پاکستان میں فرقہ واریت


پاکستان میں فرقہ واریت
فرقہ واریت زہر قاتل ہے جوپاکستان اور ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور ایک وقت آئے گا جب یہ پاکستان اور پاکستانی معاشرہ کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دے گی۔۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ فرقہ واریت ملکی وحدت کے لئے نقصان دہ ہے اور یہ دہشتگردی کی ایک صورت ہے۔ دہشتگردی فرقہ واریت اور انتہا پسندی پاکستانی قوم کےلئے ایک ناسور کی حثیت رکھتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں  آئے روز شیعہ اورسنی علماء اورمذہبی رہنماوٴں کی ٹارگٹ کلنگزاورفرقہ وارانہ دہشت گردی کے تسلسل کے ساتھ ہونے والے واقعات سے صاف پتہ چلتاہے کہ پاکستان کوشیعہ سنی کی جنگ میں دہکیلنے کی گھناوٴنی سازشیں کی جارہی ہیں۔ہر جماعت، طبقہ اور قیادت اپنے علاوہ ہر ایک کو صفحہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے پر تلی ہوئی ہے ۔ سوچ و فکر کی اس شدت اور انتہاپسندی نے ہمیں ان راہوں پر گامزن کر دیا ہے جو آگ اور خون کی اتھا وادیوں میں جا اترتی ہیں اور تباہی و بربادی پر متنج ہوتی ہیں۔

ہم جس دین حق کے پیروکار ہیں اس نے انسانی جان کی حرمت کو سب سے اہم قرار دیا ہے اور ہم اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ اسلام نے ایک انسانی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے اور قتل کو پوری انسانیت کا قتل کے مترادف قرار دیا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام میانہ روی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی بات و تلقین کرتا ہے۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔1989 تا 2014 چوتھائی صدی کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے تین ہزار واقعات میں 4900 سے زائد پاکستانی شہری ہلاک اور تقریباً 9500 زخمی ہوئے۔ دہشتگردگروپس طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔ علامہ اقبال نے فرمایا:
شجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
ترمذی، السنن، کتاب الفتن عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب ما جاء فی لزوم الجماعة، 4 : 39 – 40، رقم : 2167
مذہبی انتہاء پسندی رسول عربی کی تعلیمات کے قطعاً منافی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال و توازن کا درس دیا ہے، ’’انتہا پسندی‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات ، اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی اور پیغمبر رحمت، محسنِ انسانیت کے اسوۂ حسنہ کے بالکل منافی عمل ہے ۔ قرآن کریم نے دین ومذہب کا جو تصور عطا کیا ہے وہ اعتدال پر مبنی ہے، قرآن مجید نے انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کو مستحسن عمل اور دین کی روح قرار دیا اور امت مسلمہ کو ابلاغ اور تبلیغ دین کے حوالے سے بھی اعتدال اور غیر جانب داری کا اصول عطا کیا۔مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔
مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں.
قرآن کریم نے واضح راہنمائی کے ذریعہ تمام انسانوں کو توحید پر جمع ہونے کی ہدایت کی ہے اور تفرقہ کو راہ مستقیم سے دور ہونے کا سبب قرار دیا ہے ، خداوند عالم فرماتا ہے : «وَ لا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبیلِہِ « ) ۔ اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کیونکہ وہ تمہیں راہ خدا سے دور کردیں گے ۔
فرقوں اور مذاہب کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں انسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور اگر ہم اسی طرح ایک ہی مذہب یا مختلف مذاہب کی تشریح و تفہیم کے مسئلہ پر جھگڑتے رہینگے تو یہ بات افسوسناک ہوگی ۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔
طالبان ،لشکر جھنگوی، جندواللہ ،القائدہ اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے لئے فرقہ ورانہ دہشتگردی پھیلارہے ۔
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
اگر ہم فرقہ واریت کی لعنت پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنی پیغام ’’واعتصموا بحبل اﷲ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ کو اپنا حرزِ جاں بنانا ہو گا اور برداشت، اخوت اور رواداری کو اپناتے ہوئے جسد واحد کی طرح متحد ہونا ہو گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم باہمی اختلافات کو فراموش کر کے اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں ۔

Advertisements