لوئر اورکزئی ایجنسی میں پانچ افرادبم دھماکہ میں جاں بحق


orakzaiagencyblast_1-4-2015_170759_l

لوئر اورکزئی ایجنسی میں پانچ افرادبم دھماکہ میں جاں بحق
لوئر اورکزئی ایجنسی کے حسینی گراوٴنڈ میں والی بال میچ کے دوران دھماکے سے 5 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ ذرائع کے مطابق لوئر اورکزئی ایجنسی کے علاقہ کڈے بازار میں واقع حسینی گراوٴنڈ میں ریموٹ کنٹرول دھماکا ہوا جس سے پانچ افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو کلایا ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ تین زخمیوں کو تشوشیناک حالت میں کوہاٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے وقت گراوٴنڈ میں والی بال میچ جاری تھا کہ دھماکا ہوگیا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کھڈا بازار مصروف اور گنجان آباد علاقہ ہے جہاں شام کے وقت زیادہ گہما گہمی رہتی ہے ۔ کھیل کے میدان میں جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت مقامی نوجوان والی بال کا میچ کھیل رہے تھے۔

resize.php

انتظامیہ نے بتایا کہ جس وقت دھماکا ہوا میدان میں مانی خیل اور فرنگی کلی کے درمیان والی بال میچ جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ لگتا ہے جس کے ممکنہ مقاصد فرقہ واریت نظر آتی ہے۔سیاسی تحصیل دار خیاستہ اکبر نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دھماکا پہلے سے نصب شدہ ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا لیکن ہم تحقیقات کر رہے ہیں۔
اورکزئی فاٹا کے علاقے میں پاکستان کی نیم خودمختار قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے جسے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
کلایہ کا یہ علاقہ حسینی گڑھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہاں یشتر افراد کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔ اس علاقے میں اس سے پہلے بھی متعدد دھماکے ہو چکے ہیں۔

54a940cd1547d
یاد رہے یکم جنوری سال 2010 میں خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت میں شاہ حسن خیل میں بھی والی بال میچ کے دوران خود کش دھماکہ کیا گیا تھا جس میں اس وقت 105 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

news-1420375293-3369
شاہ حسن خیل کا حملہ اس وقت خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا دھماکہ تھا۔ اس سے پہلے پشاور میں اکتوبر سال 2009 میں شاہین بازار میں دھماکے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اورکزئی ایجنسی میں عید میلاد النبی ﷺ کے روز بم دھماکے میں 5افراد جاں بحق اور 8زخمی ہوگئے۔بم فٹ بال گراﺅنڈ میں نصب کیا گیا تھا۔مقامی افراد نے زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔جب بم دھماکہ ہوا اس وقت فٹ بال کا میچ جاری تھا۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے زیریں اورکزئی میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ ایسے واقعات کے اعادے کی روک تھام کیلئے انسداد دہشتگردی ہیلپ لائن 1717کوعوام میں مشتہر کرنے کویقینی بنائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے لوئراورکزئی کے بم دھماکے کی شدیدمذمت کی ہے اوردہشت گردی کے اس واقعہ میں کئی بچوں کے جاں بحق اورزخمی ہونے پر شدیدافسوس کااظہارکیاہے ۔ اپنے ایک بیان میںالطاف حسین نے کہاکہ درندہ صفت طالبان دہشت گرد کھلی سفاکیت کامظاہرہ کرتے ہوئے اب قوم کے معصوم بچوں کومسلسل نشانہ بنارہے ہیں۔پشاورکے آرمی پبلک اسکول میں معصوم طلبہ اوراساتذہ کے بہیمانہ قتل عام کے بعداب اورکزئی میں والی بال کھیلنے والے بچوں کو بم دھماکے سے نشانہ بناکردہشت گردوں نے اپنی درندگی اورسفاکی کاایک اورمظاہرہ کیاہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اورکزئی میں ہونے والے دہشت گردی کے اس سفاکانہ واقعہ میں ملوث عناصرکسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے دھماکے میں شہیدہونے والے بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہید بچوں کوا پنی جواررحمت میں جگہ دے اورلواحقین کوصبرجمیل عطاکرے۔انہوںنے زخمی بچوں کی جلدصحتیابی کی دعاکی۔

141101102402_orakzai_pakistan_640x360_getty_nocredit
ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں دہشت گردوں کا پاکستانی بچوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے .پاکستانی عوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے. دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، اس بم دھماکے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کہاں کی بہادری ہے؟
طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی ،درندے ، انتہا پسند،تشدد پسند ، دہشت گرد اور تنگ نظر ، نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے اغوا اور خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ بقول طالبان کے وہ پاکستان میں نام نہاد اسلامی مملکت کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کر رے ہیں۔ اسلامی مملکت کے خلاف مسلح جدوجہد اسلامی شریعت کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔طالبان معصوم مسلمانوں اور پاکستانیوں کا دائیں و بائیں ، بے دریغ قتل عام ،خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعہ کر رہے ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘( المائدة، ۳۲-۵)
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ طالبان اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔
اسلام نے بچوں کو بھی وہی مقام دیا ہے جو بنی نوع انسانیت کے دیگر طبقات کو حاصل ہے۔ رسول اکرم سلم نے بچوں کے ساتھ جو شفقت اور محبت پر مبنی سلوک اختیار فرمایا وہ معاشرے میں بچوں کے مقام و مرتبہ کا عکاس بھی ہے اور ہمارے لیے آئندہ کے لئے راہِ عمل اور سرمایہ افتخار بھی۔ اسلام میں بچوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کا آغاز ان کی پیدائش سے بھی پہلے کیا ہے۔ ان حقوق میں زندگی، وراثت، وصیت، وقف اور نفقہ کے حقوق شامل ہیں۔ دنیا کے کسی نظامِ قانون میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
سرزمین عرب پر بچوں کے قتل و خون کی جو ظالمانہ رسم رائج تھی’ اسے آپۖ نے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ رسول اکرم سلم نے اپنی شفقت’ محبت اور انسیت جو آپۖ کو بچوں سے تھی اس کا اظہار کچھ اس طرح فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔”
رسول مقبول نے بچوں کو ”ہمارا” کہہ کر جس محبت’ شفقت اور انسیت کا اعلان کیا وہ معصوم بچوں کے مقام و مرتبہ اور ہمیت و افادیت کے تعین کے لیے مشعل راہ ہے۔ حضورۖ کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔ بچے جہاں بھی ملتے آپۖ انہیں محبت سے گود میں اٹھا لیتے’ چومتے’ پیار کرتے اور ان سے کھیلتے۔ نیا پھل جب آپۖ کے پاس آتا تو سب سے کم عمر بچے کو جو اس وقت موجود ہوتا عطا فرماتے۔ راستے میں جو بچے مل جاتے تو خود ان کو سلام کرتے اور ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے۔
رسول اکرم سلم بچوں کے لئے دعا کیا کرتے تھے کہ االلہ میں ان سے محبت کرتا ہوںتو بھی ان سے محبت کر(بخاری)
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم سے بڑھ کر بچوں کےساتھ شفقت کرنے والا کوئی اور نہیں دیکھا۔
اِسلام سے پہلے لوگ اپنی اولاد کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔ اِسلام نے اِس قبیح رسم کا خاتمہ کرنے کی بنیاد ڈالی اور ایسا کرنے والوں کو عبرت ناک انجام کی وعید سنائی :

. قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَO
’’واقعی ایسے لوگ برباد ہو گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علم (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بے شک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکےo‘‘
الانعام، 6 : 140
بھوک اور اَفلاس کے خدشہ سے اولاد کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے قرآن حکیم فرماتا ہے :
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ.
’’اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو، ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)۔‘‘
القرآن، الانعام، 6 : 151
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيرًاO
’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہےo‘‘
بني اسرائيل، 17 : 31
اِسلام سے قبل بیٹیوں کی پیدائش نہایت برا اور قابل توہین سمجھا جاتا تھا اور انہیں زندہ درگور دفن کر دیا جاتا تھا۔ اِسلام نے اس خیالِ باطل کا ردّ کیا اور بیٹیوں کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا۔ قرآن حکیم ایک مقام پر روزِ محشر کی سختیاں اور مصائب کے بیان کے باب میں فرماتا ہے :
وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْO بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْO
’’اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گاo کہ وہ کس گناہ کے باعث قتل کی گئی تھیo‘‘
التکوير، 81 : 8،
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بچوں کو قتل نہ کرو، ولید لغت میں مولود کے معنی میں ہے۔ یوں تو ہر انسان مولود ہے مگر عادتاً اس لفظ کا استعمال چھوٹے بچوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں کا قتل جائز نہیں (خاص طور پر) جبکہ وہ قتال میں شریک ہی نہ ہوں۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔

کیا یہ ہے، طالبان دہشت گرد وں کا اسلامی نظام ؟

کیوں طالبان پاکستان کی نئی نسل کے درپے ہیں؟

اسلام جبر کا نہیں امن محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اور دہشت گردی مسلمانوں کا کبھی بھی شیوہ نہیں رہا۔ جو لوگ حالیہ دور میں اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر دہشت گردی کر رہے ہیں وہ تو بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے ہیں اور اسلام دشمن ہیں ،ہمیں ان کی چالوں میں ہرگز نہ آنا چاہیے۔
”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔”

Advertisements