مزید بلوچ کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیے


8cc51b30f93c730259eb70f021f345c2_M

مزید بلوچ کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے بلوچستان لبریشن آرمی کے دو فراری کمانڈروں نے 57 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں۔اتوار کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں ہتھیار ڈالنے والے کمانڈروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر ثنا اللہ زہری نے ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ثنا اللہ زہری کا کہنا تھا کہ آج ہمارے وہ نوجوان پہاڑوں سے اترے ہیں’جنھیں بھٹکا کر غلط طریقے سے آزادی کے نام پر پہاڑوں پر لے جایا گیا، اور اپنے لوگوں کو ان سے نقصان پہنچایا گیا۔

284354_55563352

آزادی کی جنگ لڑنے والے بلوچ نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ’جتنے بھی ہمارے نوجوان بھٹکے ہوئے ہیں، پہاڑوں پر ہیں وہ واپس آجائیں ہم انھیں خوش آمدید کہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو وہی عزت ملے گی جو ہر پاکستانی شہری کو ملتی ہے تاہم اس کے لیے وفاداری شرط ہے۔
آج آپ جو نوجوان آئے ہیں۔ آپ کو ہم وہی عزت دیں گے جو دوسرے عام شہریوں کو ملتی ہے۔ لیکن آپ کو ایک عہد کرنا ہوگا۔ کہ جس طرح ہم پاکستان کے ساتھ ہیں، اسی طرح آپ بھی پاکستان کے ساتھ وفادار رہیں گے۔‘
ثنا اللہ زہری نے حربیار مری اور براہمداخ بگٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جو شہزادے باہر بیٹھے ہوئے ہیں لندن کی ٹھنڈی ہواؤوں میں بیھٹے ہوئے ہیں وہ نہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی آپ کے خیر خواہ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ انقلاب آپ اس وقت لا سکتے ہیں جب آپ کے ساتھ عوام ہوں لیکن ان کے پاس ایک فیصد عوام کی نمائیندگی نہیں ہے۔
اس موقع پر بلوچ لبریشن فرنٹ اور لشکرِ بلوچستان کا ساتھ چھوڑ کر صوبائی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے دونوں کمانڈروں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی۔
ایک کمانڈر جنھوں نے اپنا نام عبید اللہ عرف ببرک بتایا کہ کہ وہ اور ان کے ساتھی سمجھتے تھے کہ ’جاوید مینگل کے لشکرِ بلوچستان میں شامل ہونے سے بلوچوں کی بہتری ہوگی۔ لیکن پانچ سال میں یہ احساس ہوا کہ یہ محض ایک دھوکا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ آزادی کی جھوٹی جنگ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں۔
دوسری جانب بی ایل ایف اور لشکر بلوچستان کے ترجمانوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے کمانڈروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150614_baloch_commanders_surrendered_hk
اس سے پہلے کالعدم عسکریت پسند گروپس کے دو کمانڈرز نے اپنے 47 ساتھیوں کے ہمراہ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
شکاری مری اور مدینہ مری نے اپنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان ایک پریس کانفرنس کے دوران کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست مخالف سرگرمیوں کو چھوڑ کر پاکستان کے شہری کے طور پر عوام کی خدمت کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھتے تھے۔
اس موقع پر بلوچستان کے وزیر آبپاشی اور مری قبیلے کے سربراہ نواب چینگیز مری، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، اور فرنٹیئر کور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل بریگیڈیئر طاہر محمود نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ صوبے کی ترقی و خوشحالی کے امن کی ضرورت ہے۔
وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بیرون ملک مقیم قوم پرست رہنماﺅں کو بلوچستان میں عسکریت پسندی کی سرپرستی سے گریز کرنا چاہئے ” بیرون ملک مقیم بلوچ قوم پرست رہنماﺅں کو وطن واپس آکر مرکزی دھارے کی سیاست میں شامل ہونا چاہئے”۔
انہوں نے کہا کہ ایف سی، پولیس اور لیویز فورس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں حال ہی میں تیزی اس وقت سامنے آئی جب پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کا اعلان کیا گیا جو کہ بلوچستان کے راستے سے گزرے گی۔
http://www.dawnnews.tv/news/1022519
دہشتگردی و قتل و غارت گری کی راہ ملک و قوم کی تباہی و بربادی کا راستہ ہے۔ دہشتگردی کا راستہ ترک کر کے ملک و ملت میں امن قائم کرنا،ترقی ، بہتری اور عوامی بہبود کے لئے کام کرنا عین عبادت ہے۔ملک میں معاشی ترقی امن و آشتی کے ماحول ہی میں ممکن ہے ۔ہتھیار ڈال کر دہشتگرد ملکی سیاسی و جمہوری دہارے میں شامل ہو جائیں گےاور جمہوری طریقوں سے حقوق کے حصول و حفاظت کی پر امن جدوجہد کر سکتے ہیں۔ طالبان اور دوسرے دہشتگردوں کو  بھی  ان بلوچوں کی راہ کو اپنانا چاہئیے اور خلق خدا کے ناحق قتل سے باز آجانا چاہئیے اور قومی داہارے میں شامل ہو کر پر امن ذرائع سے جمہوری جدوجہد کرنی چاہئیے۔
اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور امن کے مقاصد کو آگے بڑہاتا ہے۔ دہشتگردوں کو یہ علم ہونا چاہئیے کی اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ معصوم اور بیگناہوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور پاکستان اور امن کے دشمن ہیں ، ان کی اختراع وسوچ اسلام و پاکستان مخالف ہے ۔اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے۔ دہشتگرد پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔
ملک میں معاشی ترقی اور صنعتیں تب ہی لگیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری تب ہو گی جب ملک میں امن و امان ہو گا ۔اس وقت ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔پاکستان بدحالی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ معیشت بند گلی مین داخل ہو گئی ہے۔پاکستان کی معیشت کو 100ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔پاکستان کو اس وقت امن و امان کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
دہشتگردی کے خاتمہ پر ملک میں امن و امان بحال ہوگا اور ترقی و خوشحالی کا ایک نیا باب شروع ہوگا جس کا فائدہ ہر پاکستانی کو پہنچے گا۔

Advertisements