کالعدم تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور لشکر اسلام کا اتحاد


news-1410174456-6854_large

کالعدم تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور لشکر اسلام کا اتحاد

کالعدم تحریک طالبان،جماعت الاحرار اور تحریک لشکر اسلام نے اتحاد کا اعلان کردیا۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں گروپوں کے رہنماؤں نے مشاورت کے بعد اتحاد کا اعلان کیا۔ تحریک طالبان کے ترجمان کے مطابق ایک تنظیم ساز کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو انتظامی ڈھانچہ تشکیل دے گی۔

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=178001

55025cfbe5fd5
جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ٹی ٹی پی کو ازسرنو منظم کیا جائے گا، جو ان کے گروپ کے اراکین، لشکر اسلام اورٹی ٹی پی پر مشتمل ہوگی۔احسان اللہ احسان نے اتحاد کرنے والے ان عسکریت پسندوں کے گروپس کو ’’مجاہدین پاکستان‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں ملّا فضل اللہ، عمر خالد خراسانی اور منگل باغ نے شرکت کی تھی۔

Umar Media

11046822_1554475964823730_3498414873423807355_o
ایک بڑی خوشخبری
تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار اور تحریک لشکراسلام تحریک طالبان پاکستان میں شامل
ہم امت مسلمہ کو عموما اور پاکستانی مجاہدین و عوام کو بالخصوص یہ خوشخبری اور مبارک باد دیتے ہیں کہ پاکستانی طاغوتی کفری جمہوری نظام اور اس مرتد ناپاک فوج کے خلاف لڑنے والے مظبوط جہادی جماعتیں تحریک طالبان پاکستان ،تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار اور تحریک لشکر اسلام تحریک طالبان پاکستان کے نام پر ایک ہوگئے ہیں یہ فیصلہ تینوں جہادی قائدین محترم مولانا فضل اللہ صاحب ،محترم عمرخالد خراسانی اور محترم حاجی منگل باغ صاحب کے ایک مشترکہ مشاورتی مجلس میں ہوا۔اجلاس میں ایک تنظیم ساز کمیٹی تشکیل دی گئی جوکہ چند دنوں میں مظبوط رہبری مرکزی شوری اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل دے گی ہم پاکستانی کفری جمہوری نظام اس کے کارندوں اور اس ناپاک مرتدفوج کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انشاءاللہ کسی بھی صورت میں ان کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے واضح رہے کہ اس مبارک تحریک کو ایک دوسرے سے بد ظن کرنے کیلئے بد نام زمانہ ایجنسی آئی ایس ٓئی نے جماعت الاحرار کے چار ساتھیوں کو شہید کیا لیکن انشاءاللہ دشمن اپنے منصوبوں میں ناکام ہوگا اور تشکیل شدہ تنظیم ساز کمیٹی اس واقعے کی تحقیقات کریگی جو بھی اس میں ملوث پایا گیا اس کو شرعی سزا دی جائی گی دوسری طرف شہید ہونے والے ساتھیوں مولانا شکیل احمد حقانی شھیداور ڈاکٹر طارق علی المعروف ابو عبیدہ الاسلام ابادی شہید کی شہادت چونکہ آئی ایس ائی کے کارندوں کے ہاتھوں ہوئی ہےاسلئے ان کا انتقام ان سے تحریک مشترکہ طور پر لے گا
محمد خراسانی
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان

https://www.facebook.com/pages/Umar-Media/1550240465247280

11024750_1554734104797916_5758617243360737222_o
“طالبان نے اپنے عمل سے حکومتی دعووں کو جھوٹ ثابت کردیا۔ طالبان کی صفوں میں اتحاد دشمن کے لئے موت کا پیغام ہے۔ میڈیا نے ہمیشہ کفری ایجنڈا اپنایا ہے جس کا مطلب میڈیا والے خود ہی سمجھ سکتے ہیں ۔

https://www.facebook.com/pages/Umar-Media/1550240465247280

334974-ac-1425838673-316-640x480

ادہر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشتگرد بھاگ رہے ہیں، انہیں چھپنے نہیں دیں گے تعاقب کرکے ماریں گے۔پاکستان کو ہر قسم کی دہشتگردی سے پاک کر دینگے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے شمالی وزیر ستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ اہداف کے حصول تک مسلح افواج اپنا مشن جاری رکھیں گی اورقوم کود ہشتگردی سے نجات دلائیں گے۔انہوں نے آپریشن ضرب عضب میں پاک فضائیہ اور زمینی دستوں کی ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت متاثر کن ہے۔ آرمی چیف نے کہاکہ متاثرین شمالی وزیرستان کی واپسی 31 مارچ تک یقینی بنائی جائے ۔آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی کیلئے تمام ادارے مل کر کام کرینگے۔

index
تحریک طالبا ن کے دو اہم کمانڈر افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے ۔دنیاز نیوز کے مطابق جھڑپ میں مار گئے اہم کمانڈر قاری شکیل حقانی اورکپٹن ڈاکٹر طارق علی امعروف ابو عبیدہ الاسلام آبادی کا تعلق کالعد م تنظیم تحریک طالبان کے ذیلی گروپ جماعت الاحرار سے تھا۔دہشت گرد کمانڈر شکیل نے واہگہ بارڈر اورپولیس لائنز حملے کی ذمہ دار ی قبول کی تھی اور اس کا نام سانحہ پشاور میں منصوبہ ساز کے طور پر بھی سامنے آیا تھا۔حکومت نے شکیل کے سر قمیت بھی ایک کروڑ روپے مقرر کر ر کھی تھی ۔
آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد یہ افغانستان فرار ہو گیا تھا لیکن آج افغانستان فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ ہلاک ہونے والا دوسرا دہشتگرد کمانڈر ڈاکٹر طارق شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز سے جھڑپ کے دوران پکڑا بھی گیا تھا۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کوہاٹی چرچ دھماکے ، کوہستان داسو میں گیارہ غیر ملکیوں کی ہلاکت کے علاوہ کراچی میں متعدد دھماکوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کر چکی ہے۔
شمالی وزیرستان میں ملک دشمنوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب عسکریت پسندوں کے خلاف حکومت کی واحد کارروائی نہیں ہے مگر یہ ایک مرکزی نکتہ ضرور ہے کیونکہ اس علاقے کو دہشتگردی کا گڑھ و مرکز سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند شمالی وزیرستان میں ہی جمع ہوتے ہیں کیونکہ یہ مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا صدر مقام ہے۔ پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے دہشتگرد، انسانیت اور اسلام کے کھلے دشمن ہیں، پاکستانی عوام دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی افواج پاکستان اور عوام کی ہو گی۔
ایک عسکری تجزیہ کار کے مطابق آپریشن ضرب عضب نے زبردست و ہمہ گیر حملہ کر کے دہشت گردوں کو حیران و پریشان کر کے رکھ کر دیا اور عسکریت پسندوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی اور ان سے حملہ کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران یہ محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب تباہ ہو چکا ہے اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس دوران انہوں نے جو اِکا دُکا کارروائیاں کرنے کی کوشش کی ان میں انہیں مُنہ کی کھانا پڑی۔دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے نیٹ ورک تباہ کر دیئے گئے اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں، تو آج ان کی کمر ٹوٹ گئی، مُلک بھر میں پھیلا ہوا اُن کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا، وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر تِتر بتر ہو گئ۔اب دہشتگرد سافٹ تارگٹ کو نشانہ بنارہے ہیں۔
وزیراعظم نے کمانڈوز سے خطاب میں انہیں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دوٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کردیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اداروں کی پشت پر کھڑی ہے اور اس جنگ میں جیت کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، کیونکہ یہ نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر حال میں جیتنی ہے یہ ہماری معاشی اور معاشرتی زندگی کا مسئلہ ہے، یہ ہماری آئندہ نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔
چوروں ،ڈاکووں، قاتلوں ،ٹھگوں اور پاکستان و اسلام کے دشمنوں کا نام نہاد اتحادجو پاکستانی عوام،اسلام اور افواج پاکستان کے خلاف ہے ، اب بے معنی ہے اور اس سے دہشتگردوں کو کچھ حاصل نہ ہو گا۔ طالبان اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں اور ان کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ، ان دہشتگردوں کے قدم اب اکھڑ چکے ہیں اور یہ واپس نہ آنے کے ہیں۔ اس طرح کے اعلانات سے طالبان دہشتگرد اپنے حامیوں کے حوصلے بلند کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں اور یہ پراپیگنڈہ سٹنٹ کے سوا کچھ بھی نہ ہے۔
نامور سیکورٹی تجزیہ کار ریٹائرڈ بریگیڈیئر محمود شاہ کے مطابق یہ پیش رفت موجودہ صورتحال میں نہایت کم اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ٹی ٹی پی منظرعام پر رہنا چاہتی ہے اور وہ میڈیا کے ذریعے اپنی موجودگی کا پیغام بھیجنے کی کوشش کررہی ہے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ گروپ فوجی حملوں کے نتیجے میں منتشر ہوگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ طالبان تقسیم کا شکار ہیں، اور فضل اللہ اور خراسانی سمیت ان میں سے بہت سے افغانستان فرار ہوگئے تھے۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔
پاکستانی ریاست دہشتگردوں کے سامنے کبھی سرینڈر نہیں کرے گی.طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ طالبان کی دہشتگردی کی وجہ سے ملکی اقتصادیات کو اب تک ۱۰۰ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
طالبان ایک خطرناک ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور بے گناہوں کا ناحق خون بہا رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔
اسلام میں جہاد کاحکم ،باغیوں کی جنگجویانہ کارروائیاں اور سرگرمیوں کو روکنے اور دشمنان اسلام کی سرکوبی کے لئے دیا گیا ہے۔جہاد کا مقصد فتنہ ختم کو ختم کرنا اور امن کو قائم و بحال کرنا ہوتا ہے۔ جہاد، ظلم وبربریت اورانسان دشمنی کے خلاف ایک تحریک ہوتی ہے۔ اسلام نے جنگ کے دوران غیر مسلم عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور راہبوں کوقتل کرنے کی ممانعت کی ہے اور دوسرے واضع احکامات دئیے ہیں۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اسلام سلامتی کادین ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے برصغیر کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے والے بزرگان دین نے اپنے قول و فعل کے ساتھ بھائی چارے کو فروغ دیا۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں دہشت گردی نے لوگوں کا سکون تباہ کردیا ہے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اہل وطن پیار ومحبت کے پرچار کے ساتھ اخوت اور رواداری کو فروغ دیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اوراتحاد کی قوت سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کے عفریت کوہمیشہ کیلئے کچل دیں گے۔ملک کو دہشت گردی و انتہا پسندی کی لعنت سے پاک کر کے امن وسلامتی کا گہوارہ بنائیں گے۔
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کی آگ نے قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔ترقی کے سفر میں بھی دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے ۔پاکستان میں ایک پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے ہر پاکستانی کو اپنا، اپنا کردارادا کرنا ہے۔ ملک سے دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اجتماعی اقدامات کیے جارہے ہیں اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جنگ میں جیت انشاء اللہ 18کروڑ پاکستانی عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ پوری قوم کامتفقہ فیصلہ ہے اوراس مقصد کیلئے سنجیدہ کاوشیں بار آور ثابت ہونگی اورپاکستان ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنے گا۔آگ اورخون کی ہولی کھیلنے والوں کایوم حساب آگیا ہے۔ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنا ہر پاکستانی کی آواز ہے ۔دہشت گردوں نے ہمارے بزرگوں ،نوجوانوں،خواتین، بچوں، پاک فوج کے افسران و جوانوں،پولیس کے افسران و اہلکاروں اورعام پاکستانیوں کا بے دردی سے خون بہایا ہے ۔ پاک افواج جرأت اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔پوری قوم دہشت گردی کے عفریت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی حامی ہے۔
دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ آج دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کردیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔
جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔المائدۃ۔۳۲

Advertisements