طالبان کے حملے میں ڈی ایس پی ہلاک


art_go_300025_1506

طالبان کے حملے میں ڈی ایس پی ہلاک
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کو طالبان دہشتگردوں کی فائرنگ سے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بہادر خان ہلاک ہوگئے ہیں۔جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خراسانی نے ڈی ایس پی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

555c390080284

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق بدھ کو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے پشاور کے علاقے گلبہار میں انعم صنم چوک کے قریب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈی ایس پی بہادر خان کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا، جب وہ اپنی بیٹی کو گاڑی میں اسکول چھوڑنے جارہے تھے۔

Muhammad Khurasani @ttpspokesman • 6h 6 hours ago
TTP’s STF successfully targeted DSP Bahadar Khan at Peshawar. yesterday TTP attacked forces at Mardan and Swat

CFcDWeoXIAAS3Dr.jpg large
فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی بہادر خان ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی بیٹی محفوظ رہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی بہادر کو نامعلوم عسکریت پسندوں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

11143192_709360855842956_2358552862498695406_o
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔
گذشتہ روز سپیشل فورس پولیس کے اہلکار احسان اللہ کو ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں مسلح افراد نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

taliban1
اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور ملک میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے مخالفینکو مارنے پر تلے ہوئے ہیں.
دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .
بم دہماکے کرنا، سیکورٹی فورسز پر حملے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔

Advertisements