پشاور میں امام بارگاہ پر حملہ، ہلاکتیں 22 ہوگئیں


150213110503_peshawar_attack_624x351_afp

پشاور میں امام بارگاہ پر حملہ، ہلاکتیں 22 ہوگئیں
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد فیز5 میں امامیہ مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے اور گرنیڈ حملے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
نمائندہ ڈان نیوز کے مطابق حیات آباد فیز5 میں واقع امامیہ مسجد و امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران یکے بعد دیگر متعدد دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جنھیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا، جہاں متعدد کی حالت نازک بتائی گئی، جبکہ پشاور کے تمام ہسپتالوں میں گزشتہ روز ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں جگہ کم پڑنے کے باعث زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے بذریعہ ای میل حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

news-1423873053-6320
عینی شاہدین کے مطابق جمعے کی نماز کا آخری سجدہ ادا کیا جا رہا تھا کہ فرنٹیئرکور(ایف سی) کے یونیفارم میں ملبوس 6 مسلح افراد نے مسجد کے باہر موجود سیکیورٹی کو ختم کرنے کے لیے پہلے 8 گرنیڈز پھینکے اور بعد میں مسجد کے اند آکرخود کش دھماکے کیے۔
شیعہ علماء کونسل کے رہنما عارف حسین نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کو پکڑنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جارہی۔
دوسری جانب امامیہ مسجد خود کش حملے کے خلاف متحدہ وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، شیعہ علماء کونسل، جعفریہ الائنس اور امامیہ رابطہ کونسل نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔

54ddc2a425fe5
پشاور میں ہونے والے حملے پر صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور دیگر رہنماؤں نے مذمت کی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما میاں افتخار حسین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پالیسی بدلے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔
http://www.dawnnews.tv/news/1016909

54ddc3849cead
یہ دھماکے حیات آباد کے فیز فائیو میں پاسپورٹ آفس کے قریب واقع شیعہ مسلک کی امامیہ مسجد و امام بارگاہ میں اس وقت ہوئے جب لوگ وہاں نمازِ جمعہ کے لیے جمع تھے۔
خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس ناصر درانی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار تھی جو امام بارگاہ کے باہر لگی باڑ کاٹ کر اور دیوار پھاند کر آئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور نے خود کو مسجد کے برآمدے میں دھماکے سے اڑایا جبکہ ایک حملہ آور کی باقیات مسجد کے ہال سے ملی ہیں۔ناصر درانی کا کہنا تھا کہ مسجد کے صحن میں موجود افراد نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے حملہ آور کو دھماکہ نہیں کرنے دیا اور وہ فائرنگ سے ہلاک ہوگیا. خیال رہے کہ یہ رواں برس شیعہ مسلک کی مساجد کو نمازِ جمعہ کے موقع پر نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل صوبہ سندھ کے شہر شکار پور میں کربلائے معلّیٰ نامی امام بارگاہ میں دھماکے سے 60 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

پشاور میں مسجد و امام بارگاہ پرحملے کا مقدمہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈرعمرعرف نرے کے خلاف درج کرلیا گیا۔ گزشتہ روز ہونے والے حملے کی تحقیقات پولیس اور حساس ادارے کررہے ہیں۔حملے کا مقدمہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر عمر عرف نرے کے خلاف درج کیاگیا ہےجو 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول حملے کے مقدمہ میں بھی نامزد ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملہ آور ممکنہ طور پر خیبر ایجنسی کے علاقہ شاہ کس سے پشاور میں داخل ہوئے اورایک زیر تعمیر عمارت کے ذریعہ مسجد پر حملہ کیا۔ مسجد میں 2 خودکش حملے بھی کئے گئے۔ ایک خودکش حملہ آورمحافظوں کی فائرنگ سے ماراگیا،جس کا تعلق قبائلی علاقہ سے بتایاگیا ہے۔

http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=175092

150131235909_pakistani_shiite_muslims__640x360_epa_nocredit
اسلام امن و محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اس کا تنگ نظری انتہا پسندی اور دہشت گردی سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔ امت مسلمہ کی غالب ترین اکثریت انسانیت کے احترام اور امن و محبت کی اقدار پر عمل پیرا ہے. مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی آباد ہیں وہ اپنے کردار سے پرامن معاشرے کے قیام میں مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ مذہبی انتہاء پسندی رسول عربی کی تعلیمات کے قطعاً منافی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال و توازن کا درس دیا ہے، ’’انتہا پسندی‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات ، اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی اور پیغمبر رحمت، محسنِ انسانیت کے اسوۂ حسنہ کے بالکل منافی عمل ہے ۔ قرآن کریم نے دین ومذہب کا جو تصور عطا کیا ہے وہ اعتدال پر مبنی ہے، قرآن مجید نے انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کو مستحسن عمل اور دین کی روح قرار دیا اور امت مسلمہ کو ابلاغ اور تبلیغ دین کے حوالے سے بھی اعتدال اور غیر جانب داری کا اصول عطا کیا۔مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔

54ddc24780af2
مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. اسلام امن و سلامتی، عزت و اکرام محبت و یگانگت، مروت ، صلح و آشتی، ہمدردی و ایثار ایسے جذبات و احساساتِ حسنہ کا درس دیتا ہے۔ اسلام عداوت، مخاصمت، بُغض، کینہ، حسد، انتقام، جنگ و جدل، فسادفی الارض، فتنہ پروری ایسے رذیل جذبات و احساسات کی مذمت اور حُرمت کا درس دیتا ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان تمام انسانوں کا بلا تفریق مذہب و ملت جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ اور امین ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھ اور زبان سے ہر کوئی مامون و محفوظ ہوتا ہے۔ اسلام کا ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں یا گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی
دین اسلام کی اصل روح ہے۔ طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان اور لشکر جھنگوی دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔
اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش ہے۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ۵۰،۰۰۰ پاکستانی اپنی جان سے ہاتح دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقٹصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. مٹھی بھر دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا، دہشت گرد دہشت گرد ہی ہوتا ہے۔

Advertisements