ماہ رمضان اور گرانی و ذخیرہ اندوزی


366550-Vegetablesphotoexpress-1434312608-982-640x480

ماہ رمضان اور گرانی و ذخیرہ اندوزی
رمضان کا مہینہ برکتوں،رحمتوں اور نزول قران کا مہینہ ہے۔اس مہینہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ صدقہ، خیرات فطرہ اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اس طرح اپنے غریب مسلمان بھائیوں کے لیے خوشیوں کا سامان کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیے جاتے ہیں۔ جب کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم
مگر ہمارے ہاں ہر کل ہی الٹی ہے اور ماہ رمضان میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو جاتا ہے ۔ذخیرہ اندوزاور گراں فروش اشیا کی مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لو ٹتے ہیں۔

 55826c6e64657

lahore-bazar-l

ملک میں رمضان المبارک سے قبل ہی گراں فروشوں نے عوام کی جیبیں کاٹنا شروع کردی ہیں اور ماہ مقدس سے قبل ہی اشیائے خوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عام آدمی کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

c6-534x265

425003_59961150

1 (3)
رمضان المبارک میں مہنگائی عروج پرپہنچ جائےگئی ہرچیز میں ملاوٹ عام ہو گی ، معیاری اشیاء کے نام پر ناقص اور غیر معیاری اشیاء کی کھلے عام فروخت ہو گی۔
پتھر ملا نمک اور جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال ہونے والا چوکر تک سرخ مرچوں میں ملا کر فروخت کیا جاتا ہے ۔ ہر طرف بے ایمانی ہی بے ایمانی نظر آتی ہے ۔ کچھ بھی خالص نہیں رہا ۔ صورتحال سے غریب عوام بے حد پریشان ہیں ۔شدید گرمی میں رمضان المبارک کے دوران مشروبات لوگوں کی افطاری کا لازمی حصہ ہوتا ہے لیکن ماہ مقدس سے قبل ہی چینی کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی سے پسی عوام کی کمر ہی توڑ دی ہے، مارکیٹ میں چینی کی فی کلوقیمت 5 روپے تک بڑھا دی گئی ہے جس سے 100 کلوگرام چینی کی بوری کی قیمت میں 500 روپے اضافہ ہوگیا ہے اس کے علاوہ رمضان میں کثرت سے استعمال ہونے والے سفید چنے کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے جس کے تحت سفید چنے کی 100 کلو کی بوری پر ایک ہی دن میں 4 ہزار روپے تک اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد بوری کی قیمت 5200 سے بڑھ کر 9200 تک جا پہنچی ہے۔
مہنگائی کے اس طوفان نے چنے کی دال کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس کی قیمت میں بھی اچانک اضافہ کردیا گیا ہے جس میں 100 کلو گرام دال کی بوری پر ایک ہزار روپے بڑھا دیئے گئے ہیں۔

QUETTA: A vendor sprinkle water on vegetable to keep them fresh at his stall at Sasta Ramzan Bazar. INP PHOTO by Adnan Ahmed

گوشت کی خرید تو ہوش اڑانے کے لئے ہی کافی ہے۔ چکن کی قیمت کو پر لگے ہیں تو مٹن کے دام بھی اتنے اونچے ہیں کہ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔اشیائے خورد ونوش کے بھاری نرخوں کے ستائے ہوئے عوام ماہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی مہنگائی کے تازہ اشکنجے میں کسّے گئے ہیں ۔

ramzan-bazar_fa_rszd
ملک بھر میں پہلے ہی سے مہنگائی کے مارے عوام بجٹ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان تھے اوپر سے رمضان کی آمد سے پہلےہی قیمتوں میں مزید اضافے نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

366744-ramzan-1434363287-465-640x480
آلو، پیاز، ٹماٹر، ادرک، لہسن اور پھلوں کی قیمتوں میں بے جا اضافہ سے سفید پوشی مِں گزر بسر کرتے شہری خاصے رنجیدہ ہیں۔ دوسری جانب دکانداروں نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے تمام تر ذمہ داری آڑتھیوں اور ذخیرہ اندوزوں پر ڈال دی ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کے خلاف ،گراں فروشی اور ذخیرہ اندازی کا ماہ رمضان میں کیا جواز ہے؟
اشیاء خوردو نوش کی ذخیرہ اندوزی کر کے گریب عوام کو تکلیف اور قحط میں مبتلا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے شریعت نے اس کی مذمت بیان کی ہے اور اس قابل نفرت فعل میں مبتلا ہونے والا شخص شریعت کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے۔

352134-dalchana-1430320534-241-640x480
اسلام میں جوتاجرذخیرہ اندوزی کرکے مصنوعی قلت پیداکرے اورپھرمارکیٹ میں اپنامال اپنی مرضی کی قیمت پرفروخت کرے، اسے خطاکاراورملعون قراردیاگیاہے،ارشادِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”مَنِ احْتَکَرَ یُرِیْدُ أنْ یَتَعَالٰی بِہَا عَلی الْمُسْلِمِیْنَ فَہُوَ خَاطِیٴٌ“(۳۳)
ترجمہ: ”جس نے ذخیرہ اندوزی اس ارادہ سے کی کہ وہ اس طرح مسلمانوں پراس چیزکی قیمت چڑھائے وہ خطاکارہے“۔
دوسری روایت میں ہے:
”اَلْجَالِبُ مَرْزُوْقٌ وَالْمُحْتَکِرُ مَلْعُوْنٌ“․(۳۴)
ترجمہ:”تاجرکو(اللہ تعالی کی طرف سے)رزق دیاجاتاہے اورذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنتی ہے“۔
انسان اشيائے ضروری کی ذخيرہ اندوزی سے بالکل احتراز کرے۔ تاکہ ہر چيز بازار میں حسبِ معمول وافر مقدار میں پہنچ سکے اور قلت کی وجہ سے کسی سامان کا نرخ آسمان نہ چھوئے ۔ آج اشيائے خوردنی کی قيمتوں کے اضافے کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ تجارت پیشہ افراد ذاتی منفعت کی خاطر وافر مقدار میں خاص جنس کی اشياءکی ذخیرہ اندوزی کرکے بھاؤ چڑھنے کا انتظار کرتے ہیں۔ اور نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اور ان مفاد پرستوں کی بيوقوفيوں کی وجہ سے عوام غربت وافلاس سے دوچار ہوتی ہے۔ یہی وہ نقصان ہے جس سے خبردار کرتے ہوئے رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:” ذخيرہ اندوزی صرف خطاکار اور گنہگار شخص ہی کرے گا“۔(صحيح مسلم9215061)
دوسری طرف آجکل ملاوٹ سے کام لینا ہنراورنفع آوری کابہترین ذریعہ بن چکاہے،اسلام میں اس طرح کے عمل کونہایت قبیح اورانسانیت سوزقراردے کرممنوع قراردیاگیاہے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاوٹ کرنے والوں کو انتہائی شدیدوعیدسنائی ہے:
”مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا“․(۳۹)
ترجمہ:”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“۔
مدینہ منورہ میں ایک بازارسے گزرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے ڈھیرکی نچلی سطح کو گیلا پاکر اس کے تاجرسے ارشادفرمایا:
”أَفَلَا جَعَلْتَہ فَوْقَ الطَّعَامِ کَیْ یَراہُ النَّاسُ“․(۴۰)
ترجمہ:”گیلی گندم کواس ڈھیرکے اوپرکیوں نہیں ڈالتا تاکہ لوگ اسے بہ آسانی دیکھ سکیں“۔
بغیرعیب بتائے شے کوفروخت کرنے سے منع کیاگیاہے:ارشادنبوی ہے:
”لاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِیْہِ بِیْعًا فِیْہِ عَیْبٌ الاَّ بَیَّنَہ “․(۴۱)
ترجمہ:”کسی مسلمان کے لیے جائزنہیں کہ وہ بغیربتائے کسی عیب دارچیزکودینی بھائی کے ہاتھ فروخت کرے“۔

ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ سوچنا چاہئیے کہ بحثیت قوم رسول ہاشمی ہم کیا ہیں اورکیا کر رہے ہیں اور کیا ہم رسول اکرم سلم کے امتی کہلانے کے حقدار ہیں؟

Advertisements