اسلام آباد ، امام بارگاہ میں خود کش حملہ کی کوشش ناکام ،4جاں بحق ،10زخمی


news-1424267682-5072_large

اسلام آباد ، امام بارگاہ میں خود کش حملہ کی کوشش ناکام ،4جاں بحق ،10زخمی

فاقی دارالحکو مت اسلا م آ باد کے علا قہ شکر یال میں واقع اما م بارگاہ سکینہ بنت حسین میں خو د کش حملہ کی کو شش کے نتیجہ میں خو د کش حملہ آور ہلاک جبکہ چار افراد جا ں بحق اور 10 افراد شد ید زخمی ہو گئے ز خمیوں کو اید ھی اور ریسکیوٹیمو ں نے پمز اور پو لی کلینک منتقل کر دیا ہے حملہ کے وقت یہا ں نما ز مغر بین ادا کی جا رہی تھی دھما کہ کے بعد فوری طور پر اسلا م آ با د پو لیس اور ر ینجرز اور بم ڈسپوزل سکواڈ مو قع پر پہنچ گئی جبکہ علاقہ کو گھیرے میں لے سیل کر دیا گیا جبکہ امن و امان کی صو رتحا ل کے پیش نظر کو ئیک ر سپا نس فورس کے دستے بھی یہا ں پہنچ گئے ۔

جنھوں نے علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے قا نو ن نا فذ کر نے والے اداروں کی یہا ں آ مد اور علاقہ کو سیل کئے جا نے کے با عث مین ہا ئی وے پر ٹر یفک کا نظا م بھی در ھم بر ھم ہو گیا اور سینکڑوں گاڑ یاں ٹر یفک ہجوم میں پھنس گئیں پو لیس کے مطا بق خو د کش حملہ آ ور کی جیکٹ پھٹ نہ سکی جسے بم ڈ سپوزل کی ٹیم نے نا کا رہ بنا دیا دستی بم د ھما کہ کی شد ت کے با عث گر د و نو اح میں واقع عما رتوں کی شیشے بھی ٹو ٹ گئے پو لیس نے یہ بھی بتا یا کہ نما ز مغر بین کے دوران خو د کش حملہ آ ور نے زبر دستی امام بارگاہ میں دا خل ہو نے کی کوشش کی تا ہم امام بارگاہ کی حفا ظت پر تعینا ت ر ضا کا روں کے رو کنے پر دہشت گرد نے فا ئر نگ کی جس سے دو افراد عبد الشکور اور غلا م حسین مو قع پر جا ں بحق جبکہ سخاوت اور الطاف پمز ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ فا ئر نگ اور دہشت گر د کی جا نب سے پھینکے جا نے والے دستی بم کے نتیجہ میں 10 افراد شد ید زخمی بھی ہو گئے جن میں سے تین زخمیوں کی حا لت تشو یشناک ہے تر جما ن پمز کے مطا بق جا ں بحق ہو نے والے دونو ں افراد کو سینے اور دل کے قر یب گو لیا ں لگی جن سے ان کی مو ت واقع ہو ئی ہے عینی شاہد ین کے مطا بق چار سال قبل یہا ں ہو نے والے بم دھما کہ کے نتیجہ میں ہو نے والی جا نی نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہو نے کے واقعہ کے بعد یہاں امام بارگاہ انتظا میہ کی جا نب سے بھی اپنے طور پر سیکورٹی انتظا ما ت کے پیش نظر امام با رگاہ میں دا خلہ کے لئے ایک ہی را ستہ استعما ل کیا جا تاتھا جبکہ سیکورٹی کے لئے یہا ں مو جو د ر ضا کار یہا ں آ نے والو ں کو چیک کر نے کے بعد امام بارگاہ میں جا نے کی اجازت دیتے تھے اد ھر اس واقعہ کی تحر یک نفا ذ فقہ جعفر یہ کے سر براہ آ غا سید حا مد علی مو سوی نے شد ید مذ مت کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ایکشن پلا ن پر عمل در آ مد تیز کیا جا ئے قا ئد ملت جعفر یہ علا مہ ساجد نقوی نے اسلا م آ باد میں امام بارگاہ پرحملہ کی مذ مت کی ہے۔

54e49ab837145

news-1424271237-8908_large

54e4993636b10

http://dailypakistan.com.pk/front-page/19-Feb-2015/195593

150131131154_funerals_shikarpur_sindh_pakistan_640x360_afpgetty_nocredit

news-1421133484-6624_large

پمز ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اس دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص دم توڑ گیا ہے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ نے بتایا ہے کہ امام بارگاہ دھماکے میں زخمی ہونے والا 65 سالہ سید سخاوت حسین آپریشن تھیڑ میں علاج کے دوران جاں بحق ہ گئے ہیں۔جبکہ اس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3 ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تاحال 2زخمیوں کی حالت نازک ہے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

http://dailypakistan.com.pk/islamabad/18-Feb-2015/195419

امام بارگاہ قصر سکینہ میں ہونے والے خود کش دھماکے کی ذمہ داری کالعدم جماعت تحریک طالبان پاکستان(جماعت احرار) نے قبول کر لی ہے۔میڈیا کو جاری اپنے بیان میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ ان کی جماعت کی کاروائی ہے جبکہ وہ اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

http://dailypakistan.com.pk/national/18-Feb-2015/195420

 ڈان کے مطابق دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروہ جنداللہ نے قبول کرلی ہے۔

http://www.dawnnews.tv/news/1017160/

جنداللہ گروپ نے راولپنڈی میں امام بارگاہ میں خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ۔ جنداللہ گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آپریشن ضرب عضب کا رد عمل ہے ۔جنداللہ گروپ کے ترجمان نے میڈیا کو اپنے پیغام میں بتایاہے کہ راولپنڈی میں امام بارگاہ میں خود کش حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور آیندہ بھی حملے جاری ر کھیں گے۔ ترجمان کے مطابق راولپنڈی میں ہونے والا خود کش حملہ شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب کا رد عمل ہے ۔
http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=175571

امام بارگاہ قصر سکینہ میں دھماکے کے بعد وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے جبکہ انہوں نے اس واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔نواز شریف کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو معاف نہیں کریں گے جبکہ ان کو کیفر کردا تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔

امام بارگاہ قصر سکینہ میں دھماکے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔میڈیا کو جاری بیان میں الطاف حسین نے کہا ہے کہ امام بارگاہ قصر سکینہ میں دھماکہ افسوسناک ہے تاہم انہوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ۔الطاف حسین کا کہنا تھا کہ حکومت سیکورٹی کے مناسب انتظامات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ سکینہ امام بارگاہ دھماکے پر ملک کی اعلی سیاسی قیادت نے اظہار افسوس کرتے ہوئے دھماکے مذمت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق کری روڈ پر سکینہ امام بارگاہ میں خود کش حملہ ہو ا جس میں جس3افراد جاں بحق جبکہ 10زخمی ہو گئے ہیں ۔وزیراعظم نواز شریف ،عمران خان ،الطاف حسین اور شہباز شریف سمیت دیگر سیاسی لیڈران نے اس دھما کے کی مذمت کی ہے۔تمام سیاسی لیڈران کا کہنا تھا کہ ایسی کاروائیوں سے دہشتگرد قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔شیعہ علمائے کونسل کی جانب سے واقعے کے خلاف ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرے اور ان کو منطقی انجام تک پہنچائے۔

ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں نے ایک مرتبہ پھر ملک کی سلامتی اور بقاءکو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ خانقاہوں، امام بارگاہوں اور مساجد میں خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ ایسا سلوک تو دشمن بھی ایک دوسرے سے نہیں کرتے، کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والے نہیں؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ؟اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے؟ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں صرف شیعہ مسلمان ہی نہیں مارے جارہے بلکہ ان کے ہاتھ سنی مسلمانوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے داخلی دفاع کو شدید نقصان، فرقہ واریت نے ہی پہنچایا ہے اور فرقہ واریت کی وجہ سے چند ساعتوں میں کراچی سے لے کر گلگت تک پاکستانیوں کا خون نہایت آسانی سے بہایاجاسکتا ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔

اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
ترمذی، السنن، کتاب الفتن عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب ما جاء فی لزوم الجماعة، 4 : 39 – 40، رقم : 2167
اسلام انسانیت کی بقاء، معاشرے میں امن و سلامتی، اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کا ضامن ہے۔ اس میں فرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ایک مقام پر فرمایا
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ.
’’بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں۔‘‘
الانعام، 6 : 159
اس آیتِ کریمہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے کوئی سرو کار اور تعلق نہ رکھیں، جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی جمعیت کا شیرازہ منتشر کر دیا۔ علاوہ ازیں ملی شیرازہ کو تفرقہ و انتشار کے ذریعے تباہ کرنے والوں کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی سخت احکامات صادر فرمائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جو شخص بھی تمہاری جماعت کی وحدت اور شیرازہ بندی کو منتشر کرنے کے لئے قدم اٹھائے اس کا سر قلم کر دو۔‘‘
مسلم، الصحيح، کتاب الامارة، باب حکم من فرق امر المسلمين و هو مجتمع، 3 : 478، رقم : 1852
مذکورہ بالا قرآنی آیت اور حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام میں فرقہ بندی اور تفرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔

عبادت گاہوں اور بیگناہ انسانوں کو نشانہ بنانے والے بے دین اور دشمنانِ انسانیت ہیں۔

طالبان،لشکر جھنگوی,جندواللہ اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان اور لشکر جھنگوی دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔
طالبان اور دیگر دہشتگرد ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟
طالبان و ان کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ طالبان اقلیت میں ہونے کے باوجود اکزیتی فرقوں کے لوگوں کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کیخلاف جنگ اسی وقت ختم ہو گی جب جنگجو وں کا مکمل طورپر خاتمہ کر دیا جائے گا۔یہ لوگ معاشرے اور ملک کیلئے خطرہ ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں ،ایسے ملک اور اسلام دشمن عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔

اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال و توازن کا درس دیا ہے، ’’انتہا پسندی‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات ، اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی اور پیغمبر رحمت، محسنِ انسانیت کے اسوۂ حسنہ کے بالکل منافی عمل ہے ۔ قرآن کریم نے دین ومذہب کا جو تصور عطا کیا ہے وہ اعتدال پر مبنی ہے، قرآن مجید نے انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کو مستحسن عمل اور دین کی روح قرار دیا اور امت مسلمہ کو ابلاغ اور تبلیغ دین کے حوالے سے بھی اعتدال اور غیر جانب داری کا اصول عطا کیا۔مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔
مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔

 

Advertisements