دہشت گردوں کو منطقی انجا م تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے


54e597fd1bbeb

دہشت گردوں کو منطقی انجا م تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے

وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ اس وقت تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی جس وقت تک پا ک سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر دیتے۔کاﺅنٹر ٹیررازم فورس کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوا زشریف نے کہاکہ جس قوم میں ایسے جہانباز سپاہی ہوں اسے کو ئی بھی شکست نہیں دے سکتا ،کامیابی مقدر بنتی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ یہ فورس دہشت گردی کیخلاف اپنی پیشہ وارنہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گی ۔

نواز شریف نے جوانوں کی جانب سے پیشہ وارنہ صلاحییتوں کے پیش کیے گئے عملی مظاہر ے کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس میں سب بڑا ہاتھ فوج کے سربراہ راحیل شریف جنہوں نے خصوصی توجہ دیتے ہوئے اپنی نگرانی میں قلیل وقت میں جوانوں کی ٹریننگ مکمل کروائی ۔

15B01828-51F5-4C61-9A10-D210E3DCF5B3_mw1024_s_n
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے کاﺅنٹر ٹیررازم فورس کی تربیت میں اہم کرادار ادا کیاہے اورقوم کے بیٹے اور بیٹیاں اپنی پاک سرزمین کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے ۔دہشت گردی کا مسئلہ ختم کرنے میں آنے والی نسلوں کی بقاءہے ۔
پروزیراعظم نوا ز شریف سمیت آرمی چیف راحیل شریف ،کور کمانڈر کوئٹہ ناصر جنجوعہ،وزیرعلیٰ بلوچستان اور گورنر بلوچستان نے تقریب میں شرکت کی ۔
http://dailypakistan.com.pk/national/19-Feb-2015/195711

وزیراعظم نے کمانڈوز سے خطاب میں انہیں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دوٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کردیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اداروں کی پشت پر کھڑی ہے اور اس جنگ میں جیت کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، کیونکہ یہ نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر حال میں جیتنی ہے یہ ہماری معاشی اور معاشرتی زندگی کا مسئلہ ہے، یہ ہماری آئندہ نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔‘

دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔

پاکستانی ریاست دہشتگردوں کے سامنے کبھی سرینڈر نہیں کرے گی.طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ طالبان کی دہشتگردی کی وجہ سے ملکی اقتصادیات کو اب تک ۱۰۰ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
طالبان کا یہ کیسا نام نہاد جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔طالبان انسان کہلانے کے بھی مستحق نہ ہیں۔ انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں۔
بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔طالبان پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کی بالادستی کو رد کرتے ہوتے اپنی مذہبی سوچ کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں.
اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . بم دھماکے کھلی بربریت ہیں اور دہشت گرد عناصر شہر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔
انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے.اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلامی تعلیم ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کی جائے اور کسی کو قتل نہ کیا جائے۔ ارشاد باری ہے ‘‘ انسانی جان کو ہلاک نہ کرو، جسے خدا نے حرام قرار دیا ہے’’۔ (بنی اسرائیل :33)علمانے اس متعلق وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ‘‘ہر امن پسند غیر مسلم کے خون کی قیمت مسلمانوں کے خون کے برابر ہے،اس لیے اگر کوئی مسلمان کسی پرُ امن غیر مسلم کو قتل کردیتا ہے تو اس کا قصاص اسی طرح لیا جائے گا، جس طرح ایک مسلمان کے قتل کا لیا جاتا ہے’’گویا کہ جان کے تحفظ کے معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان دونوں برابر ہیں ، جس طرح ایک مسلمان کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح ایک غیر مسلم کی جان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ کسی انسان کی جان لینا اسلام کے نزدیک کتنا قابل گرفت عمل ہے، اس کا اندازہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی اس حدیث سے ہوتا ہے ، آپ نے فرمایا ‘‘ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا، وہ نماز ہے جس کے بارے میں باز پرس کی جائے گی او رحقوق العباد میں سب سے پہلے قتل کے دعووں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ کسی انسانی جان کی ہلاکت کو عظیم گناہ کے ساتھ ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا کہ ‘‘ بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا ، پھر کسی انسان کو ہلاک کرنا ہے، پھر ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے ، پھر جھوٹ بولنا ہے’’۔ اس حدیث میں قتل کے گناہ کو شرک کے بعد بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ عظیم گناہ ہیں، ان میں کسی انسانی جان کو ہلاک کرنا سر فہرست ہے. انسانیت کے دشمن اپنے ہی مسلمان بھائیوں کونماز پڑھتے وقت بھی خود کش دھماکے کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں قتل کرر ہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ جو لوگ انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور بے گنا ہ انسانوں کا خون بہا رہے ہیں وہ مسلمان تو کجا، انسان کہلا نے کے مستحق نہیں ہیں۔ قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ روح اسلام کے خلاف گناہ عظیم ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا
یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ آج دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کردیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک دہشت گردی کا شکار رہے ہیں لیکن ان ممالک کی حکومتوں،سیاسی قیادتوں اور عوام نے متحد ہو کر اس عفریت کا مقابلہ کیا اور اپنے ملک کو پر امن بنادیا۔ سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں تامل ٹائیگرز نے دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے حکومت کے لیے مسائل پیدا کر رکھے تھے ،پھر قوم کے اتحاد نے وہ وقت دکھایا کہ حکومت کامیاب ہوئی اور تامل ٹائیگرز ختم ہوگئے۔آج پر امن سری لنکا جنوبی ایشیا کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن چکا ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عوام متحد ہو کر حکومت کا ساتھ دیں ۔اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اندرونی استحکام ہی سرحدوں کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ملک میں امن کا دور دورہ ہوگا اور خوشحالی و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جس کے ثمرات تمام پاکستانیوں کو پہنچیں گے۔
جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

Advertisements