “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔

آج پاکستان تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ آئندہ نسلوں کی بقاءکی جنگ ہے۔اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ طالبان اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔
بزدلانہ دہشت گردی کی کاروائی نے پوری قوم اور سیاسی قیادت کو متحد کردیا ہے۔ یہی متحد سیاسی قیادت پاک فوج کے ساتھ مِل کر پاک سرزمین کے چپے چپے سے دہشت گردوں کا صفایا کرے گی۔ جب تک پاکستان کا ہر شہری دہشتگردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھے گا اور پاکستان کی حفاظت کے لئےاپنی جان نہیں لڑائے گا ، تب تک دہشتگردی کے اس عفریت سے پیچھا چھڑانا ممکن نہ ہے۔

تمام قوم کو ایک  سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی بہادر مسلح افواج و سیاسی قیادت کے ساتھ  کھڑا ہونا چاہئیے تاکہ  پاکستان کوامن واستحکام کاگہوارہ بنایا جا سکے۔

 

Advertisements