چقندر کےفائدے


00692-600x330

چقندر کےفائدے
چقندر ایک سبزی ہے٬ یہ باہر اور اندر سے سرخ ہوتی ہے۔ اس کے پتے پالک کے پتوں سے مشابہ ہوتے ہیں، چقندر کا ذائقہ گاجر کی مانند شیریں ہوتا ہے۔ چقندر کو بھارت، پاکستان، شمالی افریقہ اور یورپ میں کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے ۔ چقندر سے جگر اور تلی کی بیماریوں کا علاج کیا کا سکتا ہے، چقندر کھانے سے جگر کا فعل بہتر ہوتا ہے اور یہ تلی کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ چقندر کے پانی کو شہد کے ساتھ پیا جائے تو بڑھتی ہوئی تلی کو کم کرتا ہے اور جگر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، شہد اور چقندر کا پانی نہ صرف یرقان میں مفید ہے بلکہ صفرا کی نالیوں میں پتھری یا دوسرے اسباب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا علاج بھی ہے۔

imagescc
درد سر اور درد دانت اور آنکھوں کی سوزش کے علاج کیلئے مفید ہے ،چقندر کی جڑوں کا جوس نکال کر اگر اس کو ناک میں ٹپکایا جائے تو سر درد اور دانت درد فوراً دور ہوجاتا ہے۔ اسے اگر اس کے اطراف میں لگایا جائے تو آنکھوں کی سوزش اور جلن میں مفید ہے۔ چقندر کے پانی کو روغن زیتون میں ملا کر جلے ہوئے مقام پر لگانا مفید ہے۔ سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے۔

imagesaaa

images

چقندر1
چقندر کے پتوں کا پانی نکال کر اس سے کلی کرنا اور اسے مسوڑھوں پر ملنے سے دانت کا درد جاتا رہتا ہے۔
بعض اطباء کا خیال ہے کہ ایسا کرنے کے بعد آئندہ درد نہیں ہوتا۔ سر کے بال کم ہوں تو چقندر کے پانی سے دھونا مفید ہے- چقندر کے اجزاء دست آور ہیں جبکہ اس کا پانی دستوں کو بند کرتا ہے، اسے کافی دنوں تک کھانے سے درد گردہ و مثانہ اور جوڑوں کے درد کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہی ترکیب مرگی کی شدت کو کم کرنے میں مفید ہے۔ منہ کی کسی بھی بیماری کے لئے چقندر کے رس کا ایک کپ نہایت فائدہ مند ہے۔ مزید برآں چقندر کے جوس کا ایک کپ پینے سے بلڈ پریشر کو 10ملی لیٹر تک کم کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض افراد میں یہ جوس کا کپ بلڈپریشر کو نارمل سطح پر بھی لے آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چقندر میں موجود نائٹریٹ خون کی نالیوں کو کھلا کرتا ہے اور بہاﺅ کو بڑھاتا ہے جبکہ انجائنا میں مبتلا بہت سے مریضوں کو نائٹریٹ والی ادویات کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔

Advertisements