فٹ بال میچ پر خودکش حملہ ناکام


5-7-2015_37356_l_T

فٹ بال میچ پر خودکش حملہ ناکام

لوئر کرم ایجنسی کے علاقے علی زئی میں سکول  فٹبال میچ کے دوران دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے جب کہ لیویز اہلکاروں کی فائرنگ سے دونوں دہشت گرد بھی مارے گئے۔

index

ایکسپریس نیوز کے مطابق لوئرکرم ایجنسی کے علاقے علی زئی میں اسکول گراؤنڈ میں فٹبال میچ کے دوران 2 خود کش حملہ آوروں نے گراؤنڈ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کردی جس پر اسکول کے گیٹ کے باہر کھڑے لیویز اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دونوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور ان کے جسم سے بندھی خودکش جیکٹس بھی پھٹ گئیں۔
سکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کی جانب سے خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی تاہم اہلکاروں کی فائرنگ کے بعد دونوں حملہ آوروں کی خودکش جیکٹس پھٹ گئیں جس کے نتیجے میں پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکار سمیت 4 افراد شدید زخمی ہوئے جب کہ حملے میں گراؤنڈ میں موجود کھلاڑی اور تماشائی مکمل طور پر محفوظ رہے، واقعے میں زخمی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے پارا چنار کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 2 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
علی زئی میں حملے کے بعد پاک فوج اور ایف سی کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرکے تحقیقات شروع کردی جب کہ حملہ آوروں کے اعضا بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم نوازشریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور سیکیورٹی ادارے اس قسم کےحملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔
دوسری جانب ترجمان پاک فوج کا کہنا ہےکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے لیویز اہلکاروں اور شہریوں کو جرات کو سراہا۔
http://www.express.pk/story/354242/

554ab8826ae10
طالبان کی سکول دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہے۔ قرآنی احکامات کی صریح اور کھلی خلاف ورزی کر کے بھی یہ نام نہاد طالبان اسلام اور شریعت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں مگر اُن کی جہالت کا سب سے بڑا شاہکار بچوں کے سکولوں کا نذرِ آتش کرنا،سکولوں پر حملے کرنا اور طالبعلموںاور اساتذہ کا قتل ہے۔ا ن دہشت گردوں کا سکولوں کی تباہی اور سکول دشمنی کا رویہ بتاتا ہے کہ وہ طالبان نہیں جاہلان ہیں. سکول دشمنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام اور پاکستان دونوں کے مخلص نہیں اور نہ ہی ان کو پاکستانی عوام میں دلچسپی ہے بلکہ یہ تو اسلام ،پاکستان اور عوام کے دشمن ہیں کیونکہ یہ ہمیں ترقی کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔ سکولوں کو جلانے اور طالب علموںپر حملوں کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر منافی ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم دہشت گردوں کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان کے مسلمانوں پر مسلط کریں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

130424135336_parachinar624
اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہ ہے۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ۵۰،۰۰۰ پاکستانی اپنی جان سے ہاتح دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقٹصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. مٹھی بھر دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

Advertisements