ضربِ عضب کے بعد شدت پسند گئے کہاں؟


ضربِ عضب کے بعد شدت پسند گئے کہاں؟

150104233801_afghan_security_forces_640x360_afp

پاکستان نے گذشتہ برس جون میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے دوران فوج کا کہنا ہے کہ 80 سے 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کروا لیا گیا ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے گذشتہ دنوں بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے فرار ہونے والے شدت پسندوں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیا۔ تو وہ گئے کہاں؟

شمالی وزیرستان کے ساتھ جڑے علاقے جنوبی وزیرستان میں صورتِ حال کیا ہے یہی جاننے کی کوشش ہمارے ساتھی ہارون رشید نے اس رپورٹ میں کی ہے۔

141227132808_pakistan_army_640x360__nocredit
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان نے حال ہی میں شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے والے سینیٹ کے ایک وفد کو بتایا تھا کہ سنہ 2007 سے ان کی کور تقریباً 450 بڑے اور 1,800 چھوٹے آپریشن کر چکی ہے۔
بٹالین سے زیادہ فوجیوں پر مشتمل کارروائی کو بڑی کارروائی تصور کیا جاتا ہے۔ سنہ 2001 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 4,000 فوجی ہلاک جبکہ 13,000 فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں جاری ضربِ عضب آپریشن کے نگران میجر جنرل ظفر اللہ کے فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 13,000 شدت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ 600 نے ہتھیار ڈال کر خود کو سیکورٹی اداروں کے حوالے کیا ہے۔
لیکن اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے کہ وہاں کارروائی کے آغاز سے قبل یا بعد میں کتنے شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب رہے؟
پاکستان کا الزام ہے کہ یہ شدت پسند افغانستان گئے جہاں بروقت اطلاع کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز نے انھیں پکڑا یا روکا نہیں۔ اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی اس سے انکار کرتے ہیں۔ آخر یہ شدت پسند قیادت گئی کہاں؟
کوئی کہتا ہے کہ وہ جنوبی وزیرستان ہوسکتے ہیں تو کسی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں روپوش ہوگئے ہیں۔
میران شاہ کا دورہ کرنے والے سینیٹ کے وفد میں عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی محمد عدیل بھی شامل تھے۔
ان سے پوچھا کہ فوج کا بھاگ جانے والوں کے بارے میں کیا کہنا تھا، جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کافی لوگ پکڑے ہیں ’ان کی خفیہ ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہیں۔ قریبی علاقوں میں بھی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ یہ بڑا مشکل علاقہ ہے۔ کاش یہ کارروائی چار سال پہلے شروع ہوتی تو شاید اس کا ردعمل کم ہوتا جو آج پشاور سکول حملے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔‘
پاک افغان سرحد کے مشکل علاقے ہی پر بہتر انداز میں نظر رکھنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان سرحدی پولیس کے ایک وفد نے لیفٹیننٹ جنرل شفیق فاضلی کی قیادت میں جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف آف جنرل سٹاف لیفٹینٹ جنرل افشاق ندیم احمد سے ملاقات کی۔
انھوں نے سرحدی رابطوں کو بڑھانے کے موضوع پر بات کی۔ پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان فوجی سطح پر تعاون میں اضافے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
کارروائی کے آغاز کے بعد عام لوگوں میں جو بھی جنوبی وزیرستان آیا اسے پکڑ کر آئی ڈی پی کیمپ منتقل کر دیا گیا لیکن شدت پسندوں کا کیا ہوا؟
وانا کے ایک سینیئر صحافی حفیظ اللہ وزیر سے پوچھا کہ سیکورٹی اداروں نے شمالی سے جنوبی شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
ان کا کہنا تھا کہ فوج نے شوال جیسے علاقے میں چوکیاں بھی قائم کی ہیں اور بعض درے بموں سے اڑا کر راستے بند کر دیے ’مانتو اور شانتو جیسے علاقے بھی فوج نے اپنی نفری بڑھائی ہوئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد غیر معمولی طور پر مشکل حالات میں بھی تجارت کے لیے کھلی رہتی ہے اور اب بھی آمد و رفت کے لیے کھلی ہے۔
سینیٹر حاجی محمد عدیل سے پوچھا کہ فوج نے شمالی وزیرستان کی کارروائی ختم کرنے کی کوئی تاریخ دی تو کا جواب تھا کہ نہیں’جب تک ایک بھی دہشت گرد زندہ ہے کارروائی جاری رہے گی۔‘
جنوبی وزیرستان میں ایک سرکاری اہل کار نے بتایا کہ حالات روز بروز بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور عام لوگ یہ امید کر رہے ہیں کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے درمیان آپریشنوں کے سلسلے کی ضرب عضب آخری کارروائی ہوگی۔
)بشکریہ بی بی سی اردو)
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150126_zarb_e_azb_haroon_analysis_tk

خواتین و حضرات آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

Advertisements

“ضربِ عضب کے بعد شدت پسند گئے کہاں؟” پر ایک تبصرہ

  1. میرے خیال میں دہشتگردوں کو آسمان نہیں نگل گیا بلکہ دہشتگردوں کی اکثریت افغانستان بھاگ گئی،کچھ پاکستان میں پھیل گئے ،کچھ گرفتار ہوئے اور باقی مارے گئے۔ جہان تک دہشتگردوں کا افغانستان جانے کا تعلق ہے موجودہ صدر اشرف غنی بھی دہشتگردوں کے افغانستان آنے کا اقرار کرتے ہیں۔دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیرستان سے بھاگنے والوں نے سرحد پار افغان علاقوں میں پناہ لے لی ہےاور وہاں سے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ ملا فضل اللہ کہاں بیٹھا ہے؟

تبصرے بند ہیں۔