کوئٹہ میں فائرنگ سے پانچ شیعہ ہزارہ ہلاک


141023050256_hazara_640x360_afp

کوئٹہ میں فائرنگ سے پانچ شیعہ ہزارہ ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

11108952_474962249336364_4553312064943214910_n

فائرنگ کا یہ واقعہ اتوار کو کوئٹہ میں سرکلرر روڈ پر میزان چوک کے قریب پیش آیا۔کوئٹہ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ میزان چوک پر واقع ایک دکان پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد جمع تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد وہاں آئے اور فائرنگ شروع کر دی۔اہلکار کے مطابق اس فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہلاک اور دو شدید زخمی ہوگئے۔زخمی ہونے والے دونوں افراد کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا تاہم وہ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

10351091_474962226003033_3541758539353855443_n
اس واقعے کے بعد شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مرکزی علاقوں میں دکانیں بند ہوگئیں جبکہ علاقے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد پہنچ گئی۔
تاحال کسی تنظیم یا گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
کوئٹہ میں ایک وقفے کے بعد شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے ارکان کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ ماہ بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں ہزارہ قیبلے سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150607_hazara_killed_quetta_sr

150607163939_shia_hazara_killings_dead_bodies_with_credit_getty_640x360_getty
تاحال کسی تنظیم یا گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم شیعہ ہزارہ برادری کے خلاف دہشت گردی میں لشکر جھنگوی اور کالعدم جنداللہ ملوث رہی ہیں اور یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں طالبان کی ساتھی ہیں۔

11377283_474962239336365_2258665594268094506_naa
صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں فائرنگ کے واقعے میں ہزارہ برادری کے افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو واقعے کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی۔ صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے، واقعے کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے بھی کوئٹہ میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔

11401117_474962259336363_9015206859884517013_n
پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دہشتگردگروپس طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔
پاکستانی طالبان اور لشکر جھنگوی دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔
طالبان اور لشکر جھنگوی کے دہشتگرد اپنے آپ کو مسلمان بھی قرار دیتے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہاتے ہیں۔ وہ معصوم لوگوں کو انتہائی سفاکانہ طریقے سے قتل کرکے اپنے لئے جنت نہیں بلکہ دوزخ خرید رہے ہیں۔لشکر جھنگوٰی اور طالبان کے دہشتگردوں کو نکیل ڈالنا ضروری ہے۔ فرقہ پرستی کی ترویج کے لئے دوسروں کو قتل کرنا سراسر ناجائز ہے ۔ وہ دین اسلام جو صرف مسلمانوںکے علاوہ غیر مسلموں تک کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے اس کے ماننے والے خود ہی مسلکی و فقہی اختلافات کی بنا پر اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے خون سے رنگنا شروع کردیں تو اسے کس طرح جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

Advertisements