طالبان کمانڈر ملا قاسم خراسانی اور عمر خالد خراسانی ہلاک


 طالبان کمانڈر ملا قاسم خراسانی اور عمر خالد خراسانی  ہلاک

news-1427300018-8601_large

پاکستان تحریک طالبان جماعت الاحرار کے کمانڈر ملاقاسم خراسانی اور عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم کالعدم تنظیم کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک طالبان نے کالعدم تنظیم کے امیر اور نائب امیر کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان کمانڈر اسد آفریدی کو قائم مقام امیر مقرر کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان جماعت احرار کے امیر اور نائب امیر افغان آپریشن میں زخمی ہوئے تھے جس کے بعد اب ان کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تاہم ٹی ٹی پی نے دونوں کمانڈوں کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے دونوں کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے اور طالبان کمانڈر اسد آفریدی کو قائم مقام امیر مقرر کر دیا ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/international/25-Mar-2015/206711

دہشت گردں کا کام تمام ہونا پاکستان اور پاکسانی شہریوں کے مفاد میں ہے۔ ہزاروں بے گناہ پاکستانی مردوں ،عورتوں اور بچوں کے یہ سفاک،ظالم اور بے رحم قاتل اور انتہائی مطلوب دہشتگرد بالآخر اپنے انجام کو پہنچے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ، مظلوم کی بد دعا اور اللہ کے عرش کے درمیان کوئی پردہ اور حجاب نہیں. مظلوموں کی بد دعائیں ظالم طالبان کو لے ڈوبیں ۔ ظلم کیخلاف آواز بلند نہ کرنا، ظالم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےاوراس سے دنیا میں ظلم کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔ دہشت گرد ایک زہریلے سانپ کی مانند ہوتے ہیں جو انسانوں کا ہر حال میں دشمن ہوتا ہے اور اس سانپ کا علاج سوائے اس سانپ کے سر کو کچلنے کے علاوہ اور کچھ نہ ہوتا ہے۔ لہذا دہشت گرد کسی عوامی ہمدردی کے مستحق نہ ہوتے ہیں۔ دہشت گرد سانپوں کی طرح کسی کے دوست نہیں ہوسکتے اور دہشت گرد صرف اپنے مفادات کے دوست ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھ معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔
مبصرین کے خیال میں طالبان کے ان لیڈروں کے چلے جانے سے طالبان کی جدو جہد فوری طور پر کمزور پڑ جائے گی۔ تنظیم کے اندر مختلف گروپ ،جانشینی پر ،آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیں گے جس سے تنظیم کمزور پڑ جائے گی اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گی۔ مزید ٹکروں میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یہ لوگ انتہائی بدترین دہشتگرد اور پاکستان کے دشمن تھے جس نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف ،نام نہاد ،اعلان جہاد کیا تھا۔ بلا شبہ ان کا مارا جانا طالبان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے.
دہشت گرد تنظیموں کا ڈہانچہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح ان کے لیڈروں کے گرد ہی گھومتا ہے جو زندگی میں تنظیم کو متحد و منظم رکھتے ہیں مگر ان کے جانے کے بعد ، تنظیم کی لیڈری کے بارے میں تنازعات شروع ہوتے ہیں اور تنظیم کے اندر مختلف گروپ آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں جس سے تنظیم کمزور پڑ جاتی ہے اور اپنی سرگرمیاں رکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ ہی حال ظالمان طالبان کا ہو گا۔
وزیر اعظم نے کہا ہےدہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے زبر دست نتائج سامنے آرہے ہیں اور دہشت گردی کیخلاف صحیح معنوں میں آپریشن ہورہاہے ۔ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ حکومت نے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کررکھا ہے ۔ ملک کو دہشتگردی سے نجات ہماری اولین ترجیح ہے۔

Advertisements