طالبان نےلاہور گرجا گھروں پر خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی


news_image.php

طالبان نےلاہور گرجا گھروں پر خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو گرجاگھر وں کے باہریکے بعددیگرے دو خودکش حملوں میں ایک خاتون، ایک بچے اور دو پولیس اہلکار وں سمیت 17افراد جاں بحق اور 90زخمی ہوگئے ، خودکش حملوں سے پہلے فائرنگ بھی کی گئی، بیشترزخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ،کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے گروپ جماعت الحرار نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی، گرجا گھر وں میں خودکش حملوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مسیحی برادری کااحتجاج، بشپ آف پاکستان کی لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل ،مسیحی برادری نے3 روزہ جبکہ پنجاب حکومت نے ایک سوگ کا اعلان کر دیا، مشنری اسکولز بند رہیں گے، اور تمام گھرجاگھروں میں دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی ۔

Pakistan

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں واقع کرائسٹ اور کیتھولک گرجا گھروں میں اتوار کی خصوصی عبادات جاری تھیں کہ 2 خودکش حملہ آوروں نے اندر جانے کی کوشش کی تاہم وہاں سیکیورٹی پر مامور افراد نے انہیں روک لیا جس پر انہوں نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لیاجس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور90زخمی ہوگئے ۔واقعہ کے بعدامدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں اورزخمیو ں اورلاشوں کو لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیاگیا جہاں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو طلب کر لیا گیا ۔ ایم ایس سعید صوبن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ90 زخمیوں میں سے 40 افراد شدید زخمی ہیں۔انھوں نے تصدیق کی کہ جا ں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون، ایک بچہ اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

blast

پرنسپل جنرل ہسپتال نے بتایا کہ کئی زخمیوں کو گولیاں لگی ہیں جبکہ کئی کے جسموں پر جلنے کے زخم بھی ہیں۔ گرجا گھر کے متصل دکان سے بھی ایک شخص کی لاش ملی ہے ۔ جیسے ہی دھماکا ہوا ہر طرف چیخ وپکار مچ گئی۔ لوگ جان بچانے کیلئے بھاگ اٹھے اور چرچوں کی دیواریں پھلانگتے رہے۔ واقعے کے زخمی اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے پہلے فائرنگ بھی کی گئی۔ مرنے والوں میں سے بعض کی شناخت ہوگئی جن میں قیصر آکاش، ندیم، صادق، مختار، ہیڈ کانسٹیبل یاور حیات، رمضان، الیاس بھٹی، عنبرین بی بی شامل ہیں ۔ جنرل ہسپتال میں بھی کہرام برپا رہا اور لوگ دیوانہ وار اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے رہے۔ جاں بحق اور زخمیوں کے ورثا دھاڑیں مارکر روتے رہے۔ غم سے نڈھال خواتین اپنے پیاروں کے جانے سے بے حال ہو گئیں۔ ہسپتال میں خون کا عطیہ دینے والوں کا بھی تانتا بندھ گیا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ دونوں دھماکے خودکش تھے۔ کیتھولک چرچ کے پادری نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے چرچ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی پر مامور گارڈز نے جب ان کو روکا ہے تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے لاہور میں یوحنا آباد کے علاقے میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کراچی میں حسن سکوائر کے علاقے عیسی نگری میں مسیحی برادری سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے سڑکوں پر نکل ٹائر جلائے اور ٹریفک معطل کر دی۔ یاسین آباد میں بھی مسیحی برادری نے احتجاج کیا اور سڑک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔ سیالکوٹ میں بھی مسیحی برادری نے واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔کوئٹہ میں بھی مسیحی برادری نے احتجاج کیا
http://dailypakistan.com.pk/front-page/16-Mar-2015/203585

Pakistan
یوحنا آباد دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت مسیحی برادری کے غم میں برابر کی شریک ہے جبکہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔میڈیا کو جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ملک کا ناسور بن چکا ہے جبکہ 18 کروڑ عوام نے دہشت گردوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا ہدف پاکستان اور ملک کی عوام ہیں جبکہ حکومت عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا آخری ٹھکانے تک پیچھا کریں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت پر عزم ہے کہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارہ پایا جائے اور عوام کا اعتماد ساتھ ہو تو اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

Pakistan
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے یوحنا آباد میں گرجا گھروں پر ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے اقلیتی برادری کو نشانہ بنا کر بزدلانہ کاروائی کی ہے۔لندن سے جاری اپنے بیان میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت ایم کیو ایم اقلیتی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہے جبکہ ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے رہنماﺅں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ مسیحی برادری کی جانب سے ہونے والے دعائیہ اجتماعات میں شریک ہوں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں تاکہ مسیحی برادری کو احساس ہو سکے کہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ تنہاءنہیں ہیں بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

lahoreblast-church-Punjab_3-15-2015_178233_l
وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مسیحی برادری پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔سینیٹر اور وزیر پور ٹ و شپنگ کامران مائیکل کاکہنا تھا کہ دہشتگردی کی آج کی کاروائی پر بہت افسوس ہواملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ان کامزید کہنا تھا کہ احتجاج پر امن ہونا چاہیےاور لوگوں کو پر تشدد کاروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔کامران مائیکل کاکہنا تھا کہ پاکستان میں تمام مذاہب دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اورقوم دہشتگردوں کا مقابلہ دلیری سے کر رہی ہے۔

APTOPIX Pakistan

550596ca2a2d2
لاہور کے چرچوں پر حملہ  طالبان دہشتگردوں کا ،طالبان کے دو اہم کمانداروں کی افغانستان میں ہلاکت کا بدلہ ہو سکتا ہے کیونکہ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ ان دونوں کی ہلاکت کی پیچھے فوج کا ہاتھ ہے . طالبان دہشتگردوں کے اوغام کے بعد ان کی یہ  پہلی سافٹ ٹارگٹ کاروائی ہے ۔ یہ حملہ طالبان دہشت گردوں نے عیسائی برادری پر نہیں ،پاکستان پر  کیا ہے،کیونکہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کی جانوں اور ان کی عبادتگاہوں کی حفاظت کرنا ریاست اور مسلمانوں کافرض ہے۔اسلام اس امر کی بھی گارنٹی دیتا ہے کہ اسلامی مملکت میں تمام اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی عبادات سر انجام دے سکیں اور زندگی گزار سکیں۔ اسلامی ریاست کی نگاہ میں ایک مسلم اور غیر مسلم دونوں برابر ہوتے ہیں۔ طالبان دہشتگرد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام اور تنہا کرنے اور اقتصادی طور پر مفلوج کرنےکے درپے ہیں۔

PAKISTAN-UNREST-RELIGION-CHRISTIANS
دہشت گردی اس وقت ہمارے ملک کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ہے اور یہ ملک کی معاشی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔
دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں ۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

A woman cries after her brother was injured in a suicide attack on a church, at a hospital in Lahore

1426446394-christians-protest-against-twin-blasts-targeting-churches-in-lahore_7122838
“ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔ پاکستانی طالبان اور فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث مسلح گروہ خونریزی، قتل و غارت، عسکریت پسندی اور شدت پسندی چھوڑ کر اور ہتھیار پھینک کر امن و سلامتی کی راہ اختیار کریں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا بند کر دیں کیونکہ ان کا دہشت گردانہ طرزعمل اسلام کے بدنامی، پاکستان کی کمزوری اور ہزاروں گھرانوں کی بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستانی طالبان جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول(صلعم) کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں.کسی بھی عبادت گاہ پر حملہ اسلامی شریعہ کی خلاف ورزی ہے۔ ﺍﻗﻠﯿﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﻧﺎﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﮯ ﻣطابق ﮨﮯ۔” رسول اللہ نے غيرمسلموں کی جان، مال عزت اور آبرو کی مکمل حفاظت کرنے کا حکم ديا ہے۔ اسلامی معاشرے ميں اقليتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ قرآن ميں بھی کسی ايک انسان کا قتل پوری انسانيت کے قتل کے مترادف قرار ديا گيا ہے۔
’’خبردار! جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اُس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔‘‘
ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج، باب في تعشير، 3 : 170، رقم : 3052
جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہی حقوق ذمیوں کو بھی حاصل ہوں گے، نیز جو واجبات مسلمانوں پر ہیں وہی واجبات ذمی پر بھی ہیں۔ ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کی طرح محفوظ ہے اور ان کے مال ہمارے مال کی طرح محفوظ ہے۔(درمختار کتاب الجہاد)
امام ابو یوسف اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھتے ہیں کہ عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں تعزیرات اور دیوانی قانون دونوں میں مسلمان اور غیر مسلم اقلیت کا درجہ مساوی تھا۔
ابو يوسف، کتاب الخراج : 187
’’غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ اور احکام کے ایک یہ بھی تھا کہ :
وامنع المسلمين من ظلمهم والإضراربهم واکل اموالهم إلا بحلها.
’’مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے منع کرنا۔‘‘
ابويوسف، کتاب الخراج : 152
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ ایک مسلمان نے ایک غیر مسلم کو قتل کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قصاص کے طور پر اس مسلمان کے قتل کیے جانے کا حکم دیا اور فرمایا :
أنا أحق من أوفي بذمته.
’’غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے۔‘‘
اسلامی ریاست میں تعزیرات میں ذمی اور مسلمان کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرائے یا مسلمان کا مال ذمی چرائے دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہوگی۔
ذمیوں کے اموال اور املاک کی حفاظت بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جوغیر مسلم اسلامی ریاست میں قیام پذیر ہوں اسلام نے ان کی جان، مال، عزت وآبرو اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔اور حکمرانوں کو پابند کیا ہے کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے مساوی سلوک کیا جائے۔ ان غیر مسلم رعایا(ذمیوں) کے بارے میں اسلامی تصوریہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پناہ میں ہیں۔ا س بناء پر اسلامی قانون ہے کہ جو غیر مسلم، مسلمانوں کی ذمہ داری میں ہیں ان پر کوئی ظلم ہوتو اس کی مدافعت مسلمانوں پر ایسی ہی لازم ہے جیسی خود مسلمانوں پر ظلم ہوتو اس کا دفع کرنا ضروری ہے۔(مبسوط سرخسی:۱/۸۵(
آئین پاکستان بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اقلیتوں کا قتل کر کے اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کر کے ہم دنیا بھر میں پاکستان کی رسوائی و بدنامی اور جگ ہنسائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

Advertisements