تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ مارے گئے


index

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا  فضل اللہ مارے گئے
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سکیورٹی فورسز کیطرف سے وادی تیرہ میں جیٹ طیاروں کی مدد سے کی گئی کاروائی میں مولوی فضل اللہ ہلاک ہو گیا ہے ۔یہ خبر نجی ٹی وی چینل 92نیوز نے نشر کی جس میں ان کا کہنا ہےسکیورٹی ذرائع کی طرف سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ ملا فضل اللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔مولوی فضل اللہ نے حکیم اللہ محسودکے بعد تحریک طالبان پاکستان کی قیادت سنبھالی تھی۔تاحال آزاد ذرائع اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکے۔

http://dailypakistan.com.pk/waziristan/23-Mar-2015/205804

پاک فوج کی جانب سے وادی تیراہ میں کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ مارا گیا۔ عسکری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاک فوج کی جانب سے وادی تیراہ میں کارروائی کی گئی جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا مطلوب سربراہ ملا فضل اللہ مارا گیا۔ یوم پاکستان کے موقع پر پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی جس میں دہشت گرد حافظ گل بہادر کے زخمی ہونے کی بھی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں۔
http://qudrat.com.pk/pakistan/23-Mar-2015/54920
تاہم ترجمان جماعت الاحرار کا کہنا ہے کہ ملافضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات بے بنیاد ہیں، ہلاکت سے متعلق علم نہیں۔ اس سے پہلے میڈیا ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل الله ہلاک ہوگئے ہیں، تاہم عسکری اور آزاد ذرائع سے ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
http://beta.jang.com.pk/21427

گورنر خیبرپختون خوا سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ تیراہ آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ۔ تاہم حقائق ایک دو دن میں سامنے آئیں گے۔گورنر ہاؤس پشاورمیں میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے گورنر سردار مہتاب احمد خان کا کہنا تھاکہ طالبان کی اپنی صفوں میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر اب طالبان کےلئے حرکت کرنا مشکل ہوگیاہے۔

mullah fazlullah

خس کم جہاں پاک۔ بالآخر ہزاروں بے گناہ مردوں،عورتوں اور بچوں کا  بے رحم قاتل اپنے انجام کو پہنچا۔  ملا فضل اللہ 1974 میں سوات میں پیدا ہوا۔ ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی بابوکارخیل شاخ سے ہے اور وہ ایک پاؤں سے معمولی معذور بھی تھے۔ انہوں نے تین درجوں تک دینی تعلیم  حاصل کی ہے تاہم وہ زیادہ تر اپنے سسر صوفی محمد کی صحبت میں رہے ۔

imagesbb
ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا جس نے نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں اسکول کے 132 بچوں سمیت 148 افراد شہید ہوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ ملالہ یوسفزئی اور میجر جنرل ثنا اللہ نیازی پر حملے کے ذمہ دار بھی ہیں۔ ان کو ملا ریڈیو بھی کہا جاتا ہے ۔ وہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے بانی صوفی محمد کےد اماد بھی تھے۔
پاکستان میں طالبانائزیشن  برائیوں  اور خرابیوں کی جڑ ہے اوراس ملک کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے ۔  انتہا پسندی اور اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہ ہے۔ طالبان سمیت کو ئی بھی مسلح تحریک ملک کے لئے فائدہ مند نہ ہے  اور نہ ہی ہو سکتی ہے۔ دہشت گرد ایک زہریلے سانپ کی مانند ہوتے ہیں جو انسانوں کا ہر حال میں دشمن ہوتا ہے اور اس سانپ کا علاج سوائے اس سانپ کے سر کو کچلنے کے علاوہ اور کچھ نہ ہوتا ہے۔ لہذا دہشت گرد کسی عوامی ہمدردی کے مستحق نہ ہوتے ہیں۔ دہشت گرد سانپوں کی طرح کسی کے دوست نہیں ہوسکتے اور دہشت گرد صرف اپنے مفادات کے دوست ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھ معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے ۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی ،بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔
طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ شہری اوردیہی علاقوں سے ہر قیمت پر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ‘شدت پسندوں پر زمین تنگ کردی ‘پاک فوج آپریشن کوجلد منطقی انجام تک پہنچائے گی‘خفیہ مقدمات پر چھپے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں‘ دہشت گرد جہاں بھی چھپیں گے انہیںڈھونڈ کر نشانہ بنایا جائے گا‘ دہشت گردی ختم کر کے متاثرہ علاقوں کی رونقیں بحال کی جائیں گی۔

Advertisements