‘کوئی شدت پسند گروپ پاکستان کا پسندیدہ نہیں’


_71375111_71375110

‘کوئی شدت پسند گروپ پاکستان کا پسندیدہ نہیں’

  آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی کانگریس کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ کوئی بھی شدت پسند گروپ پاکستان کا پسندیدہ نہیں ہے اور شمالی وزیرستان میں تمام گروپوں کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری ہے۔
جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو) راولپنڈی میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن سینیٹرجیک ریڈ کی قیادت میں امریکی کانگریس کے ایک وفد سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروپوں کا نیٹ ورک توڑا جارہا ہے جب کہ شمالی وزیرستان کا ایک بڑا حصہ خالی کرایا جاچکا ہے۔

امریکی کانگرس کے وفد نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کو بھی سراہا۔
ملاقات کے دوران پاک۔ افغانستان سرحد کی سیکیورٹی کی صورتحال بھی زیر بحث آئی اور آرمی چیف نے امریکی وفد کو بتایا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے جس میں کافی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
آرمی چیف نے امریکی کانگرس کے وفد کو اپنے گزشتہ روز کیے گئے دورہ کابل کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا اور سینیٹر جیک ریڈ کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے اور سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے بعد آرمی چیف نے دورہ کابل کے دوران افغان سیاسی و عسکری قیادت سے سرحدی علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
آرمی چیف نے افغان قیادت سے افغانستان میں روپوش ٹی ٹی پی سربراہ ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
اپنے دوروں کے دوران جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت سے انٹیلی جنس معلومات کا بھی تبادلہ کیا جبکہ پاک افغان سرحد کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی اتفاق رائے کیا گیا۔
http://www.dawnnews.tv/news/1017147/

دہشت گردی پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ طالبان اور ان سے منسلک جہادی اور کالعدم تنظیموں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں ۔
طالبان نے پولیس اور دفاعی افواج پر براہ راست حملے کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔ان مسائل کی وجہ سے ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اُٹھ رہا ہے. پاکستان میں دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے آج پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز سمجھاجا تا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے 158ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ عراق اس میں سرفہرست ہے۔ افغانستان تیسرے نمبر پر ہے. متواتر حملوں سے معیشت کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے‘ عوام محفوظ ہیں نہ حساس تنصیبات اور فوجی و سکیورٹی افسر و اہلکار ۔ تمام دہشتگرد ،سانپ ہیں جن کی سرشت میں ڈنک مارنا لکھا ہوتا ہے ، دہشتگردوں کے ہاتھ معصوم و بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں اور ان دہشتگردوں سے نیکی و خیر کی توقع کرنا عبث ہے۔
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، 50 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے. گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں مزید تقریبا چار ہزار افراد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ ان میں ایک تہائی تعداد عام شہریوں کی ہے ۔.
پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور اس کی معیشت کو 100ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و فارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔
ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں نے ایک مرتبہ پھر ملک کی سلامتی اور بقاءکو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ خانقاہوں، امام بارگاہوں اور مساجد میں خودکش حملے ہو رہے ہیں. کراچی دہشت گردی اور فرقہ ورانہ دہشت گردی کا نیا مرکز بن چکا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں شیعہ مسمانوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسا سلوک تو دشمن بھی ایک دوسرے سے نہیں کرتے، کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والے نہیں؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ؟اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے؟ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں صرف شیعہ مسلمان ہی نہیں مارے جارہے بلکہ ان کے ہاتھ سنی مسلمانوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے داخلی دفاع کو شدید نقصان، فرقہ واریت نے ہی پہنچایا ہے اور فرقہ واریت کی وجہ سے چند ساعتوں میں کراچی سے لے کر گلگت تک پاکستانیوں کا خون نہایت آسانی سے بہایاجاسکتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں جاری تشدد کے واقعات میں طالبان و القائدہ کی تنظیموں اور ان تنظیمیں کا ، جو طالبان و القاعدہ سے منسلک ہیں کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ہاتھ نظر آتا ہے. دہشت گرد اس قدر دیدہ دلیر ہو چکے ہیں کہ براہ راست پولیس پر حملے کررہے ہیں۔اس واقعہ کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔کچھ یار لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان نے ایسا ری ایکشن کی وجہ سے کیا ہے۔میرے خیال میں یہ خیال انتہائی بیہودہ،لغو اور لا یعنی ہے۔کیونکہ قومیں اور ریاستیں ملکی فوجداری و سول قوانین کی موجودگی میں،ری ایکشن کا حق ،کسی آدمی یا دہشت گردوں کےگروہ کو نہ دے سکتی ہیں.کیونکہ ایسا کرنے سے معاشرہ میں لاقانونیت و افراتفری پھیل جاتی ہے. کیا اسلامی نظام یا دنیا کی کسی مہذب ریاست میں ایسی مثال موجود ہے ،جہاں کسی شخص یا کسی گروہ یا دہشت گردوں کو ری ایکشن کا حق حاصل تھا یا ہے یا دیا گیا ہو؟ ان حالات میں طالبان کو ری ایکشن کا حق دینے کا کیا جواز ہے؟
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔اسلام میں فتنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔کسی بے گناہ کی طرف آلہ قتل سے اشارہ تک کرنا منع کیا گیاہے .دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے.
دنیا کی کوئی ریاست مسلح عسکریت پسندوں و دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت نہ دے سکتی ہے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔
طالبان ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟
اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ طالبان ،جاہلان جہاد اور قتال کے فرق کو اور ان سے متعلقہ تقاضوں سے کماحقہ واقف نہ ہیں۔
طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ طالبان اقلیت میں ہونے کے باوجود اکزیتی فرقوں کے لوگوں کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کیخلاف جنگ اسی وقت ختم ہو گی جب جنگجو وں کا مکمل طورپر خاتمہ کر دیا جائے گا۔یہ لوگ معاشرے اور ملک کیلئے خطرہ ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں ،ایسے ملک اور اسلام دشمن عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کے خلاف ایک سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔
جہاد و قتال تو الہہ تعالی کی خشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے الہہ کی راہ میں کیا جاتا ہے۔ ذاتی بدلہ لینا قبائلی روایات اور پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہیں ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے. دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں.
پاکستان میں دہشت گردی کے باعث مرنے اور مارنے والے دونوں مسلمان ہیں اور چند لوگ حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں اور سازشی تھوریز کی بات کرتے ہوئے معصومانہ انداز میں اپنے مسائل کیلئے دوسری طاقتوں کو مورود الزام ٹہرا رہے ہیں۔ کیا ہم لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ایک مسلمان کی حرمت اور اس کی جان اللہ تعالی کے نزدیک خانہ کعبہ کی حرمت سے بڑھ کر ہے۔ ان کی عزت وآبروپامال کرنے اور مال اسباب لوٹنے والے کسی بھی طرح بھی مسلمان کہلائے کے مستحق ہیں۔ یقینا نہیں؟“ جس نے کسی کا نا حق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کردیا اور جس نے کسی کی زندگی کو محفوظ کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو زندہ کردیا“۔
اللہ تعالہ فرماتے ہیں:
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

Advertisements