ہلدی منہ کے کینسر کیلئے مفید ہے، ماہرین


350867-turmericweb-1429956560-347-640x480

ہلدی منہ کے کینسر کیلئے مفید ہے، ماہرین
اٹلانٹا: امریکی یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ ہلدی کا استعمال منہ کے کینسر کا خاتمہ کرنے میں مدد ثابت ہوسکتے ہیں۔
امریکی ماہرین کے مطابق ہلدی میں موجود ایک مرکزی جز جس کا نام curcumin بتا یا گیا ہے یہ منہ کے کینسر کا سبب بنے والے جراثیم کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار کا کام دے سکتا ہے جب کہ ہلدی کینسر کے علاوہ منہ اور گلے کی مختلف بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب HPV نامی وائرس منہ اور گلے کے کینسر کا سبب بنتا ہے اور اب تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا تاہم حالیہ اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلدی میں پایا جانے والا Curcumin نامی antitoxidant مستقبل میں منہ اور گلے کینسر کے علاج میں کافی مدگار ثابت ہوگا۔
http://www.express.pk/story/350867/

امریکی طبی ماہرین نے اپنی ایک تازہ تحقیق میں کہا ہے کہ ہلدی کینسر کے علاج کیلئے ایک موثر ذریعہ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں ماہرین طب کی طرف سے جدید تحقیق میں ہلدی کو ایک موثر علاج ثابت کیا گیا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق ہلدی میں موجود اجزاء گردن اور سر میں کینسر پیدا کرنے والے وائرس کا خاتمہ کرتے ہیں۔ جبکہ ہلدی کا استعمال درد میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹ، معدے، جگر کی اصلاح کیلئے بھی ہلدی انتہائی مفید ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ہلدی کے استعمال کی وجہ سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ’ہلدی‘ اور ’ گوبھی‘ کو ملا کر استعمال کیا جائے تو پروسٹیٹ کینسر سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ ایک دوسری تحقیق کے مطابق ہلدی کے چوہوں پر استعمال کے تجربے سے ثابت ہوا کہ یہ چھاتی کے سرطان سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند بناتی ہے۔ہلدی کی یہ بیش قیمت صفات سائنس دانوں پر اس وقت منکشف ہوئیں جب انہیں پتہ چلا کہ ہلدی کے استعمال سے بچوں کو لیوکیمیا سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے جبکہ ہلدی کے ذریعے یاداشت کی خرابی کے مرض الزائمر سے بھی بچنا ممکن ہے۔
سردی کے موسم میں کچی ہلدی ذائقہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ صحت بھی سنوارتی ہے۔ یہ antioxidant ہے جو کینسر سے بچاؤ کر Blood disorders کو دور کرتی ہے. اس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں. گرم دودھ میں کچی ہلدی ابال کر پینے سے ذیابیطس یعنی Diabet
es میں فائدہ ملتا ہے. بتا دیں کہ ہلدی میں Antiseptic خصوصیات پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ذیابیطس مریض روزانہ کسی نہ کسی طور پر ہلدی کا استعمال کرتے ہیں تو اس کے زخم جلد بھرتے ہیں۔
دمہ متاثرین کے لئے نصف چمچ شہد میں ایک چوتھائی چائے کا چمچ ہلدی ملا کر کھانے سے فائدہ ملتا ہے۔اندرونی چوٹ لگنے پر ایک گلاس گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی ملا کر پینے سے درد اور سوجن میں راحت ملتی ہے۔ چوٹ پر ہلدی کا لیپ لگانے سے بھی آرام ملتا ہے۔ زکام یا کھانسی ہونے پر دودھ میں ہلدی پاؤڈر ڈالنے یا کچی ہلدی ابال کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہلدی کولیسٹرول کو کم کرتی ہے جس سے دل کے متعلق بیماری ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ہلدی جلد کی رنگت بنانے میں مدد کرتی ہے اور چہرے کی جھاؤا دور کرنے کے لئے ہلدی پاؤڈر میں کھیرے اور ککڑی یا نیبو کا رس ملا کر ۱۵منٹ تک چہرے پر لگایا جائے پھر صاف پانی سے دھو لیا جائے تو بڑی آسانی سے فرق محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ہلدی میں حیاتین ج (وٹامن سی) ہوتی ہے، جس سے وقتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس میں سوزش اور ورم دور کرنے کی خاصیت ہوتی ہے۔ ہلدی پانی میں ملا کر پینے سے دل کی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے اسے بین الاقوامی طور پر فائدے مند تسلیم کیا اور پیا جاتا ہے۔
ہلدی کا عرق بائی پاس سرجری کے فوراﹰ بعد مریضوں کو دِل کے دَورے پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ بات تھائی لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ منہ سے خون ، پرانا بخار : منہ سے خون آنے اور پرانے بخار کی شکایت میں ہلدی فائدے مند ہے ۔ اسے پیس کر ایک گرام کی مقدار میں لے کر مکھن یا دودھ کے ہمراہ کھایا جاتا ہے اور روزانہ اس مقدار میں ایک ایک گرام اضافہ کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی مقدار 12 گرام تک پہنچ جائے تو ان شکایات میں آرام آ جاتا ہے ۔
سر چکرانا :
بعض اوقات سر چکرانے اور آنکھوں کے آگے اندھیرا آنے کی شکایت لاحق ہو جاتی ہے ۔ اس کے لیے ہلدی پیس کر اس میں پانی ملا کر سر اور پیشانی پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے ۔
کھانسی :
کھانسی کی شکایت میں ہلدی کا استعمال کرایا جاتا ہے ۔ اگر کھانسی کے ساتھ بلغم بھی آتا ہو تو ہلدی کو آگ میں بھون کر باریک پیس لیں اور ایک گرام کی مقدار میں نیم گرم پانی سے کھائیں ۔ بلغم ، کھانسی چند دنوں میں دور ہو جائے گی ۔
بخار اور نزلہ :
بعض اوقات بخار اور نزلے کی کیفیت کئی کئی دن چلتی رہتی ہے ۔ اس شکایت کے لیے نیم گرم دودھ میں ہلدی اور کالی مرچ باریک پیس کر یہ سفوف دودھ میں ملا کر پینے سے بخار ختم ہو جاتا ہے اور نزلے کی شکایت بھی جاتی رہتی ہے ۔
پیٹ کے کیڑے :
ہلدی کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ اس کے لیے ہلدی کو پانی میں جوش دے کر پلایا جاتا ہے یا پھر اس کا سفوف بنا کر نیم گرم پانی سے استعمال کرایا جاتا ہے ۔ اس کے استعمال سے کیڑے اجابت میں خارج ہو جاتے ہیں ۔
جگر کے امراض :
جگر کے امراض میں ہلدی کو دہی کے ساتھ استعمال کرایا جاتا ہے ۔ یرقان کی شکایت میں ہلدی کا سفوف بارہ گرام کی مقدار میں لے کر دہی کے ساتھ پلانے سے بہت جلدی افاقہ ہوتا ہے ۔
چوٹ اور سوجن :
چوٹ اندرونی ہو یا بیرونی ، دونوں صورتوں میں ہلدی فائدہ پہنچاتی ہے ۔ پیسی ہوئی ہلدی ایک گرام کی مقدار میں دودھ کے ساتھ استعمال کرائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہلدی اور چونا برابر وزن پیس کر چوٹ کی جگہ پر لگائیں تو درد اور سوجن کی کیفیت بہت جلد ختم ہو جاتی ہے ۔

اس سے ہلدی میں پوشیدہ ایک اور طبی فائدے کا پتہ چلتا ہے، جسے پہلے ہی مختلف نوعیت کے درد اور سوزش دُور کرنے کی خصوصیات کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
بائی پاس سرجری کے دوران خون کے بہاؤ میں طویل کمی کی وجہ سی دِل کے پٹھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے مریض کے لیے دِل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم امریکن جرنل آف کارڈیولوجی میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق ہلدی کا عرق اس خطرے کو کم کرنے میں مدد گار ہو سکتا ہے، جسے روایتی طریقہ علاج کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔
تھائی لینڈ میں شیانگمائی یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ نتائج قدرے محدود تحقیق سے حاصل کیے گئے اور وسیع تر مطالعے کے ذریعے ان کی تصدیق ضروری ہے۔
امریکی شہر ہوسٹن میں ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر میں سرطان کی تھراپی میں ہلدی کے استعمال پر مطالعہ کرنے والے بھارت اگروال محققین کے حوالے سے کہتے ہیں کہ سوزش دل کی بیماری سمیت مختلف امراض کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ہلدی اس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اگروال اس تحقیق کا حصہ نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اس کے حوالے سے بات چیت کے دوران کہا: ’’یہ بہت ہی حوصلہ افزاء ہے۔‘‘
اس تحقیق کے لیے ایسے 121مریضوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے جنہوں نے 2009ء سے 2011ء کے عرصے میں غیرہنگامی بائی پاس سرجری کروائی۔
ان میں سے نصف مریضوں کو ہلدی کے اجزاء پر مشتمل کیپسول دیے گئے، جو انہیں دِن میں چار مرتبہ لینے تھے۔ انہوں نے یہ خوراک اپنی سرجری سے تین روز قبل لینا شروع کی اور سرجری کے بعد پانچ روز تک جاری رکھی۔ بقیہ مریضوں کو اتنی ہی مقدار میں ایسے کیپسول دیے گئے، جن میں دوا کا عنصر موجود نہیں تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد ہسپتال میں قیام کے دوران ہلدی کے اجزاء پر مشتمل کیپسول لینے والے مریضوں میں سے سے تیرہ فیصد کو دِل کا دورہ پڑا جبکہ بقیہ میں سے تیس فیصد کو۔
ان مریضوں میں سرجری سے پہلے کی طبی حالت میں پائے جانے والے فرق کا اندازہ لگانے کے بعد بتایا گیا ہے کہ ہلدی کی مدد سے ان مریضوں میں دل کے دورے کا خدشہ 65 فیصد تک کم ہوا۔
محققین کے خیال میں ہلدی کی وہی خصوصیات اس حوالے سے بھی معاون ثابت ہوئی ہے، جو درد اور سوزش کو دُور کرتی ہیں۔ خیال رہے کہ بھارتی اور چینی دواؤں میں ہلدی کے عرق کا استعمال طویل عرصے سے جاری ہے۔
برطانیہ میں سائنسدان یہ جاننے کے لیے تجربات کر رہے ہیں کہ آیا ہلدی میں موجود کیمیکل آنت کے کینسر کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہلدی میں پایا جانے والا کرکیومن نامی یہ کیمیائی مادہ نہ صرف تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے کینسر زدہ خلیات کو ختم کر سکتا ہے بلکہ دل اور یادداشت کی کمزوری کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اب برطانوی شہر لیسٹر کے ہسپتالوں میں کیموتھراپی کے ساتھ ساتھ کرکیومن کی خوراک کے استعمال کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں ہر سال چالیس ہزار افراد میں آنت کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔
اگر یہ بیماری جسم میں پھیل جائے تو مریضوں کو عموماً تین کیموتھراپی کی دوائیں ملا کی دی جاتی ہیں تاہم نصف سے زیادہ مریضوں پر ان کا خاص اثر نہیں ہوتا۔
اس تجربے میں لیسٹر جنرل ہسپتال کے چالیس مریض حصہ لیں گے جنہیں کیموتھراپی کے آغاز سے سات دن قبل کرکیومن کی گولیاں دی جائیں گی۔
اس تجربے کے نگران پروفیسر ولیم سٹیورڈ کا کہنا ہے کہ جانوروں پر ان دونوں چیزوں کے مشترکہ استعمال سے نتائج سو گنا بہتر رہے اور یہی اس انسانی تجربے کی بنیاد بنی۔
انہوں نے کہا کہ ’آنت کا کینسر اگر جسم میں پھیل جائے تو اس کا علاج انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ مریضوں پر کیموتھراپی کے طویل عرصے تک استعمال کے نتائج بھی ہیں‘۔
"یہ امکانات کہ کرکیومن کینسر زدہ خلیات پر کیموتھراپی کے اثرات کو بڑھا سکتا ہے اس لیے خوش آئند ہیں کہ اس سے مریضوں کو کم مقدار میں کیموتھراپی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ زیادہ عرصے تک علاج جاری رکھ پائیں گے۔”
ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ایک پودے کے کیمیائی مادے سے کینسر کے علاج میں مدد لینا انوکھی بات ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے مستقبل میں نئی ادویات کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔
کینسر ریسرچ یو کے کی جوانا رینلڈز کا کہنا ہے کہ ’اس قسم کے تجربے سے ہمیں کرکیومن کی بڑی مقدات کے استعمال کے ممکنہ فوائد اور کینسر کے مریضوں پر اس کے دیگر اثرات کا پتہ چل سکتا ہے‘۔

Advertisements