فاروق زدران ،حقانی نیٹ ورک کمانڈر مارا گیا


فاروق زدران ،حقانی نیٹ ورک کمانڈر مارا گیا
حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر ، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کا سربراہ فاروق زدران پاک فوج کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اہم کمانڈر ز کو گرفتار کر لیا گیا ۔ سیکورٹی زرائع کے مطابق فاروق زدران اپنے ساتھیوں سمیت شمالی وزیرستان سے جنوبی وزیرستان فرار ہو رہا تھا کہ سرکنڈا میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہو گیا۔ جبکہ فاروق زدران کے متعدد ساتھی گرفتار ہو گئے ۔

news-1429208168-1354_large

پاک فوج نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد میں اسرار احمد، رحیم گل، عابد خان، گل محمد، محسن، امیر اللہ، ناصر دین، حزب اللہ، خان ذلا خان شامل ہیں۔
ذدران کا بھائی سنگین زدران جو کہ حقانی نیٹ وک کا چیف کمانڈر تھا ،ستمبر ۲۰۱۳ میں ایک ڈرون حملہ میں شمالی وزیرستان میں مارا گیا تھا۔
http://www.rferl.org/content/haqqani-leader-killed-by-pakistani-sources-south-waziristan-/26962861.html

safe_image.php
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔
خودکش حملے اور دہشتگردی اسلام میں حرام ہے۔اسلام میں ایک بے گناہ کا قتل تمام انسانیت کا قتل تصور ہوتا ہے۔ چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کو پھیلا رہے ہیں اور عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ کوئی اچھا یا برا دہشتگرد نہیں ہوتا ، تمام دہشت گرد برے ہوتے ہیں۔ پاکستان تمام دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کر رہا ہے۔ پاکستانی قوم دہشت گردی کیخلاف متحد ہے اور اس کو ختم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشتگردنہیں ہوتا، دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی جارہی ہے، دہشتگردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان جامع طریقہ کارہے۔

دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. مٹھی بھر دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ۔
دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ملک میں امن کا دور دورہ ہوگا اور خوشحالی و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جس کے ثمرات تمام پاکستانیوں کو پہنچیں گے۔

Advertisements