جماعت الدعوة اور حقانی نیٹ ورک پر بابندی عائد


359020-HafizSaeedphotofile-1333402034-439-640x480

جماعت الدعوة اور حقانی نیٹ ورک پر بابندی عائد
حکومتِ پاکستان نے جماعت الدعوة اور حقانی نیٹ ورک سمیت تمام کالعدم تنظیم کے اثاثے منجمد کر دیئے ہیں اور جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کے بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ اقوام متحدہ نے جن جماعتوں پر پابندی عائد کی ہے ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جبکہ جماعت الدعوة اور حافظ سعید پر عائد پابندیاں بھی نیشنل ایکشن پلان اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہیں۔

141016092436_anas_haqqani_son_of_jalaluddin_haqqani_haqqani_2nd_man_640x360_nds

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک پر بھی پابندی عائد کردی ہے تاہم اس کے پاکستان میں کوئی بینک اکاﺅنٹس موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پابندی اور اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کسی دباﺅ کے تحت نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کئے گئے ہیں ۔

index
واضح رہے کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی ہیں اور اس تنظیم کو افغانستان میں موجود امریکی فوج پر متعدد حملوں کے بعد 2012 ءمیں امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے جلال الدین حقانی کے بنائے گئےعسکری گروپ حقانی نیٹ ورک کوافغانستان میں امریکی فوجوں پر متعدد حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ نے 2012 میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ ادھرامریکا اور ہندوستان کی جانب سے ہمیشہ سے حافظ سعید کی تنظیم جماعۃ الدعوۃ (جو کہ کالعدم لشکرطیبہ کی ایک ذیلی شاخ تصور کی جاتی ہے) کو 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ٹہرایا جاتا رہا ہے۔ لشکر طیبہ پاکستان کا سب سے ہولناک دہشت گرد گروہ ہے جو جنوبی ایشیاءمیں اوراس خطے سے باہر کارروائیاں کررہا ہے۔ لشکر طیبہ کے پرانے دفاترپر جماعت الدعوة کا بورڈ آویزاں کردیا گیا تھا۔ تنظیم کا عسکریت پسند حصہ جماعت الدعوة کے دفاتر کو استعمال کرتا ہے اور اس کے فون نمبر، افرادی قوت اور بنک اکاﺅنٹ بھی اس کے زیراستعمال ہیں۔ یوں لشکرِ طیبہ دراصل جماعت الدعوة ہی ہے۔لشکر طیبہ کا200 ایکڑ پر مشتمل ہیڈ کوارٹر پنجاب کے قصبے مریدکے میں قائم ہے جو لاہور سے تقریباً30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تاہم اس تنظیم کے دفاتر ملک کے تمام شہروں میں قائم ہیں۔ یہ دفاتر نوجوانوںکو بھرتی کرنے کے علاوہ چندہ بھی اکٹھا کرتے ہیں۔ ان دفاتر کے علاوہ جماعت الدعوة اور لشکر طیبہ کے ملک بھر میں خفیہ تربیتی مراکز بھی قائم ہیں۔ حافظ سعید اس تنظیم کے امیر ہیں۔ لشکر طیبہ کے کمانڈرز کا مقصد صرف خود کش حملے کرنا نہیں ہوتا،بلکہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ دشمن کے زیادہ سے زیادہ آدمی ہلاک کیے جائیں۔ جماعت الدعوة نے پورے ملک میں سکول اور کلینک قائم کر رکھے ہیںاور وہ دوسرے سماجی کام بھی کرتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی افراد لشکر طیبہ کو مالی مدد اور افرادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے مطابق جماعت الدعوۃ ان حملوں کی ذمہ دار تھی جس میں 174 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

images

Nasiruddin-Haqqani-Jalaluddin-Haqqani-400x208
اقوامِ متحدہ نے ساتھ ہی اپنی قرارداد میں کہا تھا کہ الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ جماعت الدعوۃ کو تعاون فراہم کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے حافظ سعید، ذکی الرحمان لکھوی، حاجی محمد اشرف اور محمود محمد احمد کو جماعت الدعوۃ کے سینیئر رہنما قرار دیا ہے۔ جماعت الدعوۃ نے 2002 میں اپنا نام لشکرِ طیبہ سے تبدیل کر لیا تھا، جب پاکستان میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
امریکہ نے گذشتہ برس ہی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ سربراہ حافظ سعید کے بارے میں معلومات کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام کی پیش کش کی گئی تھی۔

حکومتِ پاکستان نے جن کالعدم تنظیموں پر پابندی عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کئے ہیں ان میں حرکت الجہاد اسلامی، حرکت المجاہدین، فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن، امہ تعمیر نو، حاجی خیر اللہ حاجی ستار منی ایکسچینج، راحت لمیٹڈ، روشن منی ایکسچینج، الاختر ٹرسٹ، الراشد ٹرسٹ، حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوة شامل ہیں۔

اسلام آباد میں ایک سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اب عسکریت پسندوں کے خطرات کو زیادہ تسلیم کرتا ہے جو ملک کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماضی میں یہ گروپ پابندی لگنے کے بعد نئے ناموں کے ساتھ ابھر کر سامنے آئیں۔ تاہم ایک سینئر پاکستانی انٹیلی جنس عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ پابندیاں برقرار رہیں گی اب واپس جانے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ پاکستان کے لئے خطرے کا فیصلہ کن حل کرنا ہے۔
شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ اور حقانی نیٹ ورک و القائدہ کا مسکن ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کا ایک جال بچھا ہوا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا بانی ،جلال الدین حقانی خوست،افغانستان کا رہنے والا ہے اور سلطان خیل میزائی ،زدران قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ افغانستان سے طالبان کی حکومت کے خاتمہ پر ہجرت کر کے شمالی وزیرستان میں آ گیا اور میران شاہ میں آباد ہو گیا جہاں جلال الدین حقانی نے مدرسہ منباء العلوم قائم کیا۔ افغانستان کے صوبہ خوست میں رہنے والے زدران قبائل حقانی نیٹ ورک کے حمایتی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک القاعدہ تنظیم کا بھی حصہ ہے اور اپنے طور پر مسلح جدوجہد جاری رکھنے والی ایک خودمختار تنظیم بھی ہے۔ امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل ‘ کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے پانچ ہزار جنگجو ورلڈ کلاس تربیت یافتہ ہیں اور وہ ہرطرح کی کارروائی کرنا جانتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں پر افغان دارالحکومت کابل اور تین دوسرے صوبوں میں اہم عمارتوں اور غیرملکی سفارت خانوں پر بڑے حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے”خوست کا پیالہ” کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔۔حقانی نیٹ ورک کا طالبان سے الحاق ہے۔ القائدہ سے تعلق رکھنے والا یہ گروپ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب پھیلا ہوا ہے۔ سراج الدین حقانی، جو خلیفہ بھی کہلاتا ہے، حقانی نیٹ ورک کا سربراہ ہے۔ حقانی پاکستان میں مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ میں قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہیں اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں، اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو عسکری تربیت و پناہ مہیا کر رہے ہیں۔ القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو عسکری تربیت و پناہ مہیا کر رہے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیرستان میں دہشت گردی کے ۹ تربیتی کیمپ ہیں جہان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اور ایک رپورٹ کے مطابق میر علی ،وزیرستان کے ایک کیمپ میں سنگین خان نامی کمانڈر کی زیر نگرانی، ۳۵۰ بچے ،خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
دہشت گرد بچھوؤں اور سانپوں کی مانند  ہوتےہیں جن کا کام ہی ڈنگ مارنا ہے، چاہے انہیں کوئی جان بچانے کیلئے پکڑے یا کسی اور مقصد سے، یہ ڈنگ ہی مارتے ہیں۔ ان بچھووں اور سانپوں سے اچھائی کی توقع کرنا عبث ہے۔
ضرب عضب کےذ ریعہ دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے کوئی دہشتگرد اچھا یا برا نہیں ہوتا ،تمام دہشتگرد برے ہوتے ہیں۔ دہشت گردی صرف پاکستان ہی کا نہیں، بلکہ عالم اسلام اور پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی ریاست دہشتگردوں کے سامنے کبھی سرینڈر نہیں کرے گی۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیےپاک فوج گلی گلی جائے گی اور تمام دہشتگردوں کو بلا امتیاز پورے ملک میں نشانہ بنایا جا ئے گا کیونکہ دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔
بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ دہشتگرد پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کی بالادستی کو رد کرتے ہوتے اپنی مذہبی سوچ کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔.
اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . بم دھماکے کھلی بربریت ہیں اور دہشت گرد عناصر شہر وں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے۔
انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے.اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔
دہشت گردی کو کچل کر ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا جائے گا ۔پاکستانیوں اور مسلمانوں کا خون ناحق بہانے والے وحشی درندوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی جارہی ہے ۔پاکستان کی بقاء، استحکام،ترقی و خوشحالی اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ہمیں یہ جنگ ہر قیمت پر جیتنا ہے اور پاک سرزمین کو امن اور انسانیت کے دشمنوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے متحد اور پرعزم ہے۔دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کی آگ نے قومی معیشت کو اب تک ۱۰۰ ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے ۔ترقی کے سفر میں بھی دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے ۔ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کرکے بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ایک خوشحال، پرامن اورفلاحی ریاست بنایا جائے گا۔ پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے ہر فرد کو اپنا کردارادا کرنا ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد سے ملک سے ہمیشہ کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔قومی قیادت کا عزم اوراتحاد دہشت گردوں کیلئے عبرتناک انجام کا پیغام ہے ۔
دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ فوج اور تمام قوم پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آگے بڑھ رہی ہے۔پاک افواج جرأت اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔پوری قوم دہشت گردی کے عفریت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی حامی ہے۔

Advertisements