کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر فائرنگ، 45 افراد ہلاک


55530e5894ef1

کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر فائرنگ، 45 افراد ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک بس پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 45 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح صفورا چورنگی پر ساڑھے نو بجے کے قریب پیش آیا جب تین موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا۔

150513074342_relatives_ismaili_victims_624x351_epa356518-image-1431515408-155-640x480356518-image-1431515427-222-640x480

555303856a95d5552dcba2b6e8

55530bfbdc4cc

آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ مختلف ہسپتالوں سے اب تک 43 افراد کی ہلاکت اور 13 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

555324754cd53

5552e2c87992a
ان کا کہنا تھا کہ حملہ اوروں کی تعداد چھ تھی جنھوں نے بس کو روکا، پہلے بس کے ڈرائیور کو گولی ماری اور پھر بس میں گھس کر بلاتفریق فائرنگ کی۔
غلام حیدر جمالی کے مطابق حملہ آوروں نے اس کارروائی میں نائن ایم ایم پستول استعمال کیے۔
اس سے قبل ایس ایس پی ملیر کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 25 مرد اور 16 خواتین شامل ہیں۔

150513062002_khi_aghakhani_bus_attack_624x351_bbc
حملے کا نشانہ بننے والی مذکورہ بس میں اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 60 سے زیادہ افراد سوار تھے جو سکیم 33 کے علاقے الاظہرگارڈن سے عائشہ منزل پر واقع اسماعیلی جماعت خانے کی جانب جا رہے تھے۔

555324e1401ac
فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنھیں قریب واقع میمن ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

150513061913_khi_aghakhani_bus_attack_624x351_bbc
حملے کے بعد بس کا زخمی ڈرائیور خود بس چلا کر قریب واقع میمن ہسپتال لے کر پہنچا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کے جوان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا تاہم حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

150513062053_khi_aghakhani_bus_attack_640x360_bbc_nocredit
پی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ نے جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر یہ منصوبہ بندی سے کی گئی کارروائی لگتی ہے اور حملہ آور راستے میں گھات لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ریجن کے ڈی آئی جی سے تین دن میں رپورٹ طلب کی ہے جبکہ ہلاک شدگان کو پانچ پانچ لاکھ روپے بطور زرِ تلافی دیے جائیں گے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150513_khi_safoora_bus_attack_zs

کراچی:دہشتگردوں کی بس میں گھس کر فائرنگ،45افراد جاں بحق
CE5QYQ8UgAEu_Zg
11114766_1373176082712039_3369931217285560772_n

جند اللہ نے ذمہ داری قبول کی

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی طالبان سے علیحدگی اختیار کرنے والے شدت پسند گروپ جند اللہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی۔جند اللہ کے ترجمان احمد مروت نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کراچی میں بس پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی۔

دوسری جانب بس سے انگریزی اور اردو زبان میں خطوط بھی ملے ہیں جن میں داعش کی جانب سے حملے کی زمہ داری قبول کی گئی۔

11266591_988237581188199_1334645721216794839_n

واضح رہے کہ جنداللہ کی جانب سے پاکستان میں پہلے بھی دہشت گردی کے واقعات کیے گئے ہیں، جبکہ نومبر 2014 میں جنداللہ نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں مقیم اسماعیلی برادری اور کالاش قبائل کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے اکثر و بیشتر دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔گزشتہ برس فروری میں 50 منٹ کی ایک وڈیو میں ٹی ٹی پی میڈیا ونگ نے اپنی ویب سائٹ پر اسماعیلی مسلمانوں اور کالاش برادری کے خلاف ‘ مسلح جدوجہد’ کا اعلان کیا تھا۔

ویڈیو میں ایک دہشت گرد نے کالاش برادری کے افراد کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ وہ یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر مرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

1. http://www.dawnnews.tv/news/1021056/

2. http://daily.urdupoint.com/livenews/2015-05-13/news-423234.html

3. http://qudrat.com.pk/pakistan/13-May-2015/58644

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ سانحہ کراچی افسوسناک واقعہ ہے،دہشتگرد ملک میں انتشار پھیلانا چاہتےہیں جس کیلئے انہوں نے محب وطن کمیونٹی کو نشانہ بنایا۔
اسلام آباد میں پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھاکہ سانحہ کراچی کےبعد وزیراعلی سندھ کو واپس کراچی بھجوادیا،انکا کہنا تھا کہ کراچی واقعے پرسب افسردہ ہیں،،دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتےہیں،دہشتگردوں نے مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے محب وطن کمیونٹی کو نشانہ بنایا. وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھاکہ دہشتگرد ملک میں انتشار پھیلانے اورہمیں آپس میں لڑانے کی سازش کررہےہیں ۔

ہلاک ہونے والوں میں 16 خواتین  2 بچےاور 27 مرد شامل ہیں۔

ادھراسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان نے فرانس سے اپنے بیان میں سانحہ صفورا گوٹھ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملے میں جاں بحق افراد کے  خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن کمیونٹی کے خلاف دہشت گردی ناقابل فہم اور بے حسی کی انتہا ہے، میری دعائیں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ صفورا چورنگی پر بس حملہ منصوبے کے تحت کی گئی کارروائی لگتی ہے،یہ کس کارروائی کا ردعمل ہے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم کراچی میں امن قائم کرکے رہیں گے ،اس واقعے پر ہم خاموش نہیں رہیں گے،یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ کس کی نااہلی ہے۔قائم علی شاہ نے اس موقع پرکہا کہبہت افسوسناک واقعہ ہوا ہے ،میں اسلام آباد میں ہوں ، واپس جانے کی کوشش کررہاہوں ، مجھے 41افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں،میں نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ زخمیوں کو اسپتال میں بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جاں بحق افرادکےلواحقین کو 5 لاکھ اورزخمیوں کو2 لاکھ روپےدیےجائینگے۔وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق نے صفورا چورنگی پر بس میں فائرنگ سے41افراد کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے علاقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا ہےجبکہ آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
کراچی میں فائرنگ کے واقعے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنا دورہ سری لنکا منسوخ کیا۔
کراچی میں بس پر فائرنگ کے نتیجے میں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر وزیراعظم نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر نے شدید مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں بس پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیاجب کہ انہوں نے وزارت داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعظم نے سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت بھی کیا۔ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی غلام حیدر جمالی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اور اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا۔

تعزیتی بیان میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ دہشتگردی واقعات کیخلاف جنگ میں ہمارا عزم کمزور نہیں کرسکتے۔انہوں نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں بس پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیرانسانی فعل قرار دیتے ہوئے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ افسوسناک واقعے پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذمتی بیانات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری کارروائی کرکے دہشت گردوں کو گرفتار کرے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ امن وامان سے متعلق صوبائی حکومت کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے،واقعےکی تحقیقات کرکےذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

کراچی میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر فائرنگ کے نتیجے میں 43 افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت سندھ نے کل بروز جمعرات یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جس کی سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر یوم سوگ کا اعلان کیا جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بھی یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا۔

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے تاجروں سے کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹرز سے حمایت کی اپیل کی ہےعوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی کراچی میں ہونے والے افسوسناک واقعے پر کل یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔۔

اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. پاکستانی طالبان , جندواللہ اور لشکر جھنگوی دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ عورتوں اور بچوں کو دوران جنگ بھی قتل نہ کیا جا سکتا ہے۔اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔
کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والےمسلمان نہیں ؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ۔اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں صرف شیعہ مسلمان ہی نہیں مارے جارہے بلکہ ان کے ہاتھ سنی مسلمانوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے داخلی دفاع کو شدید نقصان، فرقہ واریت نے ہی پہنچایا ہے اور فرقہ واریت کی وجہ سے چند ساعتوں میں کراچی سے لے کر گلگت تک پاکستانیوں کا خون نہایت آسانی سے بہایاجاسکتا ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

 اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔

طالبان،لشکر جھنگوی، جندواللہ اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔

Advertisements