دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے


دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے واضح عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے‘ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے قومی سیاسی قیادت کا جذبہ اور غیر متزلزل عزم قابل تحسین ہے‘ قوم کے اعتماد کیساتھ ہم سیاسی اتفاق رائے کو عملی اقدام میں بدل دیں گے‘ آرمی چیف نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ حکام کو خصوصی اقدامات کی بھی ہدایت کی۔

جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی کی صورتحال سمیت نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کی تمام سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اس دوران آرمی چیف نے تمام متعلقہ حکام کو نیشنل ایکشن پلان پر تیز اور موثر عملدرآمد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔ آرمی چیف نے دہشت گردی اور انتہاءپسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے واضح اور دو ٹوک عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے اجلاس کے دوران اصلاحات اور انتظامی اقدامات کے تحت ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے کے جذبے اور غیر متزلزل عزم پر قومی سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور قومی قیادت کے اس جذبے کو سراہا۔ آرمی چیف نے اس امید کا اظہار کیا کہ قوم کے اعتماد پر پورا اتریں گے اور اس بھروسے کوبرقراررکھتے ہوئے قومی اتفاق رائے کو میدان میں عملی اقدام میں بدل دینگے ۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی کی صورتحال پر غور کیا گیا ۔
اس سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے 20 نکاتی قومی ایجنڈے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کی سرزمین کو مزید کسی صورت دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے نیکٹا کو فعال اور فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی، متشدد لٹریچراور دہشتگردوں کے حمایتیوں پر پابندی عائد کی جائےگی، ملک میں قرقہ واریت اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے گا، انٹرنیٹ پر دہشتگردی کے فروغ کی روک تھام کرنے کے علاوہ کالعدم تنظیموں کا نام تبدیل کر کے کام کرنا بھی ناممکن بنایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق قوم سے خصوصی خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ پر عزم ہے اور اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں کا کردار بھی قابل تحسین ہے، ان حالات میں قومی سیاسی اور عسکری قیادت قوم کو مایوس نہیں کرے گی اور یہ جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل کورٹ سمیت پارلیمانی کمیٹی کے پیش کردہ تمام نکات پر اتفاق رائے پیدا کر لیا گیا ہے، جن پر عملدر آمد بھی فوری طور پر ہی شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے فوری بعد دہشتگردوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس فیصلے پر عمل درآمد بھی شروع کیا جا چکا ہے، اس کے بعد جائزہ لیا گیا کہ ماضی میں دہشتگرد قانون میں موجود خامیوں کی وجہ سے بچتے رہے، اس لئے فوجی افسران کے زیر سایہ عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ عدالتیں دو سال کیلئے قائم کی جائیں گی جو فوری سماعت اور فوری انصاف دیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں کسی طرح کی عسکری تنظیموں اور مسلح جتھوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس ضمن میں انسدا دہشتگردی کے ادارے نیکٹاکو فعال بنایا جائے گا، اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرتیں بانٹنے، عدم برداشت کی تعلیم دینے والے لٹریچر اور اخبارات پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے دہشتگردوں کی مالی معاونت کے تمام ذرائع بھی ختم کر دیئے جائیں گے اور کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرے نام سے بھی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ملک میں مذہبی رواداری، مسلکی مسائل کے خاتمے اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور سدت پسندی کی ہوا کو کم کرنے کیلئے مدرسوں میں اصلاحات بھی لائی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف میڈیا پر متشدد ذہن والے افراد کو اپنی سوچ کا پرچار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
ملک میں مکمل قیام امن کیلئے بے گھر ہونے والے افراد کی فوری واپسی کو پہلی ترجیح رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعمیر نو کا فوری آغاز کیا جائے گا اور قبائیلی علاقوں سمیت پورے ملک سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہکر دیا جائے گا۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ پر دہشتگردی کے فروغ کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے اور پنجاب اورملک کے باقی حصوں میں موجود مخصوص علاقوں میں بھرپور کاروائیاں کی جائیں گی۔
پورے ملک میں امن کا خواب پورا کرنے کیلئے کراچی آپریشن کو جاری رکھا جائے گا اور اس کو ایک منطقی انجام تک پہنایا جائے گا، اس کے علاوہ حکومت بلوچستان مکمل فری ہینڈ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے صوبے میں قیام امن کیلئے ہر ممکن اقدا م اٹھائے۔ ملک سے فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے علماءکو بھی خصوصی خدمات سر انجام دینا ہوں گی اور افغان مہاجرین کی باقاعدہ رجسٹریشن سے متعلق بھی پالیسی وضع کی جائے گی۔
صوبائی انٹیلی جنس اداروں کو انسداد ہشتگردی کیلئے اعلیٰ سطحی اختیارات دئیے جائیں گے اور اس بات کو ممکن بنایا جائے گا کہ انہیں عسکری اور سول اداروں سے تمام سہولیات حاصل ہو سکیں، اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کا خاتمہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسے وقت میں قوم سے مخاطب ہوں جب پوری قوم کے دل خون کے آنسو رہے ہیں اور ساری قوم کی آنکھیں اشکار ہیں، میں ایک باپ ہونے کے ناتے ہر اس باپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں جس نے اپنے بچے کی لاش کوکندھا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان والدین کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ تنہاءنہیں ہیں، پوری دنیا ان کے دکھ میں شامل ہے، ہماری حکومت بھی آپ کے ساتھ ہے، ہم نے اقتدار سنبھالتے ہی اس قومی مسئلے پر پیشرفت کا آغاز کیا، قومی قیادت کے فیصلے مذاکرات شروع ہوئے مگر ان کے ناکام ہوتے ہی دہشتگردوں پر کاری ضرب لگانے کیلئے ضرب عضب کا آغاز کیا جو آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد کا پاکستان بدل چکا ہے جس میں دہشتگردی اور انتہاءپسندی کی کوئی جگہ نہیں، دشمنوں نے ہمارے بچوں پر حملہ کر کے ہمارا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش کی ہے،ایک باپ ہونے کے میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے تابوت کتنے بھاری تھے، ہم ان بچوں کے خوابوں کا حساب لیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ملک میں جاری دہشتگردی کی جنگ کو حتمی شکل دینے کیلئے ہر آئینی ترمیم بھی عمل میں لائی جائے گی اور قائد اعظم کے پاکستان کو اسی طرح بنائیں گے جس طرح اقبال نے خواب دیکھا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کا کریڈٹ پوری سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کو جاتا ہے، خصوصاً پاک فوج کے چیف راحیل شریف نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے توقع ظاہر کی کہ مزید کسی صورت پاکستانی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں گی اور نہ ہی کسی اور ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے دی جائے گی۔ انہوں نے شدت پسندوں کو مخاطب کر کے کہا کہ میں دہشتگردوں کو پاکستانی قوم کا فیصلہ سنا رہا ہوں، ہم نہ صرف انہتاءپسندوں بلکہ ان کے چاہنے والوں اور حمایتیوں پر بھی اس ملک کی زمین کو تنگ کر دیں گے کیونکہ پشاور میں ہمارے بچوں کے پاکیزہ لہو نے ایک لکیر کھینچ دی ہے جس کی ایک طرف پاکستانی قوم ہے اور دوسری طرف دہشتگردوں کی سوچ ہے، ہم اس نظریے کو ہی ختم کر دیں گے۔
وزیر اعظم نے قوم کو آگاہ کیا کہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئےملک کی تمام تر سیاسی قیادت کا اجلاس طلب کیا گیا تھا اور دہشتگرد عناصر پر کاری ضرب لگانے کیلئے ایک مشترکہ پلان تشکیل دینے کیلئے ساری قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور ابھی دس گھنٹے تک مسلسل اجلاس کرنے کے بعد ہم نے ایکشن پلان منظور کر لیا ہے۔ انہوں نے ایکشن پلان کے تمام بیس نکات بھی قوم کے سامنے پڑھ کر سنائے۔
وزیراعظم نے دوران خطاب سانحہ پشاور میں شہد ہونے والے دو بچوں کا نام لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں آرمی پبلک سکول میں داخلہ ٹیسٹ دینے آنے والی چھ سالہ خولہ بھی حاثے کا شکار ہو گئی اور حذیفہ کو بھی شدت پسندوں نے نہیں بخشا، میں جانتا ہوں کہ ماں باپ اپنے بچوں کی زندگی کیلئے ہر وقت دعا گو رہتے ہیں اس لئے ان تمام دعاؤں کا قرض چکایا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل کا پاکستان آج کے پاکستان سے مختلف اور بہتر ہو گا۔
نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات بلاشبہ معقول ہیں ، جن پر اگر سختی ،چابکدستی، خلوص نیت اور سختی سے عملدرآمد کیا جائے، جس کا اب اظہار کیا گیا ہے، توپاکستان دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرلے گا۔ بلاشبہ وزیر اعظم نواز شریف اس بات پر پوری طرح قائل ہیں کہ دہشتگردی کی لعنت سے ملک کو نجات دلانےکا وقت آگیا ہے اور اس ضمن میں کوئی تاخیر نہیں کی جاسکتی اور فیصلہ نہ کرپانے یا کارروائی نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کیانی دہشت گردوں کے خلاف جامع کارروائی کے خواہاں ہیں. ۔ یہ وقت فیصلہ کن کارروائی کا ہے ۔ سول و عسکری قیادت دہشت گردوں کو آہنی پنجے سے گرفت میں لینے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کو تمام پارلیمانی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے، اس اتحاد کا سہرا تمام سیاسی قیادت کو جاتا ہے۔
ملک تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے اور پاکستان جس بری طرح دہشت گردی کی دلدل میں دھسنتا رہا ہے اس کا خمیازہ ملک کے تمام طبقوں اور عوام کو بھگتنا پڑا رہا ہے.دہشت گردی کی وجہ سے سماجی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی حالات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔دہشت گردوں نے نہ صرف پاکستان کو جہنم بنادیا ہے بلکہ خطے اور دنیا کے امن کیلئے بھی خطرات پیدا کردیئے ہیں. دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں ۔دہشت گرد گمراہ افراد ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کررہے ہیں، وہ اسلام کو بدنام کررہے ہیں، مسلمانوں کو مصیبت میں ڈال رہے ہیں، لوگوں کو اللہ اور رسولؐ کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ دوست نما دشمن بن چکے ہیں۔اسلام نے وہ جنگی اصول دیے کہ حالت جنگ میں بھی کسی بوڑھے کو قتل نہیں کیا جائے گا، کسی بچے کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، خواتین پر ہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا ، جو جنگ میں شریک نہیں ہیں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا ، دشمن کی فصلوں کو بھی تباہ نہیں کیا جائے گا، لوگوں کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں کونقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ .پاکستان سے دہشت گردی اور اس کے مائنڈ سیٹ کو ختم کرنا ضروری ہے۔
ہمیں ہر صورت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمدیقینی بنانا ہے ، تاکہ دہشت گردی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

Advertisements