دہشتگردی اور اسلام


دہشتگردی اور اسلام
صدر پاکستان ممنون حسین نے کہا ہے کہ کہا ہماری بدقسمتی ہے کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اسلام کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ دہشتگردوں نے نوجوانوں کو گمراہ کر کے غلط راستے پر ڈالا ہے۔ صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔اس لیے انہیں شکست دینے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہو گا تاکہ ہم اس منفی سوچ کو شکست فاش دے سکیں۔انہوں نے علماءکرام اور مذہبی رہنماﺅں سے درخواست کی کہ وہ مذہبی ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔
طالبان پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں اور اسلام کا نام اٹھتے بیٹھتے استعمال کرتے ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی انتہائی مشکوک اور ناقابل اعتبار ہے۔ طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔
طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹)
حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں۔ دہشتگردگروپس طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔
ذاتی بدلہ لینا قبائلی روایات اور پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہیں ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے. دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
طالبان ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں،عورتوں اور بچوں پر خود کش حملے کرنے والے اور بم دہماکے کرنے والے،طالبعلموں اور اساتذہ کو قتل کرنے والے،سکولوں اور مساجد اور جنازوں پر حملے کرنے والے ، طالبان دہشتگرد، گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔
تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ ہمیں متحد ہو کر نہ صرف دہشتگردی کو ختم کرنا ہے بلکہ دہشتگردی کے مائند سیٹ کو بھی ختم کرنا ہے۔

Advertisements