لاہور پولیس لائینز دھماکے میں 8افراد ہلاک، جماعت احرار نے ذمہ داری قبول کرلی


Pakistan-lahoreSuicideblast-5killed_2-17-2015_175388_l

لاہور پولیس لائینز دھماکے میں 8افراد ہلاک، جماعت احرار نے ذمہ داری قبول کرلی
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس لائنز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک جب کہ 23 زخمی ہوگئے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے گروہ جماعت الاحرار نے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے مقام سے ایک سر ملا ہے جس کہ وجہ سے یہ دھماکا خودکش ہو سکتا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 8 افراد ہلاک جبکہ 23 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جنہیں میو اور گنگا رام سسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

54e31939bda15

دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر وقاراحمد بھی شامل ہیں۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس اطلاعات موجود تھیں کہ پنجاب کے شہروں میں دہشت گردی ہو سکتی ہے جو کہ آپریشن ضرب عضب کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 5 سے 8 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

10599607_10153176129257044_360425644336135922_n
مشتاق سکھیرا نے کہا کہ خود کش حملہ آور ٹارگٹ تک پہنچنے کے انتظار میں تھا اس کا ہدف پولیس سول لائنز ہی تھا مگر اس بات پر تحقیقات ہوگی کہ حملہ آور اس مقام تک کیسے پہنچا۔ سی سی پی او لاہور امین وینس کا کہنا تھاکہ ابتدائی طور پر یہ خود کش حملہ معلوم ہوتا ہے۔

10968312_10153176129132044_4888916871244535142_n
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایک شخص کا سر ملا ہے ممکنہ طور پر یہ اسی حملہ آور کا سر ہے۔ دھماکے کے بعد کئی گاڑیوں نے آگ پکڑ لی جبکہ کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، وہاں موجود اکثر موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہو گئیں۔

10991367_10153176128982044_2823908110311896236_n
جس مقام پر دھماکا ہوا اس کے قریب واقع 8 کے قریب دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان کا کہنا تھا کہ سروسز اسپتال میں 4 زخمی، گنگا رام اسپتال میں 12 جبکہ میو اسپتال میں 7 زخمی منتقل کیے گئے مجموعی طور پر زخمیوں کی تعداد 23 ہے۔

10960432_10153176129522044_2486946465291701958_o
واضح رہے کہ اس مقام سے پنجاب اسمبلی، لاہور پریس کلب، ریلوے اسٹیشن اور دیگر اہم مقامات بھی قریب ہیں۔
دوسری جانب لاہور کے پولیس لائنز پر ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے گروہ جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

news-1424162252-3748_large
جماعت الاحرار کی جانب سے دھماکے کو ان کے ساتھیوں کو پھانسی دیئے جانے کا رد عمل قرار دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں سول لائنز دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کیا۔
http://www.dawnnews.tv/news/1017085/

news-1424177149-7471_large

پنجاب کےوزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے۔ پولیس حکام امن و امان کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے مساجد، امام بارگاہوں، عبادت گاہوں اور اہم مقامات کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں۔ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر ِصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تمام ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتےحالات میں پولیس کی ذمے داریوں کی جہتیں بدل گئی ہیں۔ پولیس امنِ عامہ کیلئے جانفشانی سے فرائض انجام دے اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے کوئی کسر نہ اٹھا ئے رکھے۔

54e3083666d62
نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایک شخص گاڑی سے ا ترااورا س کے ساتھ ہی دھماکہ ہوگیا ، دھماکے کے علاقے میں پولیس نے شامیانے لگادیئے اور میڈیا کا داخلہ بھی بند کردیا۔ڈی سی او لاہور نے دھماکے کے خودکش حملہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ دہشتگرد کے جسمانی اعضاءمل گئے ہیں ۔ ممکنہ دہشتگردریلوے سٹیشن کی طرف سے آیاجس نے پولیس لائن کے دروازے کے قریب ہی خود کو اُڑالیایا غلطی سے اُڑگیا۔بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں 9سے12کلوگرام بارودی مواد استعمال کیاگیا۔

10991367_10153176128982044_2823908110311896236_n
.آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کا ٹارگٹ پولیس لائنز تھا ، تاہم ناکامی پر اس نے خود کو مارکیٹ میں پول کے قریب خود کو اڑالیا، دھماکے کی جگہ کا دورہ کرنے کے بعد آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نےکہا کہ خود کش دھماکا 12 بجکر 36 منٹ پر پولیس لائن کے باہر ہوا، ،خود کش حملے میں 5 سے 8 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

10872766_10153176129357044_2363423070360609559_o

news-1410174456-6854_large
جماعت احرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک میں دی جانے والی پھانسیوں کا جواب ہے۔

1965690_815026701905696_5462953323770065564_o

صدر مملکت ممنون حسین ،وزیراعظم میاں نواز شریف اور دیگر شخصیات نے لاہور خود کش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے ،وزاعظم نے زخمیوں کو بہترین سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ،پنجاب حکومت سے دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبان کے دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے،50 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے ۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں ۔دہشت گردی اور بم دھماکوں میں معصوم عوام کو خاک و خون میں نہلایاجارہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
سفاک دہشت گرد بم دھماکہ کرکے معصوم و بے گناہ لوگوں کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں وہ ملک و قوم کے کھلے دشمن ہیں ۔
دہشت گردی کسی بھی انسانی معاشرے میں جنم لے سکتی ہے۔ اس کا کوئی دین، مذہب، ملت اور وطن نہیں ہوتا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کہیں اپنے ملک و ملت، رنگ و نسل، قوم، قبیلے اور زبان و ثقافت کی برتری کا خود ساختہ تصور انسان کو دیگر اقوام کے خلاف دہشت گردی پر اُکساتا رہا، اور کہیں اپنے عقائد و ادیان اور افکار و نظریات کو دوسروں پر بہ زور مسلط کر نے کا جنون اس کا باعث بنتا رہا۔ اسلام نے انسانوں کے باہمی حقوق و فرائض کا ایک جامع نظام اسی لیے وضع کیا ہے تاکہ انسان اپنے جذبات سے مغلوب ہوکر ان حقوق و فرائض کی بجا آوری میں کسی کوتاہی کا مرتکب نہ ہو اور بے انصافی و بے اعتدالی کی راہ پر نہ چل پڑے۔ اسلامی تعلیمات اپنے حقوق کے حصول کے لیے استحصالی قوتوں سے نبردآزما مسلمانوں کو بھی اپنی جدوجہد انسانیت کی حدود کے اندر رکھنے کا پابند بناتی ہے اور انہیں یہ اجازت ہرگز نہیں دیتی کہ وہ شرعی جدوجہد میں بھی معصوم اور نہتے لوگوں کی جانیں لیں، دہشت گردی کریں، عوام کی املاک کو نقصان پہنچائیں اور ان میں خوف و ہراس پھیلا کر اﷲ کی کائنات میں فتنہ فساد اور تباہی و بربادی کا موجب بنیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور زمین پر فساد مت پھیلاؤ ، بے شک اﷲ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
اسلام کسی ایک شخص کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے اور کسی ایک شخص کی ہلاکت کو پوری انسانیت کی ہلاکت سے تشبیہ دے کر ایک طرف احترام انسانیت، تحفظ انسانیت ِاور بقائے انسانیت کے ضمن میں اپنی تعلیمات پیش کرتا ہے تو دوسری طرف انسانوں کے باہمی معاملات میں کسی بھی طرح کی انسانیت کش سوچ اور سفاکانہ رویے کو انتہائی واضح الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ طالبان اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں.کسی گروہ و جماعت کو یہ حق حاصل نہ ہے کہ وہ قانونی حکومت کی طرف سے دہشتگردوں کو پھانسی دئیے جانے پر ردعمل کے طور پر مزید دہشتگردی کرے۔۔ علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہو۔۔ اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے ہی لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔
مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. اسلام امن و سلامتی، عزت و اکرام محبت و یگانگت، مروت ، صلح و آشتی، ہمدردی و ایثار ایسے جذبات و احساساتِ حسنہ کا درس دیتا ہے۔ اسلام عداوت، مخاصمت، بُغض، کینہ، حسد، انتقام، جنگ و جدل، فسادفی الارض، فتنہ پروری ایسے رذیل جذبات و احساسات کی مذمت اور حُرمت کا درس دیتا ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان تمام انسانوں کا بلا تفریق مذہب و ملت جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ اور امین ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھ اور زبان سے ہر کوئی مامون و محفوظ ہوتا ہے۔ اسلام کا ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں یا گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اسلام سلامتی کادین ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے برصغیر کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے والے بزرگان دین نے اپنے قول و فعل کے ساتھ بھائی چارے کو فروغ دیا۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں دہشت گردی نے لوگوں کا سکون تباہ کردیا ہے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اہل وطن پیار ومحبت کے پرچار کے ساتھ اخوت اور رواداری کو فروغ دیں ۔

Advertisements