وادی تیراہ، خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی ، 20 دہشت گرد ہلاک


20-terrorist-killed_l

وادی تیراہ، خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی ، 20 دہشت گرد ہلاک

خیبر ایجنسی کے علاقے وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں 20 دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں3 خودکش حملہ آور بھی شامل ہیں۔کارروائی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا گیا۔کارروائی میں دہشتگردوں کے اسلحے کا ذخیرہ بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

55383723316d7

http://beta.jang.com.pk/54748/

خیبر ایجنسی میں ان دنوں فوجی آپریشن خیبر ٹو جاری ہے۔ جس کا دائرہ کار خیبر ایجنسی سے بڑھا کر اورکزئی ایجنسی تک کر دیا گیا ہے۔

ادھر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ جس میں حکام کے مطابق 1200 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں جبکہ بیشتر علاقہ ان مسلح افراد سے صاف کیا جا چکا ہے ۔

.وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو کامیاب بنانا ہے، ابھی خطرہ ٹلا نہیں، انٹیلی جنس رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ دشمن منصوبے بنارہے ہیں۔ وفاقی وزیرد اخلہ چوہدری نثار نے اسلام آباد پولیس دربار سے خطاب میں کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے ہمارے دشمن بھاگ گئے ہیں، فوج اور خفیہ ایجنسیز کی کارکردگی کا اعتراف کرنا ہوگا، انٹیلی جنس بنیاد پر500سے زائد آپریشن ہوئے، تاہم اب بھی پاکستان پر شدید خطرات منڈلا رہے ہیں۔
ملک دشمنوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔ آپریشن ضرب عضب عسکریت پسندوں کے خلاف حکومت کی واحد کارروائی نہیں ہے مگر یہ ایک مرکزی نکتہ ضرور ہے کیونکہ اس علاقے کو دہشتگردی کا گڑھ و مرکز سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند وزیرستان میں ہی جمع ہوتے ہیں کیونکہ یہ مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا صدر مقام ہے۔ پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے دہشتگرد، انسانیت اور اسلام کے کھلے دشمن ہیں، پاکستانی عوام دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی افواج پاکستان اور عوام کی ہو گی۔
ایک عسکری تجزیہ کار کے مطابق آپریشن ضرب عضب نے زبردست و ہمہ گیر حملہ کر کے دہشت گردوں کو حیران و پریشان کر کے رکھ کر دیا اور عسکریت پسندوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی اور ان سے حملہ کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران یہ محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب تباہ ہو چکا ہے اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس دوران انہوں نے جو اِکا دُکا کارروائیاں کرنے کی کوشش کی ان میں انہیں مُنہ کی کھانا پڑی۔دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے نیٹ ورک تباہ کر دیئے گئے اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں، تو آج ان کی کمر ٹوٹ گئی، مُلک بھر میں پھیلا ہوا اُن کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا، وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر تِتر بتر ہو گئے ہیں اور  اب دہشتگرد سافٹ تارگٹ کو نشانہ بنارہے ہیں۔
ملک میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے واقعات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، ملک کی داخلی صورتحال دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب ارب 100ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اوراتحاد کی قوت سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کے عفریت کوہمیشہ کیلئے کچل دیں گے۔ملک کو دہشت گردی و انتہا پسندی کی لعنت سے پاک کر کے امن وسلامتی کا گہوارہ بنائیں گے۔
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کی آگ نے قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔ترقی کے سفر میں بھی دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے ۔قومی قیادت کا عزم اوراتحاد دہشت گردوں کیلئے عبرتناک انجام کا پیغام ہے ۔ ملک سے دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اجتماعی اقدامات کیے جارہے ہیں اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جنگ میں جیت انشاء اللہ 18کروڑ عوام کی ہی ہوگی۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ پوری قوم کامتفقہ فیصلہ ہے اوراس مقصد کیلئے سنجیدہ کاوشیں بار آور ثابت ہونگی اورپاکستان ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنے گا۔آگ اورخون کی ہولی کھیلنے والوں کایوم حساب آگیا ہے۔ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنا ہر پاکستانی کی آواز ہے ۔دہشت گردوں نے ہمارے بزرگوں ،نوجوانوں،خواتین، بچوں، پاک فوج کے افسران و جوانوں،پولیس کے افسران و اہلکاروں اورعام پاکستانیوں کا بے دردی سے خون بہایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے،پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔پاک افواج جرأت اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔پوری قوم دہشت گردی کے عفریت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی حامی ہے۔

Advertisements