جلال آباد خودکش دہماکہ،37 افراد ہلاک


imagesvvv

جلال آباد خودکش دہماکہ،37 افراد ہلاک
افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں ایک نجی بنک کے باہر خودکش دھماکہ کے نتیجے میں بچوں سمیت 37 افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوگئے۔ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور انکے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل سوار خودکش حملہ آور نے بنک کے باہر خود کو اڑا لیا۔ زخمیوں کو ریسکیو اہلکاروں نے ریسکیو کر کے قریبی ہسپتال منتقل کردیا جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ طالبان نے ملوث ہونے کی تردید کی جبکہ داعش نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

Afghan men carry a man injured in a bomb blast to a hospital in Jalalabad

پولیس حکام کے مطابق دھماکہ ایک بنک کے باہر ہوا جہاں سرکاری ملازمین اور فوجی تنخواہیں وصول کرنے کیلئے کھڑے تھے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ ’’یہ شیطانی اقدام ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘‘ اے ایف پی کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم داعش نے جلال آباد میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے داعش نے کسی واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ترجمان نے غیرملکی خبر رساں ایجنسی کو فون پر ذمہ داری قبول کر لی۔ جائے وقوعہ پر ایک بم ناکارہ بنا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اہلکار نے بتایا 35 افراد مارے گئے۔ کابل میں موجود بی بی سی کے مطابق گزشتہ کئی ماہ میں جلال آباد میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ صدر اشرف غنی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی بزدلانہ اور ہولناک کارروائی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور ترجمان دفتر خارجہ نیب بھی جلال آباد حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ دشمن ہے اور دونوں ملک ملکر اسکے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغانستان سے تعاون کیا جائیگا۔انہوں نے مرنے والوں کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/19-Apr-2015/%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4-%D8%AF%DA%BE%D9%85%D8%A7%DA%A9%DB%81-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D9%85%DB%8C%D8%AA-37-%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9-115-%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C

afghanistan-blastsss
افغانستان میں ہونے والے دھماکے کو طالبان نے شیطانی فعل قرار دیا ہے۔ دھماکے کی ذمے داری داعش نے قبول کرلی۔ جلال آباد دھماکے میں معصوم بچوں سمیت 41افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں موٹر سائیکل سوار نے صبح کے وقت بینک کے باہر تنخواہیں حاصل کرنے والے سرکاری ملازمین کے درمیان دھماکا کیا، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بیان کیا جارہا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شیطانی فعل قرار دیا اور اس کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ غیرملکی خبر ایجنسی کو موصول ہونے والی کال میں ایک شخص نے خود کو داعش کا ترجمان بتاتے ہوئے جلال آباد دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری پہلی بار داعش نے قبول کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی جلال آباد حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

27B1070A00000578-3044582-A_man_leads_an_injured_boy_by_the_hands_after_the_suicide_attack-a-21_1429438552936aaaa
افغانستان کے شہر جلال آباد میں دو دھماکوں میں 41 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پہلا خودکش حملہ جلال آباد میں بینک کے باہر اس وقت ہوا، جب سرکاری ملازمین تنخواہیں حاصل کرنے وہاں جمع تھے، حملے میں40افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں 30 سرکاری ملازم بھی شامل ہیں،اس کے کچھ گھنٹوں کے بعد جلا ل آباد کے نواحی علاقے میں ایک اور بم دھماکا ہوا،بم ایک گاڑی میں نصب تھا،دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
http://beta.jang.com.pk/49445/

150418065742__82402331_82402330
اگر داعش کے جلال آباد خودکش حملہ کے دعوے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو افغانستان میں داعش کی یہ پہلی بڑی کارروائی ہو گی ۔ ہلمند ،غزنی، لوگر، فراه اور لوگر صوبوں سے داعش’’سیاه پرچم‘‘ والے عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کی اطلاعات کچھ عرصے سے آرہی تھیں۔ ان صوبوں کی انتظامیہ ان عسکریت پسندوں کو داعش کا نام دے تھی ۔درحقیقت افغانستان میں یہ گروہ طالبان سے الگ ہونے والے افراد پر مشتمل ہے اور یہ کاروائیاں بھی وہی لوگ کر رہے ہیں۔ چونکہ داعش، عراق و شام کے معاملات میں بری طرح الجھی ہوئی ہے اور اس میں اتنی سکت و صلاحیت نہ ہے کہ داعش اٖفغانستان میں اپنے حامیوں کو کسی قسم کی ٹھوس مالی یا عسکری و مادی مدد فراہم کر سکے۔

imagesbbbbbb
طالبان کے بعد اب داعش، ہر دو صورتوں میں خونریزی بیچارے افغان عوام کے لئے ہے۔ تجزیہ کار جے ایم گرجر کے مطابق جلال آباد حملہ داعش کے افغانستان میں متحد ہونے کا پیغام ہے۔ لیکن داعش سنٹرل سے تصدیق ہونے تک یہ حملہ مشکوک ہی رہے گا۔

5531ed114ebe8
افغانستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہان پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث ہیں۔ مبصرین کے مطابق داعش ایک مضبوط، سفاک اور مقابلے کے لیے ایک مشکل گروہ ہے۔ داعش قاتلوں اور ٹھگوں کا ٹولہ ہے جن کے مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

553244c2569da
افغانستان و پاکستان کا خطہ جغرافیائی اور نظریاتی طور داعش کے لئے موزوں نہیں کیونکہ د اعش کے لوگ سلفی،وہابی و تکفیری ہیں جبکہ افغانستان و پاکستان کے لوگ حنفی فقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر نے شام اور عراق میں اپنی الگ سے ریاست قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے تکفیری افکار و نظریات کو خلاف اسلام قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ شریعت اور اسلام کے احکامات کے مطابق الداعش اور اس کے پیرو کار خوارج ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو نظام اور/یا اسلام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔

indexbbb
اسلام سے متعلق داعش کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر داعش اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ داعش کا جہاد ، مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور داعش دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ داعش قاتلوں اور موت کے سوداگروں کا ایک گروہ ہے۔

index
بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.کیا داعش نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل حالت جنگ میں بھی منع ہے۔
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں. بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد اسلام اور مسلم امہ کے دشمن ہیں۔
معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
علمائے اسلام ایسے کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں اسلامی ریاست کو تباہ اور بے گناہوں کو شہید کر کےخود کش حملہ آوروں کو جنت کے ٹکٹ دیئے جائیں، جس میں جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہو ۔

Advertisements