شمالی وزیرستان میں 25 دہشت گرد ہلاک


index

شمالی وزیرستان میں 25 دہشت گرد ہلاک
شوال، شمالی وزیرستان کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 25 دہشت گرد ہلاک جب کہ متعدد زخمی اور ان کے کئی ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق سیکیورٹی فورسز نےپاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جس کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ کارروائی میں اہم دہشت گرد کمانڈر بھی ہلاک جب کہ ان کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ ہوئے۔

indexaa

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے نتیجے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گزشتہ برس دہشت گردوں کے خلاف شروع کئے جانے والے آپریشن ضرب عضب میں اب تک سیکڑوں دہشت گرد ہلاک جب کہ سیکیورٹی فورسز کے متعدد جوان بھی شہید ہو چکے ہیں۔
http://www.express.pk/story/365834/

_71375111_71375110

وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک ختم ہوگیا ہے۔ ان کی نگرانی کا نظام درہم برہم اور ان کی حمایت کرنے والے کمزور ہوگئے ہیں۔’ہم کامیاب ہورہے ہیں لیکن ابھی لمبا راستہ باقی ہے کیونکہ ہم نسلی اور فرقہ وارانہ سمیت ہر قسم کے تشدد کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔‘

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا ہےکہ ملک میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہے گا، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم حق پر ہیں فتح ہماری منزل ہے، دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے متزلزل نہیں کر سکتے ۔ ضرب عضب آپریشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے اہداف واضح ہیںاور آپریشن ضرب عضب کا مقصد پاکستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام لانا ہے۔پاک فوج نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھد ی ہے اور اب طالبان دہشتگرد ایک مربوط و منظم طاقت کی حثیت کھو بیٹھے ہیں۔ اُن کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی بُری طرح متاثر ہوا، دہشت گردوں کے بہت سے لیڈر مارے گئے، جس کی وجہ سے ان کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ اِدھر اُدھر بکھر گئے، جن کے لئے ممکن ہو سکا انہوں نے افغانستان کے علاقوں میں پناہ لے لی، یوں اب تک شمالی وزیرستان کا90فیصد علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے اور اس علاقے میں دہشت گرد کوئی واردات کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئے۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل عاصم باجوہ نے آپریشن ضرب عضب کے ایک سال مکمل ہونے پر 2 ہزار 763 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
اس ایک سال کے دوران پاک فوج کے 347 افسر اور جوان بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں آئی ایس پی آر ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کے ایک سال کے دوران فاٹا کی ایجنسی شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں فوج کو اہم کامیابیاں ملیں اور مبینہ دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے، مواصلاتی نظام اور پناہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کردی گئیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب دہشتگردی کے خاتمے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے آپریشن ضرب عضب کے ایک سال کو فتح کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والےقابل احترام ہیں ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے ایک سال میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ قوم مسلح افواج کے شہیدوں کی احسان مند اور شکر گزار ہے ۔ شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ شہدا کے اہل خانہ نے غیر معمولی قربانیوں دی ہیں ۔قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والےقابل احترام ہیں ۔ آپریشن ضرب عضب آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔

دہشتگردی کے خاتمہ سے علاقہ و خطہ میں امن قائم ہوگا اور استحکام آئے گا۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور اسلام کے مقدس نام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گرد پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلام کا چہرہ بھی مسخ کر رہے ہیں۔
اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کاامیج خراب ہورہا ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق، کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔، پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ شرک کے بعد قتل سب سے بڑا گنا ہ ہے۔،دہشت گردوں کے خلاف جہاد میں حکومت سے تعاون ہرشہری کا فرض ہے۔ پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خودکش حملے کر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ بے گناہ طالبات، عورتوں، بوڑھوں، غیرملکی مہمانوں، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی جہاد کے منافی ہیں۔ کیا طالبان نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔
دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. طالبان اور دوسرے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کو پھیلا رہے ہیں اور پاکستان کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں مگر اب دہشتگردی کے خاتمہ کا وقت قریب آ چکا ہے اور ان دہشتگردوں کو کہیں چھنے کا موقع نہ ملے گا۔
۔دہشت گردی اور دہشت گردوںکاخاتمہ وقت کافیصلہ ٹھہر چکا ہےہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔
آپریشن ضرب عضب کے بعد امن و آشتی و ترقی و استحکام کا ایک نیا سورج طلوع ہوگا جس کی روشنی سے وطن عزیز کا ذرہ ذرہ جگمگا اٹھے گا اور ہر خاص و عام اس سے مستفید ہو سکے گا۔

Advertisements