جماعت الاحرار نے امام بارگاہ پر حملےکی ذمہ داری قبول کر لی


news-1410174456-6854_large

جماعت الاحرار نے امام بارگاہ پر حملےکی ذمہ داری قبول کر لی

راولپنڈی کے علاقے چٹیاں ہٹیاں میں امام بارگاہ کے باہر خود کش دھماکے میں 8افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔امام بارگاہ میںمیلاد اور نعت خوانی کی محفل جاری تھی۔ خودکش بمبار اندر داخل ہونا چاہتا تھا روکنے پر خود کو اڑا لیاڈسٹرکٹ ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں چھ لاشیں اور 12زخمی لائے گئے ۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے عمارت کا سامنے کا حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔ دھماکے سے اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ادہر تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے جماعت الاحرار دھڑے نے جمعہ کو راولپنڈی میں امام بارگاہ پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ٹی ٹی پی جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ای میل میں کہا کہ ہم امام بارگاہ پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہیں اور اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے۔

tali
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی امام بارگاہ ابو محمد رضوی میں خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ لیاقت باغ میں ادا کر دی گئی ہے۔

index

317108-image-1420833791-800-640x480
شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت مسلمین، تحفظ عزاداری کونسل، صدر مملکت، وزیراعظم ، علامہ ساجد نقوی سمیت دیگرسیاسی و مذہبی جماعتوں کی دہشت گردی کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت ، سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف حسین واحدی نے سانحہ کے غم میں 3روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب راولپنڈی میں راجا بازار لال حویلی کے قریب چٹیاں ہٹیاں امام بارگاہ عون محمد رضوی میں اس وقت ایک خود کش حملہ آور نے خود کو بم دھماکے سے اڑادیا جب 17ربیع الاول کی مناسبت سے محفل میلاد النبی ؐ جاری تھی اور جشن عیدمیلاد النبی ؐ کے حوالے سے ذاکرین ذکر محمد ؐ و آل محمد ؐ کررہے تھے۔ لال حویلی کے کے قریب چٹیاں ہٹیاں میں امام بارگاہ عون محمد رضوی میں محفل میلاد کا سلسلہ 17ربیع الاول کی مناسبت سے جاری تھا اس دوران ایک حملہ آور نے امام بارگاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے سیکورٹی پر مامور افراد نے روکنے کی کوشش کی تو اس نے گیٹ پر ہی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا جس کے باعث گیٹ اور اس کے قریب موجود 8افراد جاں بحق ہوگئے ۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل نہیں ہوسکا اور اس نے باہر ہی دھماکہ کردیا حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ۔ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی جب کہ ریسکیو ٹیموں نے دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا۔

317026-khi-1420828333-369-640x480

317108-image-1420833746-811-640x480
صدر مملکت ممنون حسین نے دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیاہے ۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھی دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پولیس کو ہائی الرٹ کردیاہے انہوں نے اس سلسلے میں ڈی پی او راولپنڈی فی الفور رواقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے جبکہ زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔علاوہ ازیں چاروں صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء، سابق صدر آصف علی زرداری، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندر یار ولی خان، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانافضل الرحمن،اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانااحمدلدھیانوی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

images

150109185556_pakistani_police_officer__624x351_ap
پاکستان آرمی سکول پشاور میں دہشت گردی کے صدمے سے باہر نہیں نکلا تھا کہ راولپنڈی میں خودکش حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا ہوا ہے اور وہ وارداتیں کرتا رہے گا. لاتوں کے یہ بھوت باتوں سے سے نہ مانییں گے،جب تک ان سے آہنی ہاتھوں سے نہ نبٹا جائے۔

news-1420826230-7529
ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار
دیتے ہیں۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی
دین اسلام کی اصل روح ہے۔
طالبان اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی اسلام سلامتی کادین ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے برصغیر کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے والے بزرگان دین نے اپنے قول و فعل کے ساتھ بھائی چارے کو فروغ دیا۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں دہشت گردی نے لوگوں کا سکون تباہ کردیا ہے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اہل وطن پیار ومحبت کے پرچار کے ساتھ اخوت اور رواداری کو فروغ دیں. انسداد دہشتگردی کے لئے ہمیں وسیع پیمانے پر عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔

Advertisements