وادئ تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی


55401b150f543

وادئ تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی
سیکیورٹی فورسز نے وادئ تیراہ کے علاقوں سیپاہ اور اکاخیل سے لشکر اسلام کے جنگوؤں کا خاتمہ کرکے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق سپاہ اور اکاخیل کے علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا آپریشن خیبر ٹو میں تینوں اہم کالعدم تنظیموں جماعت الحرار، لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے۔

خیال رہے کہ تینوں کالعدم تنظیموں نے رواں سال فروری میں پاک فوج کی جانب سے آپریشن خیبر ٹو کےآغاز کے موقع پر اشتراک قائم کرلیا تھا۔
سیکیورٹی فورسزنے ٹی ٹی پی کے زیرِ انتظام کوکی خیل کےعلاقے دعا تھیو اور زرمانزہ، قمرخیل کے علاقے گھری، قمبر خیل کےعلاقے جبار میلہ اور ملک دین خیل کے علاقے نکائی میں بھی جھڑپوں کے بعد کالعدم تنظیموں کے جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔
دوسری جانب لشکر اسلام کے ترجمان صلاح الدین ایوبی نے نامعلوم مقام سےصحافیوں سے ٹیلی فونک رابطے میں کہا ہے کہ اکا خیل اور سیپاہ کے علاقوں سے ان کی پسپائی جنگی حکمت عملی کے باعث ہے اور وہ بہت جلد ٹی ٹی پی اور جماعت الحرار کے جنگجوؤں کی مدد سے یہ علاقے دوبارہ حاصل کرلیں گے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ دعا تھیو کے علاقے میں ہونے والی جھڑپ میں 9 پاکستانی فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں، تاہم ان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
فوجی مبصرین کے مطابق سیپاہ اور اکا خیل کے علاقوں میں فوج کا قبضہ ایک انتہائی اہم پیش قدمی ہے کیونکہ یہ علاقہ گذشتہ 10 سال سے لشکر اسلام کے قبضے میں تھا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں قبضے کے بعد لشکر اسلام کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ باقی نہیں رہا ہے کہ وہ فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دے یا پھر سرحد پار کرجائیں۔
انہوں نے کہا کہ وادئ تیراہ سے دہشت گردوں کو نکالنے کا عمل تقریباً مکمل ہونے والا ہے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1020442/

Raheel-Sharif6-400x300
آپریشن سے متعلق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملک میں استحکام لوٹ رہا ہے، فاٹا میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی، قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے اندرون ملک رابطے توڑ دیئے گئے ہیں، دہشتگردی کیخلاف کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے اندر اور باہر قیام امن ہماری ترجیح ہے، ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔
ادہر مہمندایجنسی جوایک زمانے میں تحریک طالبان پاکستان کاگڑھ سمجھا جاتا تھا کو شرپسندوں سے مکمل طورپرپاک کردیاگیاہے اورعلاقے میں اب ایک بھی نوگوایریانہیں ہے۔
قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 میں معرض وجودمیں آنے والی مہمندایجنسی فاٹا کے شمالی حصے میں ہے 8 تحصیلوں اورتقریباً 6 لاکھ آبادی پرمشتمل اس ایجنسی کی سرحدیں افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملتی ہیں۔ایف سی حکام اورپولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق 2008 میں ایجنسی میں شرپسندوں جن میں تحریک طالبان مہمند ایجنسی(ٹی ٹی ایم ) اوران کے دوسرے گروپوں کیخلاف بریخانہ ون اورٹوکے نام سے آپریشن شروع کیے گئے تویہ علاقہ مکمل طورپرنوگوایریابن گیاتھااورآئے روزشرپسندلوگوں کی نعشیں سڑکوں پرپھینکتے تھے۔
تاہم اب صورتحال یکسرتبدیل ہوگئی ہے اورافغاستان کے سرحدی مقام خاپخ تک پوراعلاقہ ایف سی اورپولیٹیکل انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ میں یہاں کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور 700 کے لگ بھگ افرادشہیدہوچکے ہیں جن میں70 بڑے قبائلی مشران اورملک بھی شامل ہیں۔اب تک ایجنسی میں مجموعی طورپر 184 ایف سی،لیویز،خاصہ دارفورس اوردیگرقانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے بھی جام شہادت نوش کیاہے۔
طالبان اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ طالبان ایک خطرناک ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور بے گناہوں کا ناحق خون بہا رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔
اسلام سلامتی کادین ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے .پاکستان میں مذہب کی آڑ میں دہشت گردی نے لوگوں کا سکون تباہ کردیا ہے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اہل وطن پیار ومحبت کے پرچار کے ساتھ اخوت اور رواداری کو فروغ دیں.دہشتگردی کے خاتمہ پر ملک میں امن و امان بحال ہوگا اور ملک میں اقتصادی ترقی و خوشحالی آئے گی جس کا فائدہ سب پاکستانیوں کو پہنچے گا۔ طالبان اور دوسرے دہشتگردوں کی موجودگی میں ترقی و خوشحالی سے متعلق سوچنا بے معنی ہے۔

Advertisements