شکار پور، امام بارگاہ میں دھماکا، 54افراد ہلاک


54cb510ba58bb

شکار پور، امام بارگاہ میں دھماکا،54افراد ہلاک
صوبہ سندھ کے شہر شکار پور کی ایک امام بارگاہ میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 54 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔نمائندہ ڈان نیوز کے مطابق شکارپور کے علاقے لکھی درکی ایک امام بارگاہ مولا کربلا میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران بم دھماکا ہوا، جس کے دوران کم از کم 54 افراد ہلاک ہوگئے۔دھماکے کے بعد مسجد کی چھت بوسیدہ ہو کر نیچے آن گری جس کے نتیجے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ایس ایس پی شکار پور ثاقب اسماعیل نے دھماکے کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔نمائندہ ڈان نیوز کے مطابق شکارپور کے علاقے لکھی درکی ایک امام بارگاہ کربلا معلیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران بم دھماکا ہوا، جس میں 54 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 46 کی شناخت ہو گئی ہے۔

shikarpurbombblast-5killed-pakistan_1-30-2015_173487_l

54cb50e71cd77
ثاقب اسماعیل کے مطابق زخمیوں کو شکارپور کے مرکزی سول ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ سکھر، جیکب آباد اور نوابشاہ کے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

54cb561b69395
ابھی تک دھماکے کی نوعیت کا علم نہیں ہوسکا تاہم ابتدائی طور پر یہ خود کش حملہ بتایا جارہا ہے۔دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔دوسری جانب بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی سکھرسے طلب کرلیا گیا ہے۔

54cb4ef1764d0
جبکہ ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ ساتھ مقامی افراد بھی اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو رکشوں، چنگچیوں اور موٹر سائیکلوں پر ہسپتال منتقل کر رہے ہیں، جس کے باعث ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار ہے۔
مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے شکار پور دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔جبکہ جماعت کے مرکزی رہنما امین شہیدی کا کہنا ہے کہ مرکزی اور سندھ حکومت دہشت گردی روکنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

news-1422611411-4280_large

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور زخمیوں کو ہر ممکن طور پر بھرپور طبی امداد دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ تاحال دھماکے کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا، لہذا فی الوقت کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔
شرجیل میمن نے سیکیورٹی کی ناکامی کو دھماکے کی وجہ تصور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور حکومت ان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

150130105046_shikarpur_640x360_bbc_nocredit
شکار پور سے رکن سندھ اسمبلی شہریار مہر نے ڈان نیوز سے گفتگو میں اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شکار پور میں دہشت گردی کا یہ پانچوں واقعہ ہے، لیکن حکومت کی جانب سے امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
وزراعظم نواز شریف، صدر مملکت ممنون حسین، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ، گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1016090/

لکھی درکے علاقے میں امام بارگاہ و مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 30افرادشہید اور 50کے قریب زخمی ہوگئے ہیں جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا شہادتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیاجارہاہے ۔ ایک نمازی نے بتایاکہ سجدہ ریز ہوتے ہی دھماکہ ہوگیا ۔

http://dailypakistan.com.pk/national/30-Jan-2015/188763

جندوللہ نے اس واقع کی ذمہ داری قبول کر لی۔

http://tribune.com.pk/story/830111/at-least-three-killed-40-injured-in-shikarpur-blast/

830111-bicyclebombblastAFPx-1422608365-402-640x480830111-shikarpur-1422620175-440-640x480

0,,16890028_303,00
اسلام امن و محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اس کا تنگ نظری انتہا پسندی اور دہشت گردی سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔ امت مسلمہ کی غالب ترین اکثریت انسانیت کے احترام اور امن و محبت کی اقدار پر عمل پیرا ہے. مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی آباد ہیں وہ اپنے کردار سے پرامن معاشرے کے قیام میں مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ مذہبی انتہاء پسندی رسول عربی کی تعلیمات کے قطعاً منافی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال و توازن کا درس دیا ہے، ’’انتہا پسندی‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات ، اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی اور پیغمبر رحمت، محسنِ انسانیت کے اسوۂ حسنہ کے بالکل منافی عمل ہے ۔ قرآن کریم نے دین ومذہب کا جو تصور عطا کیا ہے وہ اعتدال پر مبنی ہے، قرآن مجید نے انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کو مستحسن عمل اور دین کی روح قرار دیا اور امت مسلمہ کو ابلاغ اور تبلیغ دین کے حوالے سے بھی اعتدال اور غیر جانب داری کا اصول عطا کیا۔مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔
اسلام کے نام پر اگر کوئی گروپ یا تنظیم دنیا کے کسی بھی حصے میںدہشت گردی یاانتہا پسندی کی ذمہ دار ہے تو اس کا یہ فعل نہ صرف خلاف اسلام ہے بلکہ انسانیت کی تذلیل بھی ہے۔ ان جرائم کے مرتکب پیشہ ورمجرموں کو سزا ملنی چاہیے ۔
اسلام اور دہشت گردی کے تعلق کی بات کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔ اسلام کے معنی اطاعت وفرمانبرداری کے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہے۔ لغوی ، اصطلاحی اور حقیقی ، کسی بھی اعتبار سے اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہے جس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑے مقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔

یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔ جہاد کاحکم ،اسلام کی تبلیغ کے لیے نہیں دیا گیا بلکہ جہاد کی وجہ باغیوں کی جنگجویانہ کارروائیاں اور خانماں سوز سرگرمیاں ہیں۔جہاد کی غرض وغایت یہ ہے کہ فتنہ ختم کیا جائے ، امن کو قائم کیا جائے، جہاد، خواہ دفاعی ہویا اقدامی ،یہ ظلم وبربریت اورانسان دشمنی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ اگر جہاد کی وجہ اور علت کفر ہوتی تو اسلام جنگ کے موقع پرغیر مسلم عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور راہبوں کوقتل کرنے سے منع نہ کرتا۔ اگر جہاد کا مقصد غیر مسلموں کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنا ہوتا تو صدیوں حکومت کرنے والے شاہان ہند کسی غیر مسلم فرد کو سرزمین ہندوستان پر سانس لینے کاحق نہ دیتا۔
دہشت گردی کسی بھی انسانی معاشرے میں جنم لے سکتی ہے۔ اس کا کوئی دین، مذہب، ملت اور وطن نہیں ہوتا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کہیں اپنے ملک و ملت، رنگ و نسل، قوم، قبیلے اور زبان و ثقافت کی برتری کا خود ساختہ تصور انسان کو دیگر اقوام کے خلاف دہشت گردی پر اُکساتا رہا، اور کہیں اپنے عقائد و ادیان اور افکار و نظریات کو دوسروں پر بہ زور مسلط کر نے کا جنون اس کا باعث بنتا رہا۔ اسلام نے انسانوں کے باہمی حقوق و فرائض کا ایک جامع نظام اسی لیے وضع کیا ہے تاکہ انسان اپنے جذبات سے مغلوب ہوکر ان حقوق و فرائض کی بجا آوری میں کسی کوتاہی کا مرتکب نہ ہو اور بے انصافی و بے اعتدالی کی راہ پر نہ چل پڑے۔ اسلامی تعلیمات اپنے حقوق کے حصول کے لیے استحصالی قوتوں سے نبردآزما مسلمانوں کو بھی اپنی جدوجہد انسانیت کی حدود کے اندر رکھنے کا پابند بناتی ہے اور انہیں یہ اجازت ہرگز نہیں دیتی کہ وہ شرعی جدوجہد میں بھی معصوم اور نہتے لوگوں کی جانیں لیں، دہشت گردی کریں، عوام کی املاک کو نقصان پہنچائیں اور ان میں خوف و ہراس پھیلا کر اﷲ کی کائنات میں فتنہ فساد اور تباہی و بربادی کا موجب بنیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور زمین پر فساد مت پھیلاؤ ، بے شک اﷲ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
اسلام کسی ایک شخص کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے اور کسی ایک شخص کی ہلاکت کو پوری انسانیت کی ہلاکت سے تشبیہ دے کر ایک طرف احترام انسانیت، تحفظ انسانیت ِاور بقائے انسانیت کے ضمن میں اپنی تعلیمات پیش کرتا ہے تو دوسری طرف انسانوں کے باہمی معاملات میں کسی بھی طرح کی انسانیت کش سوچ اور سفاکانہ رویے کو انتہائی واضح الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔
دیگر مذاہب اور اقوام کے لوگ اگر مسلمانوں سے سخت دشمنی اور سخت عداوت بھی رکھتے ہوں تب بھی اسلام نے ان کے ساتھ رواداری کی تعلیم دی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
ترجمہ:’’ بدی کا بدلہ نیکی سے دو، پھر جس شخص کے ساتھ تمہاری عداوت ہے وہ تمہارا گرم جوش حامی بن جائے گا‘‘۔
اسلام دین رحمت ہے، اس کا دامن ِمحبت و رحمت ساری انسانیت کو محیط ہے۔ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات، ہم دردی، غم خواری و رواداری کا معاملہ کریں اور اسلامی نظامِ حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی اور امتیاز کا برتاؤ نہ کیا جائے۔ ان کی جان، مال، عزت، آبرو، اموال اور جائیداد اور دیگر حقوق کی حفاظت کی جائے۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا،
ترجمہ :’’ اﷲ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے، جو لڑے نہیں دین کے سلسلے میں اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے، کہ ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرو، بے شک اﷲ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ ۔
مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. اسلام امن و سلامتی، عزت و اکرام محبت و یگانگت، مروت ، صلح و آشتی، ہمدردی و ایثار ایسے جذبات و احساساتِ حسنہ کا درس دیتا ہے۔ اسلام عداوت، مخاصمت، بُغض، کینہ، حسد، انتقام، جنگ و جدل، فسادفی الارض، فتنہ پروری ایسے رذیل جذبات و احساسات کی مذمت اور حُرمت کا درس دیتا ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان تمام انسانوں کا بلا تفریق مذہب و ملت جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ اور امین ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھ اور زبان سے ہر کوئی مامون و محفوظ ہوتا ہے۔ اسلام کا ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں یا گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی
دین اسلام کی اصل روح ہے۔ طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان ،جندوللہ اور لشکر جھنگوی دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اسلام سلامتی کادین ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے برصغیر کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے والے بزرگان دین نے اپنے قول و فعل کے ساتھ بھائی چارے کو فروغ دیا۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں دہشت گردی نے لوگوں کا سکون تباہ کردیا ہے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اہل وطن پیار ومحبت کے پرچار کے ساتھ اخوت اور رواداری کو فروغ دیں ۔

Advertisements