کوئٹہ فائرنگ سے دو ہزارہ ہلاک


quetta-2-killed_l1

کوئٹہ فائرنگ سے دو ہزارہ ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تشدد کے ایک واقعے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔تشدد کا یہ واقعہ بدھ کے روز کوئٹہ کے میکانگی روڈ پر پیش آیا۔کوئٹہ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ میکانگی روڈ پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کپڑے کی ایک دکان میں بیٹھے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد وہاں آئے اور دکان پر فائرنگ شروع کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں ان میں سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

150525192725_pakistani_security_officials__640x360_epa_nocredit
اس واقعے کے بعد شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مرکزی علاقوں میں دکانیں بند ہوگئیں۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل منگل کو بھی کوئٹہ شہر میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق شہر میں مختلف چھاپوں کے دوران 60 سے زائد افراد کوگرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ شہر میں تشدد کے حالیہ واقعات کا سلسلہ تین روز قبل مسجد روڈ پر سّنی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی دکان پر فائرنگ سے شروع ہوا تھا۔

images
اب تک شہر میں تشدد کے واقعات میں مجموعی طور سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے پانچ کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150527_quetta_hazara_killed_zz
پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ لشکر جھنگوی ،طالبان،القائدہ اور بی ایل اے کے دہشتگردگروپس طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔
اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

Advertisements