خود کش حملے کرنااور کرانا حرام ہے


Charsadda_1894658c

خود کش حملے کرنااور کرانا حرام ہے

پاکستان میں خودکش حملوں کا پہلے نام و نشان تک نہ ہوتا تھا ان حملوں کی ابتدا افغانستان سے ہوئی۔ پاکستان میں کراچی میں  2002 میں اس وقت ہوا خودکش حملہ ہوا جب آبدوز کے لیئے آنے والے فرانسیسیوں پر حملہ کیا گیا۔ ۔خودکش حملے جہادی تنظیموں کے علاوہ فرقہ ورانہ دہشتگرد تنظیموں میں یکساں مقبول ہیں۔ ملکی شہریوں کا ناحق قتل جہاد نہ ہے ۔ جہاد تو اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے اللہ کےر استہ میں کیا جاتا ہے،ایساجہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوگا۔

Peshawar-woman_2679318b

اس سے پہلے لاہور میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے اٹھاون علماء نے فتویٰ جاری کیا کہ کسی اسلامی ملک کے اندر عوامی مقامات پر خود کش حملے کرنا اسلام میں حرام ہے اور اسے ثواب سمجھ کر کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔ منہاج القرآن علماء کونسل کے زیر اہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں ’’تحفظ پاکستان علماء و مشائخ کنونشن‘‘ منقعد ہوا جس میں پاکستان بھر سے جید اور نامور علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ شریک ہونے والے علماء مشائخ میں پیر صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی‘ حضرت پیر خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ‘ حضرت پیر خواجہ غلام قطب الدین فریدی‘ ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور دیگر 200 زائد علماء کرام شامل تھے۔ کنونشن میں اتفاق رائے سے اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں کہا گیا اسلام محبت اور امن کا دین ہے۔ دہشت اور انتہا پسندی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں‘ خانقاہوں اور مزاروں کے انہدام کی مذمت کرتے ہیں‘ بے گناہ اور معصوم افراد پر خودکش حملے حرام ہیں۔ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ مسلم ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد پر مبنی افکار و نظریات کے حامل لوگ ایک چھوٹا سا اقلیتی گروہ ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘ حکومت دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی خفیہ اور درپردہ سرپرستی یا حمایت اور امداد کرنے والے عناصر کو بے نقاب کرے اور ایسے عناصر کا خاتمہ کیا جائے۔ خودکش حملہ ہر حال میں حرام ہے۔

0_1330150034224_news

**  EDITORS NOTE: GRAPHIC CONTENT  **  People help the injured of the  bomb blast near the Lal Masjid or Red Mosque in Islamabad, Pakistan on Friday, July 27, 2007. A suspected suicide bombing killed at least 13 people and wounded 43 others Friday at a hotel near Islamabad's Red Mosque, after religious students occupied the mosque and demanded the return of its pro-Taliban cleric. (AP Photo)

اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر اسےمنع فرمایا ہے
۔ ارشاد ربانی ہے :
وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
البقرة، 2 : 195
”اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہےo”
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے :
وقيل : أراد به قتل المسلم نفسه.
بغوی، معالم التنزيل، 1 : 418
”اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔”
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں ‌دیا جاسکتا ۔
نظیم اتحادِ امت کے زیر اہتمام منعقدہ’’شیوخ الحدیث کانفرنس‘‘میں شریک دو سو شیوخ الحدیث والقرآن ،مفتیان کرام اورجید علماء نے اپنے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش، بوکو حرام، الشباب اور اُن جیسی دوسری نام نہاد جہادی تنظیموں کا فلسفہ جہاد گمراہ کن، طرزِ عمل غیر اسلامی اور فہم اسلام ناقص اور جہالت پر مبنی ہے۔اِن تنظیموں کا طریقۂ جہاد اسلامی جہاد کی شرائط کے منافی ہے۔فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث عناصر فساد فی الارض کے مجرم ہیں۔ اسلام فرقے کے اختلاف کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلامی ریاست کے باغیوں اور غداروں کو کچلنا اسلامی حکومت پر لازم ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں جاں بحق ہونے والے فوجی، پولیس اہل کار اور دوسرے افراد شہید اور قوم کے حقیقی ہیرو ہیں جبکہ پاک فوج اور سیکورٹی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے مرنے والوں کو شہید قرار نہیں دیا جا سکتا۔پاکستانی طالبان اور داعش عہدِ حاضر کے خوارج ہیں۔خوارج دینِ اسلام کے باغی ہیں۔پولیو مہم کی مخالفت کرنے والے گمراہ اور خواتین ہیلتھ ورکرز کو قتل کرنے والے بدترین مجرم ہیں۔غیر مسلم اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے بدترین گناہ اور مجرمانہ فعل ہے۔ اسلام نے اسلامی ریاست کے لیے غیر مسلموں کا تحفظ لازم قرار دیا ہے۔

http://beta.jang.com.pk/akhbar

سنی مسلک کی کم از کم پچاس جماعتوں اور گروپس نے ایک روز قبل مذہبی علماء کی ایک کانفرنس میں خودکش حملوں کے خلاف جاری کیے گئے مشترکہ فتوے کی توثیق کردی ہے۔

پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں مولانا ضیاء الحق نقشبدنی نے دعویٰ کیا ہے کہ سنّی مسلک کی پچاس جماعتوں کے رہنماؤں نے فتوے کے اجراء کے 24 گھنٹوں کے بعد کانفرنس کے منتظمین سے رابطہ کرکے اس کے لیے اپنے حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسے ایک ’’کامیاب‘‘ اقدام قرار دیا، جس کے ذریعے اسلام اور جہاد کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان جماعتوں نے آئندہ جمعہ کو امن و محبت کے دن کے طور پر منانے کا بھی خیرمقدم کیا ہے، اس دن چار لاکھ مساجد میں نمازِ جمعہ کے خطبوں کے ذریعے امن و محبت کی حمایت اور خودکش حملوں کے خلاف فتوے کی توثیق کی جائے گی۔

ان جماعتوں میں سنی اتحاد کونسل، سنی تحریک، جمعیت علمائے پاکستان کے مختلف دھڑے، قومی مشائخ کونسل، مرکزی جماعت اہلِ سنت، تحفظ ناموسِ رسالت محاذ، سنی علماء بورڈ، نعیمیہ ایسوسی ایشن، تنظیم المدارس اہلِ سنت اور کنزالایمان سوسائٹی شامل ہیں۔

http://www.dawnnews.tv/news/1021329/

 

Advertisements