شمالی وزیرستان فضائی کارروائی میں 15 دہشتگرد ہلاک


jet-bombing

شمالی وزیرستان فضائی کارروائی میں 15 دہشتگرد ہلاک

شمالی وزیرستان کےعلاقے دتہ خیل میں سیکورٹی فورسز نے تازہ کارروائی میں غیرملکیوں سمیت 15 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔ایک مقامی سیکیورٹی کمانڈر اور دو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں تازہ ترین کارروائی میں15 سے 16مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔5 ٹھکانے تباہ ہوئے اور مارے گئے شدت پسندوں میں 4 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

resize.php

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب دتہ خیل کے قریب فضائی کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں پندرہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ، ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے خیبرایجنسی اور شمالی وزیرستان میں بھرپور آپریشن جاری ہے جن میں اب تک سیکڑوں دہشت گرد مارے جاچکے ہیں
ایک وقت میں طالبان شمالی وزیرستان پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے مگر گزشتہ سال جون میں پاکستان فوج کے آپریشن شروع ہونے کے بعدان کا قبضہ ختم ہوتا چلاگیا۔
مقامی افراد کا خیال ہے کہ فوج شوال وادی میں آزادی سے کام کرنے والے طالبان کے خلاف ایک آپریشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔

Taliban-choose-Khalid-Said-Sajna-as-TTP-chief
یہ علاقہ طالبان گروپ کے ایک دھڑے کے سربراہ خان سجنا کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان فوج نے یہاں متعدد بار فضائی حملے کیے تو امریکا کے دو ڈرون حملے بھی رپورٹ ہوئے، تاہم ابھی تک زمینی فوج یہاں متحرک نہیں ہوئی۔
علاقے میں موجود زیادہ تر ٹیلی فون لائنیں کاٹ گئی ہیں جبکہ فوج کی جانب سے سٹرکوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے مقامی آبادی کی نقل حرکت بھی محدود ہے۔ یہ علاقہ گھنے جنگلاات اور گہری کھائیوں پر مشتمل ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان سمگلنگ کا روٹ ہے۔ اور اس میں جا بجا طالبان کے اڈے ہیں،جہان سے سے وہ سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔
دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ نگار ریٹائرڈ بریگیڈیر محمد سعد نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کی صلاحیت کافی حد تک کم ہو چکی ہے مگر ابھی ان کی کمر پوری طرح نہیں ٹوٹی۔
تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال ہے کہ لڑائی شدید ہو گی لیکن چند ایک یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کہیں بہتر بری فوج اور نپی تلی فضائی بمباری کے سامنے شدت پسند بہت عرصے تک ٹک نہیں پائیں گے۔

Raheel-Sharif6-400x300
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور اس سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہماری جنگ آج کے لیے نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ہے۔فوج کے سربراہ نے کہا کہ صرف مستحکم پاکستان ہی خوشحال پاکستان کا ضامن ہے۔

Nawaz Sharif

وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہاہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے.
دہشتگردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر دیاگیاہے۔ مربوط اور منظم زمینی اور فضائی حملوں سے دشمن پر کاری وار لگایا جا رہا ہے۔ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کا بڑا مقصد وزیرستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے تھے .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔ شمالی وزیرستان حقانی نیٹ ورک،طالبان و القائدہ کے علاوہ،ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور جہادیوں کا مسکن ہے۔ جہاں سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں میں باآسانی کاروائیاں کرتے ہیں . دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کو پناہ گاہ بنا کر ریاست کے خلاف جنگ شروع کر رکھی تھی اور دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں زندگی مفلوج کر رکھی تھی۔دہشت گرد قومی زندگی اور ملکی دفاع کو ہر لحاظ سے غیر مستحکم و مفلوج کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
القاعدہ اور طالبان پاکستان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔ یہ دہشت گرد اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے تھے، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔
خودکش حملے اور دہشتگردی اسلام میں حرام ہے۔ایک بے گناہ کا قتل تمام انسانیت کا قتل تصور ہوتا ہے. معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔
کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔
ملک میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے واقعات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، ملک کی داخلی صورتحال دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو ایک کھرب تین ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہوا اور معیشت عدم استحکام کا شکار ہوئی ہے۔
دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور بے گناہوں کا ناحق خون بہا رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔

دہشت گردی اور بدامنی کی آگ نے قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔ترقی کے سفر میں بھی دہشت گردی بڑی رکاوٹ ہے ۔ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کرکے بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ایک خوشحال، پرامن اورفلاحی ریاست بنایا جائے گا۔ پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے ہر فرد کو اپنا کردارادا کرنا ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد سے ملک سے ہمیشہ کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔قومی قیادت کا عزم اورعوام کا اتحاد دہشت گردوں کیلئے عبرتناک انجام کا پیغام ہے ۔

Advertisements