مستونگ، کوچز پر حملہ، 21 مغوی مسافر قتل


150529233200_pakistani_paramedics__624x351_getty

مستونگ، کوچز پر حملہ، 21 مغوی مسافر قتل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح دہشتگردوں نے دو بسوں کے کم از کم 21 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان مسافروں کو پشین سے کراچی جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا تھا۔بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسافر کوچز کے مغوی 21مسافروں کو اغواکاروں نے قتل کردیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5مسافروں کو بازیاب کروا لیا۔

150531194308_quetta_640x360_afp

150531194400_quetta_640x360_bbc_nocredit
محکمہ داخلہ کے مطابق مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ کے قر یب نامعلوم مسلح افراد نے 2مسافر کوچز سے متعدد مسافروں کو اغوا کرلیا اور نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے، واقعہ کی اطلاع ملنے پر علاقہ میں لیویز فورس اور فرنٹئیرکور نے ملزمان کا پیچھا کیا، اس دوران فائرنگ کے تبادلے کے بعد اغوا کرنے والے دہشتگردوں نے 21مسافروں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جبکہ 1مسافر زخمی ہوگیا۔ جس کو فوری طور پر کوئٹہ منتقل کر دیا گیا، فور سز نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5مغویوں کو بازیاب کروا لیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور سیکرٹری داخلہ اکبر درانی آپریشن کی نگرانی کے لیے متعلقہ علاقے کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیر اعلی نے کھڈ کوچہ میں مسافروں کے اغوا اور انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، واقعہ میں ملو ث عناصر کی بیخ کنی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

یونائٹید بلوچ آرمی نے مستونگ واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی۔

150530063500__bodies_of_the_victims_of_an_attack_on_passenger_bus_in_mastung_area_are_shifted_to_a_hospital_in_quetta_624x351_epa

زیراعظم نوازشریف نے مستونگ میں بسوں کے اغوا ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ آپریشن کی نگرانی کیلیے وزیراعلی اور وزیرداخلہ بلوچستان مستونگ روانہ ہوگئے ہیں جبکہ واقعے کے خلاف ٹرانسپوٹرز نے کراچی کوئٹہ شاہراہ پر احتجاج کرتے سڑک بلاک کردی جس سے ٹریفک جام ہوگیا۔

150530020954_residents_gather_around_an_ambulance_carrying_dead_bodies_of_killed_bus_passengers_outside_the_hospital_in_quetta_624x351_afp

150530063608__bodies_of_the_victims_of_an_attack_on_passenger_bus_in_mastung_area_are_shifted_to_a_hospital_in_quetta_624x351_epa
ایوان وزیر اعظم سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے مستونگ میں مسافروں کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی مسافروں کی بازیابی کے لیے ایف سی کو اسلحہ اور ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق سانحہ مستونگ میں 21 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے ہیں ۔اس دلخراش واقعے پر پشتو نخواہ ملی عوامی پارٹی نے صوبے بھر میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستونگ واقعہ کے خلاف تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں۔انھوں نے کہا متحد ہو کر ہی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ سانحہ مستونگ کے سوگ میں سنیچر کو کوئٹہ شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہلاک ہونے والے 21 مسافروں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں جبکہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔
ڈی سی مستونگ نے بتایا کہ مستونگ کےقریب کھڈ کوچہ سےمسلح افراد نے 2 بسوں سےمسافروں کواغوا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15سے 20 اغوا کاروں نے 35 مسافروں کو اغوا کیا۔ سیکیورٹی فورسز اطلاع ملنے پر علاقے میں پہنچی ںتو شرپسندوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 21 یرغمالی مسافر ہلاک ہو گئے۔
فورسز کا مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ اب تک کسی گروپ نے مسافروں کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیویز کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ پانچ مسافروں کو دہشت گردوں نے رہا کر دیا ہے۔
کمانڈرسدرن کمانڈر جنرل ناصرخان جنجوعہ نے کہا ہے کہ دشمن ذہنی پستی کا شکارہے،ہمارے بچوں کو مارنے لگاہے، یہ کون سا دشمن ہے،اس کی کیا سوچ ہے؟ یہ دشمن پیچھے سے حملہ کرتا ہے، دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان کا خون ہمیشہ بہتا رہے، سانحہ مستونگ کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں۔ کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناصرخان جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پشتون اوربلوچ کولڑانےکی سازش کی گئی،ہم سب ملکردشمن سےلڑینگے، ہم سب مل کران سے حساب لیں گے، آپ دشمن کی وجہ سے آپس میں نہ لڑیں، کوئی بھول میں نہ رہے ہم سب ملکردہشتگردوں سے لڑیں گے، اگلی صدی بلوچستان کی صدی ہے۔

11008794_10153380878058184_6734912938800516287_n

فرنٹیئر کور نے سانحہ مستونگ میں ملوث تیرہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایف سی کے ترجمان خان واسع نے بتایا ” ایف سی نے بلوچستان کے اضلاع قلات اور پنجگور میں ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران تیرہ شرپسندوں کو ہلا ک کردیا ہے”۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع قلات کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا جس دوران فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔ایف سی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عسکریت پسند مبینہ طور پر مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں 29 مئی کو بیس مسافروں کو ہلاک کرنے کے واقعے میں ملوث تھے، تاہم ایف سی کے دعویٰ کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہ ہے۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ۵۰،۰۰۰ پاکستانی اپنی جان سے ہاتح دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقٹصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ۔. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ۔
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، تعلیمی اداروں ،طالبعلموںاور اساتذہ اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے ۔
معصوم شہریوں کا قتل کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور جو لوگ ان دہشت گردوں کی کھلی حمایت کرتے ہیں وہ بھی انسانیت کے دشمن ہیں۔
القائدہ،لشکر جھنگوی،یونائٹیڈ بلوچ آرمی اور دوسرے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کو پھیلا رہے ہیں اور عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

Advertisements