طالبان کی فائرنگ سےڈی ایس پی سمیت 3اہلکارجاں بحق


5543235954eab

طالبان کی فائرنگ سےڈی ایس پی سمیت 3اہلکارجاں بحق

کراچی میں گلشن حدید نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت تین پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ گلشن حدید کے علاقے میں باٹا چورنگی کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

Police-Karachi-firing-dspmumtazalishah-cop-Malir_9-14-2013_118180_l

پولیس کے مطابق باٹا موڑ کے قریب پولیس پارٹی پر دو موٹر سائیکل پر سوار 4 ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی فتح محمد سانگری،ہیڈ کانسٹیبل نذیراورکانسٹیبل فاروق موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں اور جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔ رواں سال ابتک 46 پولیس اہلکاروں کو مختلف واقعات میں قتل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلی سندھ سیدقائم علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
http://beta.jang.com.pk/62372/

Karachi-Target-Killing-460x230
ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ان کے مطابق مقتول ڈی ایس پی ان کی ہٹ لست پر تھا۔
http://tribune.com.pk/story/879000/dsp-shot-dead-in-karachi/

55431bbd15cf0
تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ نے کہا ہے کہ طالبان انسانیت کے اصولوں سے بھی معدوم ہیں اور ان میں ایمانی اور اسلامی اصولوں کا فقدان ہے۔ طالبان نے پاکستانی لوگوں کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ طالبان نے کافروں سے زیادہ اسلام کو نقصان پہنچایا۔
دہشت گردی پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ طالبان نے پولیس اور دفاعی افواج پر براہ راست حملے کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔ان مسائل کی وجہ سے ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہدہشت گردی کے خلاف جنگ پر اُٹھ رہا ہے. آج پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا مرکز سمجھاجا تا ہے پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ بم دہماکے اور خودکش حملے غیرشرعی اور حرام فعل ہیں۔ بے گناہ طالبات، عورتوں، بوڑھوں، ، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی شریعہ کے منافی ہیں. علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں کیونکہ ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کا ناسور قوم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں نے نا صرف قومی اثاثوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ پولیس ، رینجرز، ایف سی اور فوج کے جوانوں کو قتل کیا اوراس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عام شہریوں کے خون سے بھی جی بھر کے ہاتھ رنگے اور ابھی تک رنگ رہے ہیں۔دہشت گردی اب پاکستان کا سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے جس کا حل پاکستانی کے اندرونی حالات کے ساتھ پاکستان کے باہر کے حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
جہاد و قتال تو الہہ تعالی کی خشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے الہہ کی راہ میں کیا جاتا ہے۔ ذاتی بدلہ لینا قبائلی روایات اور پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہیں ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے. دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
دنیا کی کوئی ریاست مسلح عسکریت پسندوں و دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت نہ دے سکتی ہے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔
رسول اکرم کی ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
کیا طالبان ان احادیث کی رو شنی میں مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟
کیا طالبان انسانیت کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور انسان کہلانے کے حقدار ہیں؟
دہشت گردی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہےاگر دہشت گردی کی روک تھام نہ کی گئی تو پاکستان ایک غیر موثرمعاشرہ و ریاست بن کر رہ جائے گا اور پاکستانی ریاست و معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور اس سے ملکی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ لہذا ہر پاکستانی کو اپنی اپنی جگہ پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا ہو گا۔

Advertisements