پاکستان کی افغان طالبان کو سخت وارننگ


Qomendan-Hemmet-taliban-c-001

پاکستان کی افغان طالبان کو سخت وارننگ

پاکستان نے اپنی پالیسی میں بظاہر بڑی تبدیلی لاتے ہوئے افغان طالبان کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی تازہ کارروائیاں روک دیں یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

index

اس پیشرفت سے آگاہ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان کی طرف سے یہ پیغام حال ہی میں ’رابطہ کاروں‘ کے ذریعے پہنچایا گیا اور افغان حکام بھی اس سے باخبر ہیں۔ یہ غیرمعمولی اقدام امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود طالبان کی طرف سے افغان اور بین الاقوامی فورسز کے خلاف موسم بہارکی بڑی کارروائیاں شروع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس عہدیدار نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے طالبان قیادت پر واضح کیا کہ اگر تازہ آپریشن بند نہ کیا گیا تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ یہ بھی امکان ہے کہ طالبان نے اگر امن مذاکرات سے انکار جاری رکھا تو پاکستان بھی ان کیخلاف مشترکہ کارروائیوں میں شامل ہوسکتا ہے۔

A-former-Taliban-soldier--001
کچھ عرصہ قبل دوحہ میں افغان حکام اور طالبان نمائندوں نے ملاقات کی جس میں قیام امن پر غور کیا گیا تاہم طالبان کی طرف سے جاری مسلسل حملوں سے امن عمل خطرے میں پڑگیا ہے۔ خیال ہے کہ پاکستان چاہتا ہے تمام فریق بامقصد مصالحت کے لیے سیزفائر کریں۔ اس تناظر میں یہ بات قابل فہم ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے ماہ رواں میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر سمیت اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ دورہ کابل میں افغان قیادت کو طالبان کو دی گئی وارننگ سے آگاہ کیا۔

343615-lop-1428006927-925-640x480

news-1421133484-6624_large
کابل میں 12مئی کو پریس کانفرنس میں بھی نواز شریف نے طالبان کی پرتشدد کارروائیوں بالخصوص ’موسم بہار‘ کے آپریشن کی مذمت کی تھی۔ یہ بھی ایک غیرمعمولی بات تھی۔ دریں اثنا پاکستان آج اسلام آباد میں افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں ’ہارٹ آف ایشیا-استنبول‘ کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں 12شریک ممالک، 16حامی ممالک اور 12بین الاقوامی تنظیمیں شرکت کررہی ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی مشترکہ صدارت کریں گے۔
http://www.express.pk/story/360245/

دفتر خارجہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی کاررائیوں کو بلاجواز اور ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان صوبے ہلمند میں دہشت گردوں کی جانب سے حملہ بلاجواز اور ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں جب کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

http://www.express.pk/story/361047/

وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے بھی دشمن ہیں۔
پیر کو Heart of Asia-Istanbul Process کی پہلی اعلیٰ سطحی سرکاری اجلاس میں عزیز نے کہا کہ پاکستان کو چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے باہمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ملک امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
’ہمارے لیے افغانستان بہت اہم ہے، اس لیے نہیں ہماری سرحد مشترکہ ہے یا پھر ہماری نسلوں میں مماثلت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم اکھٹے علاقائی رابطے اور تعاون کے نئے دور میں داخل ہو رہےہیں‘۔
افغانستان اور ترکی کی مشترکہ کاوش Heart of Asia-Istanbul Process کا آغاز نومبر، 2011 میں ہوئی تھی، جس کا مقصد علاقائی مسائل پر غور وخوض کیلئےایک پلیٹ فارم اور افغانستان اور اس کے ہمسائیوں میں سیکیورٹی اور معاشی تعاون کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
سرتاج عزیز نے اس موقع پرافغانستان میں ترقی اور تبدیلیوں کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان کا پختہ عزم کو دہراتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مخلصانہ کوششوں اور وسائل سے پراسس ایک پیداواری راستہ پر چلتا رہے گا۔
اس سے پہلے پاکستان کےآرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ افغانستان کےدشمن پاکستان کےدشمن اور پاکستان کے دشمن افغانستان کےدشمن ہیں۔پاک فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ ’’آئی ایس پی آر‘‘ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ افغانستان کےدشمن پاکستان کے دشمن اور پاکستان کے دشمن افغانستان کے دشمن ہیں جب کہ جنرل راحیل شریف نے فرنٹیرورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کو طویل عرصے سے تعطل کا شکار طورخم جلال آباد کیرج وے منصوبے پر ایک ہفتے میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

140426-afghan-election-mn-1116_e0ba57ba8dd2ed4ba52bef1c98dd6aaa
افغانستان پاکستان کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد ہے اور نسلوں سے ایکدوسرے سے قریب جڑے ہوئے ہیں، دونوں ممالک صدر اشرف غنی کے وژن کے مطابق علاقائی روابط اور تعاون کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبال کا افغانستان سے لگائو اس کے سکالروں، صوفیائے کرام، عوام، تہذیب و اقدار کے باعث تھا۔نوازشریف کے حالیہ دورہ کابل سے خطہ میں پرامن اور خوشحال ہمسائیگی کے فروغ کیلئے باہمی کمٹمنٹ کی ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور ہم امن و ترقی اور خوشحالی کیلئے آگے بڑھنے کے سلسلہ میں باہمی تعاون کے ذریعہ درپیش چیلنجوں پر موثر طور پر قابو پا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا وہ خوف  کم ہوگیا ہے جو کہ غیر ضروری طور پراس کو بھارت کی جانب سے افغانستان کے راستے لاحق رہا ہے۔ موجودہ افغان حکومت نے اپنے انڈیا اور پاکستان سے تعلقات میں توازن رکھا ہے اور پاکستان کو موجودہ پالیسی میں دوست کے طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان ہمسائے ہیں اور مسلمان ممالک ہیں اور اچھے تعلقات رکھنا دونوں ممالک کی ضرورت بھی ہے۔  مشترکہ انٹیلیجنس شیرنگ کا معاہدہ اس تعاون کی مثال ہے۔پاکستان اور افغانستان کے اصل دشمن دہشت گردی اور غربت ہیں، دہشت گردی نے افغانستان اور پاکستان کو نقصان پہنچایا، دونوں ملکوں کا مستقبل روشن ہے پاکستان کا دشمن افغانستان کا دشمن اور افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔
دوطرفہ تعلقات کی دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ موجودہ فوجی قیادت نے پاکستان کے اندر ان گروپوں کو بھی نشانہ بنایا جن کو ’’گڈ طالبان‘‘ کہا جاتا رہا ہے اور امریکہ نے بھی کئی بار اعتراف کیا کہ پاکستان اب کے بار گڈ طالبان کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ تیسری وجہ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ کاؤنٹر ٹیررازم کے ایک مشترکہ میکنیزم نے افغانستان کے متعدد خدشات کم یا ختم کر دِیے ہیں جس کے باعث اعتماد سازی میں اضافہ ہورہا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی اقتصادی و معاشی ترقی کے بارے میں اس نئی سوچ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ ملک میں اقتصادی ترقی خطہ میں امن کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔ جب تک پاکستان و افغانستان میں طالبان اور دوسرے دہشتگردوں کی دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری رہیں گی ،غیر ملکی سرمایہ کاری جو کہ کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا اہم ذریعہ ہوتی ہے، پاکستان کی طرف راغب نہ ہوگی۔ لہذا امن اور ملکی اچھے حالات اب پاکستان کی معاشی ضرورت بن گئے ہے۔ جب تک افغانستان میں امن نہ ہوگا ،پاکستان میں بھی امن نہ آ سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور افغانستان ، دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے مل کرمشترکہ کوششیں کریں کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی  نے پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی ایجنسیوں کی درمیان ہونے والے معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک نیا باب کھولا ہے اور اس میں ہم نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور قیام امن کی کوششوں اور سکیورٹی میں ہماری مدد کریں۔‘
پاکستانیوں لیڈروں کے کابل کے حالیہ دورہ کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے کھلے الفاظ میں یہ پیغام دے ڈالا کہ طالبان میں کوئی بیڈ یا گڈ نہیں بلکہ وہ دہشت گرد ہیں اور ان کی دہشت گردی سے دونوں ممالک یکساں متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے لیے افغانستان کے کسی کونے میں نشانہ بننے والے بچے کا درد ویسا ہی ہے جیسا کہ پشاور میں نشانہ بننے والے بچے کا درد۔ یہ اشرف غنی کا پاکستان کے متاثرین خصوصاً پشتونوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ایک واضح اشارہ تھا اور ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے ایک ’’پیغام‘‘ بھی۔
ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات مثالی نہ ہوئے ہیں یا پراکسی وار کے پرانے سلسلے ختم نہ ہوئے ہیں تاہم برف پگھلنے لگی ہے اورباہمی تعاون ودوستی کے لئے فاصلے تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور باہمی اعتماد کی نئی فضا قائم و ہموار ہو رہی ہے اور مستقبل میں بعض بڑی اور اہم تبدیلیوں کے واضع مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں ۔

Advertisements