ضربِ عضب کس قدر کامیاب؟


150105115732_zarb_e_azb_military_operation_640x360_bbc

ضربِ عضب کس قدر کامیاب؟

رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ ایک سال سے جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر بڑے بڑے حملوں میں کمی تو نظر آئی ہے لیکن علاقہ ابھی تک مکمل طورپر عسکری تنظیموں سے صاف نہیں کرایا جاسکا ہے۔ایک سال پہلے تک طالبان کی ’امارت‘ سمجھی جانے والے شمالی وزیرستان میں حکومتی عمل داری کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں پر ملکی اور غیر ملکی دہشت گرد قابض تھے جنہوں نے مقامی لوگوں کو بھی یرغمال بنایا ہوا تھا۔

10402653_728775820497914_8063829289295629082_n
ابتدا میں یہ آپریشن تیزی سے جاری رہا لیکن جوں جوں اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا کاروائیوں میں بھی اب اس طرح کی تیزی نظر نہیں آرہی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیرستان کے 80 فیصد علاقے پر حکومتی عمل داری بحال ہوگئی ہے۔ لیکن پچھلے سات ماہ کے دوران بیس فیصد علاقہ پر کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ پاک افغان سرحدی علاقوں دتہ خیل اور شوال میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بدستور کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
آپریشن کے نتیجے میں فوج کس حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کا میاب رہی ہے، اس ضمن میں رائے منقسم نظر آتی ہے۔ دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیر (ر) محمد سعد کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے تک ملک میں ایک افراتفری کی فضا تھی، ہر طرف بڑے بڑے حملے ہورہے تھے، کراچی ایئر پورٹ پر بڑا حملہ کیا گیا تاہم آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے حالات اب کچھ حد تک بہتر ہوئے ہیں۔

10492389_728775623831267_2274675049170672551_n
ہم اسے مکمل کامیابی بالکل نہیں کہہ سکتے بلکہ وقتی طورپر دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ جو لوگ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ان کے پاس اب بھی یہ صلاحیت ہے کہ بڑی بڑی کاروائیاں کرسکیں جیسے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ، کوئٹہ پشتون آباد اور کراچی میں شیعہ اسماعیلیوں پر حملے اس کا واضح ثبوت ہے۔‘
ان کے مطابق حالیہ حملے دہشت گردوں کی جانب سے ایک پیغام بھی ہیں کہ وہ اب بھی کسی علاقے میں کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
محمد سعد نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہاں جلد از جلد کاروائی مکمل کی جائے اور بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرکے اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کردیےجائے تاکہ بحالی کے منصوبوں کا آغاز کیا جاسکے۔
اس آپریشن کی ابتدا سے ہی متعلقہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کو بڑی محدود رسائی دی گئی۔ حکومت اور فوج کی جانب سے تمام معلومات کو بڑے کنٹرول میں رکھا گیا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہاں کتنی ہلاکتیں ہوئی، کس فریق کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور عسکری تنظیموں کی قیادت کہاں گئی؟
شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سنئیر تجزیہ نگار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اس حد تک تو کامیاب نظر آرہا ہے کہ تحریک طالبان کے جنگجو بکھر گئے ہیں اورلگتا ہے انکے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے ہیں اور وہاں آپریشن بھی جاری ہے لہذا اسے مکمل کامیاب آپریشن نہیں کہا جاسکتا۔
آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جو پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے مکانات میں بدستور مقیم ہیں۔
حکومت نے حال ہی میں متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیاجس کے تحت بے گھر افراد کو ایک سال کے اندر گھروں کو واپس بھیجا جائے گا۔ ابھی تک اطلاعات کے مطابق بیشتر ان علاقوں کے افراد کو واپس بھیجا گیا ہے جہاں باقاعدہ آپریشن نہیں کیا گیا تھا جس کے خلاف متاثرین اور تمام اقوام پر مشتمل وزیرستان کا نمائندہ جرگہ سراپا احتجاج ہے۔
قبائیلیوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے میران شاہ اور میرعلی تحصیلوں کے متاثرین کو واپس منتقل کیا جائے جو سب سے پہلے بے گھر ہوئے اور جن کا نقصان بھی زیادہ ہوا ہے۔

TaharakTalibanPakistan
ادھر دوسری طرف آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے347 افسران اور جوان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے سنیچر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں جاری کارروائیوں کے دوران بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 9000 خفیہ اطلاعات پر کارروائیوں میں شہری علاقوں میں موجود 218 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150616_zarb_e_azb_one_year_analysis_hk

pakistan-dgISPR_10-29-2014_164059_l

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گذشتہ برس شروع کیے جانے والا فوجی آپریشن اب قومی آپریشن کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر ملک کی سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت کے اتفاقِ رائے سے ظاہر ہے کہ وہ فوج کی جانب سے ایک علاقے میں شروع کی گئی کارروائی آج ملک بھر کی لڑائی بن چکی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ فوج اس صورتحال میں آپریشن سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے کہ جب شدت پسند گروپوں کے مرکزی رہنما اور قائدین سرحد پار چلے گئے ہیں، میجر جنرل باجوہ نے کہا کہ شدت پسند تنظیموں کی قیادت کا ملک چھوڑ کر افغانستان بھاگ جانا بھی ضربِ عضب کے کارگر ہونے کی دلیل ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی کارروائی نے’ان شدت پسندوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔‘
پاکستان کے وزیرِ اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب دہشتگردی کے خاتمے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔وزیرِ اعظم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ان کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دینے والوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انھی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان دہشتگردی کے خاتمے میں کامیاب رہا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکا۔
وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم ان لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے جو اس خطرناک محاذ پر لڑ کر قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا حال قربان کر رہے ہیں۔
ادھر ملک کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے خلاف متعدد اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔

General-Raheel-Sharif-400x300
بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ یہ آپریشن کامیاب رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے بعد شہری علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑے بڑے حملوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
اس آپریشن کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کی ’امارت‘ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان کو تو شدت پسندوں سے خالی کروالیا گیا ہے تاہم بیشتر طالبان تنظیموں کی قیادت بدستور محفوظ ہے کیونکہ وہ پاکستان سے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لیئے ہو ئے ہیں۔
ضرب عضب آپریشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے اہداف واضح ہیںاور آپریشن ضرب عضب کا مقصد پاکستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام لانا ہے۔شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے آپریشن سے میرانشاہ اور میر علی میں موجود عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ‘مکمل طور پر’ ختم ہوچکی ہیں مگر شمالی وزیرستان کےبعض علاقوں میں دہشتگرد سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔
پاک فوج نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھد ی ہے اور اب طالبان دہشتگرد ایک مربوط و منظم طاقت کی حثیت کھو بیٹھے ہیں۔ اُن کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی بُری طرح متاثر ہوا، دہشت گردوں کے بہت سے لیڈر مارے گئے، جس کی وجہ سے ان کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ اِدھر اُدھر بکھر گئے، جن کے لئے ممکن ہو سکا انہوں نے افغانستان کے علاقوں میں پناہ لے لی، یوں اب تک شمالی وزیرستان کا90فیصد علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے اور اس علاقے میں دہشت گرد کوئی واردات کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئے۔
دہشتگردی کے خاتمہ سے علاقہ و خطہ میں امن قائم ہوگا اور استحکام آئے گا۔

متاثرین کی واپسی اور بحالی ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے جو دہشت گردوں کی موجودگی اور متاثرین کو دہشتگردوں کے چنگل سے بچانے کی وجہ سے رونما ہوا ہے اور صرف اور صرف دہشتگرد اور ان کی دہشتگردی ہی اس انسانی المیہ کی ذمہ دار ہے۔ متاثرہ علاقہ سے دہشتگردوں کے صفایا اور اور ان علاقوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے پر ان متاثرین کو جلد از جلد  ان کے متعلقہ علاقوں میں آباد کیا جائے ۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور اسلام کے مقدس نام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گرد پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلام کا چہرہ بھی مسخ کر رہے ہیں۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔
دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔
ضرب عضب کی کامیابی کے حوالہ سے پاکستانی عوام پر یقین ہیں اور ان کو یہ صاف نظر آرہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ اب یقینی ہےاور شکست و ذلت طالبانی و دوسرے دہشتگردوں کا مقدر بن چکی ہے۔
آپریشن ضرب عضب کے بعد امن و آشتی و ترقی و استحکام کا ایک نیاباب شروع ہو گا اور پاکستان کے تمام شہری اس کے ثمرات سے بہرہ مند ہو نگے۔

Advertisements