دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک امن قائم نہیں ہو سکتا


Raheel-Sharif1-400x300

دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک امن قائم نہیں ہو سکتا

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، آپریشن میں ملنے والی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خیبر ایجنسی میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن میں اب تک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا اور آپریشن ٹو میں اب تک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن میں فوجیوں کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم پاک افواج کی قربانیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور آپریشن کو اسی رفتار سے ہی جاری رکھا جائے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک امن قائم نہیں ہو سکتا، اس موقع پر آرمی چیف کو بریفنگ دی گئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔

آپریشن سے ملک میں امن کا قیام ممکن بنایا جائے گا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ عوام دہشت گردوں کے خا تمہ میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق آرمی چیف کا بتایا گیا کہ خیبر ایجنسی میں اب تک 263 دہشت گرد ہلاک جب کہ متعدد ٹھکانے بھی تباہ کئے جاچکے ہیں جبکہ دہشت گردوں کو وادی تیراہ اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا گیا جبکہ خیبر آپریشن ٹو کے آغاز سے اب تک 35 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ بر یفنگ میں آرمی چیف کا بتایا گیا کہ خیبر ایجنسی کا تمام علاقہ غیر ملکی ساخت کی بارودی سرنگوں سے بھرا پڑا ہے۔ پاک فوج کے اسپیشل انجینیر یونٹس نے 392 سرنگوں کو ناکاراہ بنا دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کیخلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ کارروائیاں افغان بارڈرز کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکی ہیں دہشتگردوں کو کسی صورت بھی فرار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

http://qudrat.com.pk/pakistan/08-Apr-2015/56182

خیبرایجنسی میں سکیورٹی فورسزنے فضائی کارروائی میں 23 دہشتگردوں کوہلاک اور سات ٹھکانے تباہ کردیے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل وادی تیراہ میں گزشتہ شب سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملے جاری ہیں۔ کندوغریبی میں کی گئی کارروائی میں 16 دہشتگرد ہلاک اور ان کے 4 ٹھکانے تباہ ہوئے۔ مہربان کلے میں 7دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے اور ان کے 3 ٹھکانے تباہ کردیے گئے۔ ہلاک دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

http://beta.jang.com.pk/39007/
یہ بات درست ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ دہشتگردی کی موجودگی میں امن کے خیال کی حقیقت ایک واہمہ سے زیادہ نہ ہے کیونکہ امن اور دہشتگردی دو متضاد چیزیں ہیں۔دہشتگرد صرف طاقت کی زبان  سمجھتے ہیں کیونکہ لاتوں کے یہ بھوت باتوں سے ماننے والے نہ ہیں۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی آپریشنز کے باعث جنگجو حملوں میں ۲۳ فی صد کمی ہوئی اور اور ہلاکتوں میں کمی ۱۲ فیصد نوٹ کی گئی۔ فاٹا میں سال کی پہلی سہ ماہی میں حملوں میں کمی کا رجحان جاری رہا۔مارچ میں صرف سات حملے ہوئے۔ آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ناصر درانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سال کے نسبت رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں بڑی حد تک کمی ہوئی، صوبے میں 2015 کے پہلے 3 ماہ میں دہشت گردی کے کل 60 واقعات پیش آئے جب کہ 2014 میں اس عرصے میں ایسے واقعات کی تعداد 140 تک تھی، اسی طرح صوبے میں اس عرصے میں 54 افراد دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہوئے جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 179 تھی۔
بیان کے مطابق 2014 کے ابتدائی 3 ماہ میں 5 خودکش حملوں کے مقابلے میں رواں سال ایک ہی خودکش حملہ ہوا جس میں ملوث گروہ کی انسداد دہشت گردی کے محکمے نے نشاندہی بھی کرلی ہے، اس کے علاوہ سب سے زیادہ کمی دیسی ساختہ بموں یعنی آئی ای ڈیز کے دھماکوں میں ہوئی اور گزشتہ سال پہلے 3 ماہ میں جہاں 74 دیسی ساختہ بموں کے دھماکے ہوئے وہیں رواں سال اس عرصے میں ان کی تعداد صرف 22 رہی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اورمتعلقہ ادارے یکسو ئی سے آگے بڑھ رہے ہیں اوردہشت گردوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑی جارہی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اورہر پاکستانی ملک کو دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کی لعنت سے پاک کرنے کاپختہ عزم کرچکاہے۔پاکستان میں دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کیلئے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔انشاء اللہ ملک و قوم کے اتحاد سے دہشت گردی کے ناسور کا جلد خاتمہ ہو جائے گا۔
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کی آگ نے قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔ترقی کے سفر میں بھی دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے ۔ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کرکے بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ایک خوشحال، پرامن اورفلاحی ریاست بنایا جائے گا۔
دہشت گردی کا خاتمہ پوری قوم کامتفقہ فیصلہ ہے اوراس مقصد کیلئے سنجیدہ کاوشیں بار آور ثابت ہونگی اورپاکستان ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنے گا۔آگ اورخون کی ہولی کھیلنے والوں کایوم حساب آگیا ہے۔ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنا ہر پاکستانی کی آواز ہے ۔دہشت گردوں نے ہمارے بزرگوں ،نوجوانوں،خواتین، بچوں، پاک فوج کے افسران و جوانوں،پولیس کے افسران و اہلکاروں اورعام پاکستانیوں کا بے دردی سے خون بہایا ہے ۔ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے،پاک فوج پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آگے بڑھ رہی ہے۔پاک افواج جرأت اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔
جو شخص کسی نفس کو …. کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔
(سورہ مائدہ ، آیت ۳۲)

Advertisements