‘عسکریت پسندوں کے حملے عروج پر’


556d5360e1f39

‘عسکریت پسندوں کے حملے عروج پر’

 اسلام آباد: 2014ء کے وسط میں فوجی آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد دہشت گرد حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی تھی، تاہم اب اس میں اضافے کا رجحان ظاہر ہوا ہے۔

ایک تھنک ٹینک، پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے تنازعات اور سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کی گئی سیکیورٹی تجزیے پر مبنی ماہانہ رپورٹ کے مطابق اپریل کے مقابلے میں مئی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ملک بھر میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں 33 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے، ہلاکتوں کی تعداد میں 60 فیصد سے زیادہ کا اضافہ اور زخمیوں کی تعداد میں 16 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور وہ اب عام لوگوں کی طرز کے نرم اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔
مئی کے دوران عسکریت پسندوں اور باغیوں کی جانب سے ریاست مخالف تشدد کے 162 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جس میں 311 افراد ہلاک ہوئے، 136 زخمی اور تین کو اغوا کیا گیا۔ تقریباً 503 مشتبہ افراد کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا۔
162 پرتشدد واقعات میں سے 75 عسکریت پسندوں سے منسوب کیے گئے، جو 175اموات اور 116 افراد کو زخمی کرنے کا سبب بنے۔
سوائے فاٹا کے ملک کے تمام حصوں میں عمومی طور پر اور بلوچستان میں خاص طور پر عسکریت پسند حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔ درحقیقت فاٹا میں ان حملوں کی تعداد میں 21 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
بلوچستان میں عسکریت پسند حملوں میں تقریباً 62 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی تقریباً 32 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 37 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
سندھ میں ان حملوں کی تعداد 50 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 22 فیصد تک بڑھی ہے۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگرچہ عسکریت پسند اہم اہداف جیسے فوجی تنصیبات پر حملے کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں، (سوائے کراچی میں پولیس افسروں کی ٹارگٹڈ کلنگ کے)، تاہم وہ عام آبادی جیسے نرم اہداف کو نشانہ بنانے میں کافی سرگرم پائے گئے ہیں۔
مئی 2015ء میں دو ہائی پروفائل حملے دیکھے گئے، جن میں سے ایک کراچی میں اسماعیلی برادری اور دوسرا مستونگ میں پشتونوں پر حملہ تھا۔
اس کے علاوہ صدر ممنون حسین کے بیٹے کو ایک دیسی ساختہ بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن وہ اس میں محفوظ رہے۔
بلوچستان میں مئی کے دوران 34 عسکریت پسند سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا گیا، جس میں 44 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے تنازعات اور سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان میں ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے، اور اس طرح کی پالیسی کو ہندوستانی وزیرِ دفاع کی جانب سے تسلیم بھی کیا گیا۔اس صوبے میں تشدد کی لہر کے تازہ ترین اضافے میں بیرونی ہاتھ دیکھا گیا ہے، جس کا بظاہر مقصد پاکستان چائنا اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانا ہے۔‘‘
مستونگ میں بس کے پشتون مسافروں کے قتل عام نے صوبے میں پہلے سے قائم امن و امان کی نازک صورتحال کو ایک نئی سمت دی ہے۔
پی آئی سی ایس ایس کا کہنا ہے کہ ’’پشتون آبادی کو نشانہ بنانے کا مقصد بلوچ اور پشتونوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے، جس سے صوبے کی سماجی اور سیکیورٹی کی حالت پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔‘‘
اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 22 اپریل سے 28 مئی کے دوران دیسی ساختہ بم حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں گیارہ سے اکیس افراد کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔
پی آئی سی ایس ایس کی جانب سے اکھٹا کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی کے مہینے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی 87 کارروائیاں کی گئیں، جس سے اس طرح کی سرگرمیوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ ان کارروائیوں میں 137افراد ہلاک جبکہ 12 زخمی ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل اطہر عباس نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج دہشت گردوں کو ہلاک کرسکتی ہے، لیکن دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندوں کی توجہ نرم اہداف کی جانب مبذول ہونے کی دو وجوہات ہیں۔
اطیر عباس نے کہا کہ ’’پہلی وجہ یہ ہے کہ طالبان اپنے قبائلی علاقے سے محروم ہوگئے ہیں، جسے وہ تنصیبات پر حملے سے پہلے منصوبہ بندی اور مشقوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اب وہ مذہبی اور کالعدم تنظیموں میں اپنے حمایتیوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کررہے ہیں، جو نرم اہداف کو ہی نشانہ بناسکتے ہیں، اس لیے کہ ان کے پاس طالبان کی مانند مشقوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’دوسری وجہ یہ ہے کہ اب طالبان کھل کر سامنے آگئے ہیں، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے عوام میں کوئی ہمدردی موجود نہیں ہے۔ انتہاءپسندوں کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے اور اب یہ سول انتظامیہ کا کام ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز کرے، اس لیے کہ ایسا صرف سول محکموں کی جانب سے ہی کیا جاسکتا ہے۔‘‘
سیکیورٹی اور دفاع کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ طالبان اب پیچھے ہٹنے پر مجبور ہورہے ہں، اس لیے کہ لوگوں نے ان کے خلاف بات کرنا شروع کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اب سول محکموں کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مضبوط بنایا جائے۔ حکومت کے کئی دعووں کے باوجود نیکٹا کو حقیقی معنوں میں متحرک نہیں کیا گیا ہے۔ محکموں کو فعال بنایا جائے تو وہ فوج کی جانب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں گے۔‘‘
http://www.dawnnews.tv/news/1021944/

hkany_afganstan-1-10

آل پارٹیز کانفرنس جو کہ بلوچستان کے وزیر اعلی نے بلائی ہے کےمو قع پر سانحہ مستونگ اور بلوچستان کی امن و امان  کی صورتحال پر وزیراعظم پاکستان کو بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مستونگ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن گھناؤنی کارروائیوں سے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کے دشمن ملک کی ترقی اور خوشحالی نہیں دیکھ سکتے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کا عزم رکھتی ہے۔
شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔
ادہر نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کردی ہے۔ نیکٹا کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں پاک فوج کی کارروائیوں میں 2 ہزار دہشت گرد مارے گئے جب کہ اس دوران 200 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 800 اہلکار زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ آپریشن ضرب عضب میں 135 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جب کہ 114 دہشت گردوں نے ہتھیار ڈالے۔
آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشتگردی کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہو گئی ہے اور دہشتگردوں کا پہلے جیسا زور ٹوٹ چکا ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں اور دہشتگرد وہاں سے تتر بتر ہو چکے ہیں۔ دہشتگرد اب ملک کے مختلف حصوں میں چھپ کر سافٹ ٹارگٹس کے خلاف اپنی وارداتیں کرنے میں مصروف ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ دہشت گردی ہر حال میں قابل مذمت ہے۔“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں.
دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان اور دوسرے دہشتگرد جہاد میں مصروف نہ ہیں بلکہ امت مسلمہ میں تفرقہ و دہشتگردی  پھیلا رہے ہیں۔ جہاد و قتال تو الہہ تعالی کی خشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے الہہ کی راہ میں کیا جاتا ہے۔
اسلام بیگناہ انسانوں کے ناحق قتل عام ، خود کش حملے، بم دھماکے اور دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے اور کروانے کو قطعی حرام قرار دیتا ہے۔ داعش، النصرہ فرنٹ، بوکو حرام، الشباب، تحریک طالبان پاکستان ، القاعدہ اور اُن جیسی دوسری نام نہاد جہادی تنظیموں اور نام نہاد قوم پرست تنظیموں کا فلسفہ گمراہ کن ، طرز عمل غیر اسلامی ، غیر اخلاقی اور فہم اسلام ناقص اور جہالت پر مبنی ہے ۔ ان تنظیموں کی کارروائیاں کسی بھی طرح انسانی معاشرے میں قابل برداشت نہیں ہیں۔ اسلام فرقہ واریت، لسانیت، عصبیت، علاقائیت اور دیگر خودساختہ اختلافات کی بنیاد پر قتل کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔
طالبان، القائدہ،لشکر جھنگوی،یونائٹیڈ بلوچ آرمی اور دوسرے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کو پھیلا کر پاکستان کے دفاع کو کمزور کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

Advertisements