شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب


10358886_729792657062897_4050258875252763493_n

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب

شمالی وزیر ستان میں جاری ضرب عضب آپریشن میں 219 فوجی جوان شہید اور 800 فوجی جوان زخمی ہوئے۔ 2002 سے پاکستان کے شمال مغربی حصے میں عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں پاک فوج کے 4400 جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں پاکستانی فوج کی شہادتیں ان امریکی فوجی ہلاکتوں سے دوگنی ہیں جو اسی عرصے میں امریکیوں کی طالبان کے ساتھ لڑائی میں افغانستان میں ہوئیں۔

Zarb-e-azab

سانحہ پشاور کے بعد فوجی رہنما اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اب مزید کتنا خون بہایا جائے گا۔ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں پاک فوج کے بڑھتے عزم کے باوجود پاکستانی فوجی رہنما کٹر دشمن بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد کے دفاع کے روایتی مشن سے بھی فکر مند رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ملحقہ سرحد پر بھی پاکستانی فوج کی بھاری تعداد تعینات ہے۔

10417810_728775860497910_6615494824910354407_n
ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ منصوبے کے تحت ایک لاکھ 70 ہزار فوجی جوان 2019 تک افغان سرحد کے ساتھ تعینات رہیں گے،یہ مجموعی پاک فوج کی ایک تہائی تعداد ہے۔ایک حالیہ انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ شمالی وزیرستان میں لڑائی کا بڑا حصہ چند ماہ کے اندر اندر ختم ہو جائے گا۔شمال مغربی سرحد پر پر پاک فوج کے طویل مدت تک قیام کا مقصد شمالی وزیر ستان میں حاصل حالیہ کامیابیوں کو طویل مدت تک یقینی بنانا ہے۔ یہ علاقہ کافی عرصے سے طالبان کا گڑھ رہا ہے عسکریت پسندوں کے خطرے کا فوری جواب دینے کے لئے فوج کی موجودگی ضروری ہے اس سے داعش کے قدموں کو روکنا بھی ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اب ہم بنیادی طور پر برصغیر کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ صرف پاکستان کے لئے نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے لئے ہے۔

10402653_728775820497914_8063829289295629082_n
افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے ساتھ ہی سارا بوجھ پاکستان پر آچکا ہے۔بعض تجزیہ کاراور امریکی حکام پاک فوج کی عسکریت پسندوں سے لڑائی پر متضاد رائے رکھتے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک Rand Corp کے ماہر جونہا بلینک کا کہنا ہے کہ یہ مشن ان کی صلاحیتوں سے باہر ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں 13سال کے آپریشن کے باوجوددنیا کی سب سے بڑی طاقتور فوج امریکا طالبا ن کو شکست نہ دے سکی۔ طالبان کو ختم کرنے کی پاک فوج سے توقع کرنا غیر حقیقی ہو سکتی ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ عزم ظاہر کرنے لئے فوج کو دو سال وقت دینے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کے سابق بریگیڈئیر کا کہنا ہے کہ سانحہ پشاور نے فوجی جوانوں کو شدید متاثر کیا ہے اب جوان اور کمانڈرز یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری بقا لئے اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوج کے عزم کی مثال راولپنڈی میں بحالی میڈیسن کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ سے واضح ہے۔
http://www.geourdu.co/khabrain/top-stories/operation-zarb-e-azab-219-soldiers-killed-800-injured-pakistan/
http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=176020

10492389_728775623831267_2274675049170672551_n
شمالی وزیرستان میں ملک دشمنوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب عسکریت پسندوں کے خلاف حکومت کی واحد کارروائی نہیں ہے مگر یہ ایک مرکزی نکتہ ضرور ہے کیونکہ اس علاقے کو دہشتگردی کا گڑھ و مرکز سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند شمالی وزیرستان میں ہی جمع ہوتے ہیں کیونکہ یہ مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا صدر مقام ہے۔ پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے دہشتگرد، انسانیت اور اسلام کے کھلے دشمن ہیں، پاکستانی عوام دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی افواج پاکستان اور عوام کی ہو گی۔
ایک عسکری تجزیہ کار کے مطابق آپریشن ضرب عضب نے زبردست و ہمہ گیر حملہ کر کے دہشت گردوں کو حیران و پریشان کر کے رکھ کر دیا اور عسکریت پسندوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی اور ان سے حملہ کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران یہ محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب تباہ ہو چکا ہے اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس دوران انہوں نے جو اِکا دُکا کارروائیاں کرنے کی کوشش کی ان میں انہیں مُنہ کی کھانا پڑی۔دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے نیٹ ورک تباہ کر دیئے گئے اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں، تو آج ان کی کمر ٹوٹ گئی، مُلک بھر میں پھیلا ہوا اُن کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا، وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر تِتر بتر ہو گئ۔اب دہشتگرد سافٹ تارگٹ کو نشانہ بنارہے ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔ ملک میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے واقعات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، ملک کی داخلی صورتحال دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب ارب 100ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ .
طالبان ایک خطرناک ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور بے گناہوں کا ناحق خون بہا رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔
جہاد کاحکم ،اسلام کی تبلیغ کے لیے نہیں دیا گیا بلکہ جہاد کی وجہ باغیوں کی جنگجویانہ کارروائیاں اور خانماں سوز سرگرمیاں ہیں۔جہاد کی غرض وغایت یہ ہے کہ فتنہ ختم کیا جائے ، امن کو قائم کیا جائے، جہاد، خواہ دفاعی ہویا اقدامی ،یہ ظلم وبربریت اورانسان دشمنی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ اگر جہاد کی وجہ اور علت کفر ہوتی تو اسلام جنگ کے موقع پرغیر مسلم عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور راہبوں کوقتل کرنے سے منع نہ کرتا۔ اگر جہاد کا مقصد غیر مسلموں کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنا ہوتا تو صدیوں حکومت کرنے والے شاہان ہند کسی غیر مسلم فرد کو سرزمین ہندوستان پر سانس لینے کاحق نہ دیتا۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اسلام سلامتی کادین ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے برصغیر کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے والے بزرگان دین نے اپنے قول و فعل کے ساتھ بھائی چارے کو فروغ دیا۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں دہشت گردی نے لوگوں کا سکون تباہ کردیا ہے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اہل وطن پیار ومحبت کے پرچار کے ساتھ اخوت اور رواداری کو فروغ دیں۔

Advertisements