دمام میں مسجد کے باہر خودکش دھماکا


55683a9933ae8

دمام میں مسجد کے باہر خودکش دھماکا
سعودی عرب کے شہر دمام میں مسجد کے باہر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 4افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دھماکا مسجد کے باہر اس وقت ہوا جب خود کش بمبار نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق برقعہ پہنے خودکش بمبار کو مسجد کے دروازے پر ہی ہلاک کردیا گیا تاہم وہ خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے میں کامیاب رہا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔وزارت کے مطابق خود کش بمبار کا مقصد مسجد کو تباہ کرنا تھا جسے سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنادیا۔

news-1432895870-4799_large

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے دمام میں خود کش حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
عینی شاہد احمد نے رائٹرز کو بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ مسجد کے قریب موجود تھے.
دھماکے کے بعد سعودی سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیے اور تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1021774/

Saudi-blast-dammam-suicide_5-29-2015_186356_l
قطیف حملے کی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کی تھی۔ د اعش نے اس حملہ  کی ذمہ داری قبول کر لی  ہے۔
دہشتگردی اور بم دہماکے خلاف اسلام ہیں ۔بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے داعش کے سفاک دہشت گرد اسلام کے کھلے دشمن ہے اور سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے . داعش دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ مسجد پر داعش دہشت گردوں کا حملہ اسلامی اور انسانی اقدار کیخلاف ہے۔ ظالم دہشتگردوں کو مسجد، جو اللہ کا گھر ہوتی ہے کی حرمت کا بھی خیال نہ ہے؟
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے ،خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے۔ اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے۔ دہشتگرد اسلا م اور سعودی عرب کے دشمن ہیں ان کی اختراع وسوچ اسلام مخالف ہے ۔معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، ٹرینوں پر مسلح حملے کرنا اور بے گناہ مسافروں کو شہید کرنا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرنا، یا زخمی کرناخلاف شریعہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا دہشت گر دجماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
مساجد مسلمانوں کا صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی مرکز بھی ہیں اور ہمیشہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے رابطہ کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں ۔اسلام میں مساجد کا سیاسی کردار تاریخی لحاظ سے ابتدا سے اب تک جاری و ساری ہے۔
آ نحضرت صلعم کے دور میں اور بعد کے ادوار میں مسجد نبوی صرف نماز کے لیے استعمال نہیں ہوتی رہی بلکہ اس میں غیر ممالک سے آنے والے وفود سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ مسجد نبوی میں مختلف غزوات اور سرایہ کے منصوبے بنے اور صحابہ نے آنحضرت صلعم کی صحبت میں دین اسلام کی اعلی تر بیت حاصل کی۔
قران میں ارشادہے :
اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے ۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے ۔
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 114 )
مسجد اللہ کا گھر ہے ۔ مسجد میں اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے ۔
اورمسجد کی اہمیت وخصوصیت کے بارے میں اللہ کے رسول فرماتے ہیں :
أحب البلاد إلى الله مساجدها
اللہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
( مسلم ، کتاب المساجد ، باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح وفضل المساجد ، حدیث : 1560 )
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ {التوبہ18}
قرآن کریم میں مساجد کی تعمیر کو اہل ایمان کی صفت قرار دیا گیا ہے:
”انما یعمر مساجد اللّٰہ من آمن باللّٰہ و الیوم الآخر و اقام الصلوٰة و اتی الزکوٰة و لم یخش الا اللّٰہ… الخ۔“ (التوبہ:۱۸)
مساجد بنانے والے اور ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے‘ نبی آخر الزمان‘کی ‘زبانی ”اللہ کے پڑوسی‘ اللہ کے اہل‘ اللہ کے عذاب کو روکنے کا سبب اور اللہ کے محبوب“ کا خطاب پانے والے ہیں۔
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے
مسجد کو شریعت میں اللہ تعالی کا گھر کہا گیا اور اسکی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ۔ دہشتگردوں کو چاہئیے کہ مساجد جو اسلام میں ایک تقدس کی جگہ ہے اس کو برباد نہ کریں۔
مساجد پر خود کش حملے ، مساجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کی دہشتگردوں کی کھلی اور ناپاک سازش وشرارت ہے اور کوئی راسخ العقیدہ مسلمان اس طرح کی شیطانی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ میں صرف سجد ضرار کی تباہی کا حکم خدا کی طرف سے آنحضرت صلعم کو آیا تھا ۔ مساجد اسلام کو زندہ و تابندہ رکھنے میں بڑی ممد و معاون ہیں اور مساجد کی تباہی جیسی غلیظ حرکتوں سے اسلام اور سعدوی عرب کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

 

Advertisements