کالی مرچ… مصالحوں کی ملکہ


daa9d8a7d984db8c-d985d8b1da86-d985d988d9b9d8a7d9bed8a7-daa9d985-daa9d8b1d986db92-d985db8cdaba-d985d981db8cd8af

کالی مرچ… مصالحوں کی ملکہ

(Jaleel Ahmed) Hyderebad

شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جس کے کچن میں کالی مرچ بطور مصالحہ موجود نہ ہو۔ گھر کے کچن سے لیکر بڑے بڑے ہوٹلوں والے اور ریڑھی پر کھانے بیچنے والے بھی کھانوں میں کالی مرچ استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان پر ہی کیا موقوف پوری دنیا میں کالی مرچ ذائقہ بڑھانے حتیٰ کہ اسے غذاؤں میں اہم جزو کی حیثیت میں استعمال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مصالحوں کی ملکہ کہا جاتا ہے۔

news-1404927169-6674

کالی مرچ صدیوں سے استعمال ہورہی ہے اس کے پتے نوکدار اور پانچ سے چھ انچ تک لمبے اور تین انچ تک چوڑے ہوتے ہیں۔کالی مرچ قبل از مسیح سے کھانوں میں ناگوار بو ختم کرنے اور ادویاتی استعمالات میں بلغم کے اخراج اور تحریک پیدا کرنے کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ یہ استعمالات آج بھی ہورہے ہیں قدیم یونانی اور رومن تہذیبوں میں کالی مرچ استعمال کرنے کے آثار ملتے ہیں۔ یہ پودا یوں تو دنیاکے تمام نمایاں ممالک میں کاشت ہورہا ہے لیکن یورپ اور برصغیر میں اس کی کاشت بکثرت رہی ہے۔

images
کھانے کا ایک چمچہ کالی مرچ کا پاؤڈر تلوں کے تیل میں فرائی کرلیا جائے اور اسے اس وقت تک فرائی کیا جائے جب تک سارا مواد کالا نہ ہوجائے۔ اس کے بعد اس تیل کو اس جگہ پر جہاں درد ہو رہا ہو وہاںمالش کی جائے تو چند ہفتوں میں یہ مرض جاتا رہے گا۔

Black_Pepper_-_Raw

طبی فوائد: کالی مرچ اعصابی نظام کو تقویت دیتی ہے۔ اس کا ذائقہ تلخ تیز اور محرک ہے۔ ہاضمہ درست کرتی اور بلغم خارج کرتی ہے۔ کالی مرچ سے حاصل کردہ روغن مختلف ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ کالی مرچ کھانے سے معدے اور لعاب دہن کی رطوبتیں بڑھ جانے سے بھوک بڑھ جاتی ہے۔ البتہ معدہ کے السر میں مبتلا افراد کو کالی مرچ استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ اسے درج ذیل امراض کے لیے بطور دوا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بدہضمی: معدہ کی گرانی اور دیگر وجوہ کی بنا پر جب معدہ بدہضمی کا شکار ہوجائے توایک چھٹانک کالی مرچ پیس کر اس کا پاؤڈر بنالیا جائے اور اس میں شکر کا شیرہ شامل کرکے کھلایا جائے تو بدہضمی کی شکایت ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ جنہیں تیزابیت کی شکایت ہے وہ یہ نسخہ استعمال نہ کریں۔ بدہضمی ختم کرنے کیلئے ایک دیسی نسخہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چائے کے چمچہ کا چھٹا حصہ کالی مرچ کے سفوف کو لسی میں ملا کر پیا جائے تو بدہضمی اور معدے کا بوجھل پن ختم ہوجاتا ہے۔

اعصاب کی درد اور کالی مرچ کا تیل
جوڑوں اور اعصاب کے درد میں مبتلا افراد کیلئے ایک کارآمد نسخہ یہ ہے کہ کھانے کا ایک چمچہ کالی مرچ کا پاؤڈر تلوں کے تیل میں فرائی کرلیا جائے اور اسے اس وقت تک فرائی کیا جائے جب تک سارا مواد کالا نہ ہوجائے۔ اس کے بعد اس تیل کو اس جگہ پر جہاں درد ہو رہا ہو وہاںمالش کی جائے تو چند ہفتوں میں یہ مرض جاتا رہے گا۔ کالی مرچ اور تلوں کے تیل کے آمیزے سے شریانیں پھیل جاتی ہیں جس سے درد کافور ہوجاتا ہے۔

نزلہ زکام
پرانے زمانے میں ہی نہیںموجودہ دور میں بھی دیہاتوں اور شہروں کے روایتی خاندانوں میں بزرگ ایسے افراد کو جنہیں سردی کی وجہ سے نزلہ زکام ہوگیا ہو انہیں دودھ میں بادام اور خشخاش کے ساتھ‘ کالی مرچ ابال کر پلاتے ہیں تو نزلہ زکام ختم ہوجاتا ہے۔ شدید نزلہ‘ زکام میں تیس گرام کالی مرچ کا پاؤڈر چٹکی بھر سفوف ہلدی کو دودھ میں ابال کر تین روز ایک ایک بار پلایا جائے تو اس مرض سے نجات مل جاتی ہے۔

مردانہ کمزوری اور کالی مرچ کا کمال
کالی مرچ کے اجزاء میں محرک باہ خصوصیات شامل ہیں ایسے لوگ جو روزانہ ایک گلاس دودھ میں چار دانے بادام اور کالی مرچ کے چھ دانے ایک ساتھ کھایا پیا کریں تو ان کی مردانہ قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

حافظہ میں اضافہ کیلئے
کالی مرچ دماغی و اعصابی نظام کی اصلاح کرتی ہے۔ چائے کے ایک چمچہ شہد میں چٹکی بھر کالی مرچ کا سفوف شامل کرکے شہد چاٹ لیا جائے تو ذہنی قوتوں میں اضافہ ہوگا۔ ایسے افراد جو نسیان کے مرض میں مبتلا ہیں وہ ذہنی ابتری سے بچ سکتے ہیں۔
http://m.hamariweb.com/articles/detail.aspx?id=52415
کالی مرچ قدرتی طور پر ملنے والے امرت دھاروں میں سے ایک ہے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کیلئے پیدا کر رکھے ہیں ۔ کالی مرچ کا طِبّی استعمال ہزارہا سالوں سے انسان کے علم میں ہے جسے آج کا سائنس زدہ انسان پسِ پُشت ڈال چکا ہے ۔ کالی مرچ انسانی جسم کو شیشہ گر دھات [mangnese] ۔ حیاتین ک [vitamin K] ۔ حدید [iron] ۔ ریشہ [fibre] وغیرہ مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ کالی مرچ کے مناسب مقدار میں استعمال سے نظامِ ہضم کی خرابیاں کو دُور ہوتی ہیں اور آنتیں صحتمند رہتی ہیں ۔ کالی مرچ معدے کو برجستہ کرتی ہے جس کے نتیجہ میں خاص قسم نمک کے تیزاب کی مہیا ہوتی ہے جو ہاضمہ میں مدد دیتی ہے ۔ اس تیزاب کی کمی کی وجہ سے کھانا ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے جس کے نتیجہ میں سینے کی جلن اور تبخیری اثرات مرتب ہوتے ہیں جو نہ صرف تکلیف کا باعث ہوتے ہیں بلکہ شرمندگی کا بھی ۔ ذرا غور کیجئے کہ کالی مرچ کتنی اچھی دوست ہے ۔ کالی مرچ کی جلد میں یہ خصوصیت ہے کہ چربی کے خُلیوں کو توڑتی ہے اور مجتمع نہیں ہونے دیتی ۔ چنانچہ کالی مرچ کے مناسب استعمال سے آدمی موٹاپے کا شکار نہیں ہوتا اور چاک و چوبند رہتا ہے ۔ کالی مرچ کئی ادویات میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔ پیس کر خالص شہد کے ساتھ لی جائے تو زکام کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے ۔ کالی مرچ کی تمام اقسام ایک جیسا اثر نہیں رکھتیں گو کہ وہ ایک ہی طرح کے پودے سے حاصل کی جاتی ہیں ۔ مزید اس کے تیار کرنے اور سوکھانے کے طریقے بھی اس کی خوائص پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جو کالی مرچ سیاہ رنگ کی ہوتی ہے وہی بہترین ہے ۔ کالی مرچ خریدتے وقت پنساری سے کہیئے کہ سب سے عمدہ کالی مرچ چاہیئے تو وہ بغیر ملاوٹ والی صحیح کالی مرچ دے گا ۔ اس کی قیمت گو زیادہ ہو گی ۔ چائے کی طرح کالی مرچ بھی مشرقی دنیا کی پیداوار ہے ۔ یہ زیادہ تر انڈونیشیا اور ہندوستان میں پائی جاتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں جو کالی مرچ استعمال ہوتی ہے وہ سب سے گھٹیا قسم کی ہوتی ہے جس کی وجہ شاید اس کا ارزاں ہونا ہے ۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی کالی مرچ انڈونیشی مرچ سے قدرے موٹی ہوتی ہے لیکن انڈونیشی کالی مرچ خصوصیات کے لحاظ سے بہترین ہے ۔

http://tibbiilaaj.blogspot.se/2015/01/blog-post_8.html

Advertisements

“کالی مرچ… مصالحوں کی ملکہ” پر ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں۔