دہشت گردی کو جڑ سے ختم کریں گے


دہشت گردی کو جڑ سے ختم کریں گے
وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قوم، سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے اور اب دہشتگردوں کو چھپنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف خاطر خواہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور پوری قوم کی مدد سے پاکستان سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کریں گے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ وقت کا تقاضا ہے اور پوری قوم دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کو خون میں نہلانے والوں کا یوم حساب آن پہنچا ہے، دہشت گردی کو کچل کر ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائیں گے۔پاکستانیوں کا خون بہانے والے وحشی درندوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی جارہی ہے ۔پاکستان کی بقاء، استحکام،ترقی و خوشحالی اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ہمیں یہ جنگ ہر قیمت پر جیتنا ہے اور پاک سرزمین کو امن اور انسانیت کے دشمنوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے متحد اور پرعزم ہے۔دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں اور اساتذہ کا خون بہا کر قوم کو غم اورزخم دیئے ہیں ۔دہشت گردوں کو بہائے گئے ہر خون کے قطرے کا حساب دینا ہوگا۔دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کا وقت آگیا ہے ۔
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کی آگ نے قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔ترقی کے سفر میں بھی دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے ۔ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کرکے بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ایک خوشحال، پرامن اورفلاحی ریاست بنایا جائے گا۔ پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے ہر فرد کو اپنا کردارادا کرنا ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد سے ملک سے ہمیشہ کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔قومی قیادت کا عزم اوراتحاد دہشت گردوں کیلئے عبرتناک انجام کا پیغام ہے ۔ ملک سے دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اجتماعی اقدامات کیے جارہے ہیں اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جنگ میں جیت انشاء اللہ 18کروڑ عوام کی ہی ہوگی۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ پوری قوم کامتفقہ فیصلہ ہے اوراس مقصد کیلئے سنجیدہ کاوشیں بار آور ثابت ہونگی اورپاکستان ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنے گا۔آگ اورخون کی ہولی کھیلنے والوں کایوم حساب آگیا ہے۔ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنا ہر پاکستانی کی آواز ہے ۔دہشت گردوں نے ہمارے بزرگوں ،نوجوانوں،خواتین، بچوں، پاک فوج کے افسران و جوانوں،پولیس کے افسران و اہلکاروں اورعام پاکستانیوں کا بے دردی سے خون بہایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے،پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔پاک افواج جرأت اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔پوری قوم دہشت گردی کے عفریت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی حامی ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام مذاہب بچوں سے شفقت کا درس دیتے ہیں لیکن انسانوں کے روپ میں درندوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو مسل دیا۔یہ درندے کسی رعایت اورنرمی کے مستحق نہیں ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے ، عالمی برادری پاکستان کا ساتھ دے،پوری قوم دہشتگردوں کیخلاف متحد ہے، دنیا میں دہشت گردی کا واقعہ کب اور کہاں ہو گا ،اس کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی، کوئی اچھا برا نہیں،تمام طالبان دہشتگرد ہیں،سانحہ پشاور کےبعد اسکولوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ فوجی عدالتیں عارضی بندوبست ہیں ۔امریکی ٹی وی کوانٹرویو دیتے ہوئے میجرجنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے ۔ ایجنسی کا بیشتر حصہ کلیئر کرالیا گیا ۔ افغان سرحد کے قریب چھوٹا سا علاقہ ہے، جہاں مزاحمت کاسامنا ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، کوئی اچھا برا نہیں، تمام طالبان دہشتگرد ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی قوم متحد ہے، عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کاساتھ دے۔ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ پاک افغان تعلقات پہلے ہی بہتر تھے،سانحہ پشاور کے بعد مزید بہترہوگئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ دنیا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمارا ساتھ دے۔ دنیا میں دہشت گردی کا واقعہ کب اور کہاں ہو گا ،اس کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ۔ تاہم موجودہ حالات میں دنیا بھر میں سکیورٹی کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔
دہشت گردی صرف پاکستان ہی کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی ریاست دہشتگردوں کے سامنے کبھی سرینڈر نہیں کرے گی.آپریشن ضرب عضب جاری ہے، دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے  فوج گلی گلی جائے گی اور انہیں پورے ملک میں نشانہ بنایا جا ئے گا کیونکہ طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ طالبان کی دہشتگردی کی وجہ سے ملکی اقتصادیات کو اب تک ۱۰۰ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

       طالبان کا یہ کیسا نام نہاد جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔طالبان انسان کہلانے کے بھی مستحق نہ ہیں۔ انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں۔
بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔طالبان پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کی بالادستی کو رد کرتے ہوتے اپنی مذہبی سوچ کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں.
اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . بم دھماکے کھلی بربریت ہیں اور دہشت گرد عناصر شہر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔
انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے.اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلامی تعلیم ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کی جائے اور کسی کو قتل نہ کیا جائے۔ ارشاد باری ہے ‘‘ انسانی جان کو ہلاک نہ کرو، جسے خدا نے حرام قرار دیا ہے’’۔ (بنی اسرائیل :33)علمانے اس متعلق وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ‘‘ہر امن پسند غیر مسلم کے خون کی قیمت مسلمانوں کے خون کے برابر ہے،اس لیے اگر کوئی مسلمان کسی پرُ امن غیر مسلم کو قتل کردیتا ہے تو اس کا قصاص اسی طرح لیا جائے گا، جس طرح ایک مسلمان کے قتل کا لیا جاتا ہے’’گویا کہ جان کے تحفظ کے معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان دونوں برابر ہیں ، جس طرح ایک مسلمان کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح ایک غیر مسلم کی جان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ کسی انسان کی جان لینا اسلام کے نزدیک کتنا قابل گرفت عمل ہے، اس کا اندازہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی اس حدیث سے ہوتا ہے ، آپ نے فرمایا ‘‘ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا، وہ نماز ہے جس کے بارے میں باز پرس کی جائے گی او رحقوق العباد میں سب سے پہلے قتل کے دعووں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ کسی انسانی جان کی ہلاکت کو عظیم گناہ کے ساتھ ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا کہ ‘‘ بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا ، پھر کسی انسان کو ہلاک کرنا ہے، پھر ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے ، پھر جھوٹ بولنا ہے’’۔ اس حدیث میں قتل کے گناہ کو شرک کے بعد بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ عظیم گناہ ہیں، ان میں کسی انسانی جان کو ہلاک کرنا سر فہرست ہے. انسانیت کے دشمن اپنے ہی مسلمان بھائیوں کونماز پڑھتے وقت بھی خود کش دھماکے کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں قتل کرر ہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ جو لوگ انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور بے گنا ہ انسانوں کا خون بہا رہے ہیں وہ مسلمان تو کجا، انسان کہلا نے کے مستحق نہیں ہیں۔ قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ روح اسلام کے خلاف گناہ عظیم ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا
یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ آج دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کردیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔
جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔المائدۃ۔۳۲)

Advertisements