سبز چائے کے فوائد


index

سبز چائے کے فوائد
چائے دنیا بھر میں ،پانی کے بعد ، لوگوں کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والاہر دلعزیز مشروب ہے۔  ہر روزدنیا بھر میں کروڑوں لوگ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں مگر تحقیق بتاتی ہے کہ سبز چائے کے فوائد انگنت ہیں۔چین ،افغانستان اور صوبہ صوبی خیبر پختونخواہ میں سبز چائے کا بہت زیادہ  استعمال ہوتا ہے۔ سبز چائے ہمارے باورچی خانوں کا لازمی جزو ہوتی ہے ۔

imagesvv

سبز چائے کے فوائد کے حوالے سے جاپان میں کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرین ٹی پینے والے عمر رسیدہ افراد اپنے ہم عمر افراد کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ چست ہوتے ہیں اور کم ہی کسی کے محتاج ہوتے ہیں۔

index
جاپان میں سبز چائے کے استعمال کے حوالے سے کرائے گئے اس جائزے میں ان عمر رسیدہ افراد کو شامل کیا گیا، جو روزانہ گرین ٹی کے کئی کپ پیتے ہیں۔ سبز چائے میں ایسے نامیاتی اجزاء موجود ہوتے ہیں، جو مدافعتی نظام کے لیے اہم سیلز کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ محققین کولیسٹرول اور کینسر کے مریضوں پر بھی سبز چائے کے اثرات کے حوالے سے تحقیق کر چکے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک امریکی طبی جریدے میں شائع ہونے والے اس نئے جائزے میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا سبز چائے استعمال کرنے والے افراد میں بڑھاپے کے وقت کمزور اور معذور ہونےکے خدشات کم ہوجاتے ہیں؟
سبز چائے موٹاپا کم کرنے کے عمل میں جسم کے میٹابولک کے ذریعے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ سبز چائے میں موجود کیفین اس کے علاوہ فیٹی ایسڈ کے استعمال سے جسم کی کارگردگی بڑھاتی ہے۔ سبز چائے کے استعمال سے وزن گھٹانے میں کافی مدد ملتی ہے۔ جسکی وجہ سے جسمانی نظام کو مزید چست و چالاک بنایا جا سکتا ہے۔ سبز چائے ہاضمہ درست رکھنے اور امراض قلب میں مفید ہے، امریکا میں کی گئی تحقیق کے مطابق سبز چائے میں کیفین کی انتہائی کم مقدار اور بہت بڑی مقدار میں اینٹی اوکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے صحت کیلئے اس کا استعمال فائدہ مند ہے۔

22965691_4727d04827_o
سبز چائے میں امونیم ایسڈ موجود رہتا ہے جو انسان کو ڈپریشن سے دور رکھتا ہے. سبزچائے کے کیمیائی تجزیے میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس میں شامل کیمیائی عنصر جسے EGOG بھی کہا جاتا ہے خون میں نئے ذرات پیدا کر تاہے اس وجہ سے جسم میں کینسر اور ٹیو مر پنپ نہیں سکتا۔طبی جریدے مالیکیولر نیوٹریشن اینڈ فوڈ ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سبز چائے میں ایک ایسا جز موجود ہوتا ہے جو منہ کے کینسر کا سبب بننے والے خلیات کا خاتمہ کرتا ہے۔

bigstock-Green-tea-leaf-isolated-on-whi-42919201
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبز چائے میں ای جی سی جی نامی ایک جز پایا جاتا ہے جو عام خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتا تاہم کینسر کے خلیات کو منہ سے ختم کردیتا ہے.
سبز چائے آنکھوں کے لئے بھی مفید ہے۔۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطا بق سبز چا ئے آ نکھوں کے انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔
چینی تحقیق کے مطا بق سبز چا ئے میں پا ئے جا نے والے اجزاء آ نکھ میں انفیکشن پیدا کرنے والے خلیات کو ختم کر دیتے ہیں اور اس کا با قا عدہ استعمال مو تیا کی بیما ری کے خطرے کو بھی کم کر دیتا ہے ۔سبز چائے میں موجود عنصر آنکھوں کے پٹھوں میں جاکر انہیں مضبوط بناتے ہیں گلوکومہ اور دوسری آنکھوں کی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور نظر کو بہتر بناتی ہے۔ سبز چائے سوجی ہوئی آنکھوں کے لیے سکون بخش ہے جو آنکھوں کی سوزش کو ختم کرتی ہے اگر2 سبز چائے کے بیگز کو گرم پانی میں 3 سے 5 منٹ تک بھگو کر پھر ٹھنڈا کرکے انہیں آنکھوں پر رکھا جائے تو یہ عمل آنکھوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔

imagesmmm
سبز چائے پارکنسن اور الزامرز کے مریضوں کےلئے بھی اچھی ہے کیونکہ یہ کم عرصہ میں دماغ کی صلاحیت میں اضافہ کر دیتی ہے اور سبز چائے میں موجود catechin کیٹیچن کا عنصر مفید ہے۔۔ کیفین کے بغیر کیپسول بھی بازار سے مل جاتے ہیں،جن کا استعمال بہتر ہے۔

imagesgg

آجکل جوہر سبز چائے

green tea extract

کے کیپسول مارکیٹ سے مل جاتے ہیں۔ جو کہ بالغ آدمیوں کےلئے ۱۰۰ ملی گرام سے لیکر ۵۰۰ ملی گرام کے کیپسول روزانہ استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
د وسری دوائیوں کے ساتھ استعمال کرنے کے لئے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔

images

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سبز چائے بلڈ پریشر یعنی فشار خون کے لیے عام طور پر تجویز کی جانے والی دوا کے اثرات کو کم کردیتی ہے۔ رائل فارماسیوٹیکل سوسائٹی کے ترجمان اور ڈاکٹر سوٹیرس اینٹونیو نے سبز چائے کے شوقین بلڈ پریشر کے مریضوں کو یہ مشورہ ہے کہ وہ دو پیالی چائے کے درمیان کم از کم چار گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔ نیز کیفین کی موجودگی کی وجہ سے سبز چائے کا زیادہ استعمال دل کی دہڑکن کو تیز کر دیتا ہے۔
اپنی چائے میں سبز الائچی، لیموں یا شہد شامل کرلیں تو سبز چائے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔
نوٹ: سبز چائے کےد یگر فوائد کے بارے میں افتخار اجمل بھوپال صاھب کے بلاگ سے استفادہ کریں۔ http://iftikharajmal.blogspot.se/2005/12/blog-post_25.html

Advertisements