ہلمند خود کش کار بم دھماکہ میں 7 شہری ہلاک


335923-blastinafghanistanreuters-1426024031-326-640x480

ہلمند خود کش کار بم دھماکہ میں 7 شہری ہلاک
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں خود کش کار بم دھماکے میں 7افراد ہلاک اور 28زخمی ہو گئے ، ہلمند کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے بتایا کہ دھماکا صوبائی دارالحکومت، لشکر گاہ، کے باہر پولیس چیک پوائنٹ پر ہوا ۔ خود کش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھری کار کو پولیس کی گاڑی سے ٹکرا دیا ۔ جس کے نتیجے میں 7افراد ہلاک ہو گئے، جو راہگیر تھے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے ۔

afg-3-killed_3-10-2015_177775_l

صوبائی حکومت کے ترجمان عمر زواک نے بتایا بمبار پولیس سٹیشن کے اندر جانا چاہتا تھا اس نے جلدی میں بارودی گاڑی باہر اڑا دی۔ مارے گئے افراد راہگیر تھے۔ جبکہ 5پولیس افسروں سمیت 28افراد زخمی ہو ئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

B_yk2OYWwAAfd7o
طالبان دہشتگرد۔ طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے کیونہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

unnamedپپ
ہم جس دین حق کے پیروکار ہیں اس نے انسانی جان کی حرمت کو سب سے اہم قرار دیا ہے اور ہم اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ اسلام نے ایک انسانی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے اور قتل کو پوری انسانیت کا قتل کے مترادف قرار دیا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ روزہ مرہ معاملات میں ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا جائے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. ۔ مسلمان تمام انسانوں کا بلا تفریق مذہب و ملت جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ اور امین ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھ اور زبان سے ہر کوئی مامون و محفوظ ہوتا ہے۔ اسلام کا ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں یا گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔
طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔معصوم و بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ اور نہ ہی عرورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں اور بچوں کا قتل ملا عمر کے حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہے۔
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘ (المائدة، 5 : 32

Advertisements