طالبان نے افغان پارلیمنٹ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی


150622072437_a_vehicle_is_seen_on_fire_after_a_blast_near_the_afghan_parliament_in_kabul_624x351_reuters

طالبان نے افغان پارلیمنٹ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی کا کہنا ہے کہ حملے کا آغاز پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ایک خود کش کار بم دھماکے سے ہوا، جس کے بعد دیگر 6 مسلح حملہ آوروں نے عمارت کے اہم کمپانڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے افغان سیکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنادیا ہے۔ حملے میں 30 شہری زخمی ہوئے، جن میں 5 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔ایک خاتون رکن پارلیمان کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہیں۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ پر حملے میں ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک جبکہ تمام  حملہ آور مارے گئے۔

54694244bc8fe

afghan-parliament-attack-76

bbbbb

371963-dpz22jnab-035s
افغان دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکا خیز مواد کی مدد سے اڑا لیا جس کے بعد اس کے 7 ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر گھس گئے۔ حملے کے وقت افغان پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھی لگ گئی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے تمام اراکین کو بحفاظت باہر نکالا۔

1000aaa

index
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے  دہشت گردوں کو مقابلے کے بعد ہلاک کردیا گیا ہے۔ قبل ازیں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ساتھیوں نے پارلیمنٹ پر اس وقت حملہ کیا جب وزیردفاع کو ایوان میں متعارف کرایا جا رہا تھا۔

250423_10153496335910528_615743602670987585_n

 وزیراعظم نوازشریف نے افغان پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔دفترخارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے افغان پارلیمنٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کا کردارقابل تحسین ہے جب کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور ہم افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔

150622080343_parlamento_kabul_624x351_naquibullahfaiq

CIGMjwCUYAAX-i8
خودکش حملہ ہر حال میں حرام ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر اسےمنع فرمایا ہے
۔ ارشاد ربانی ہے :
وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
البقرة، 2 : 195
”اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہےo”
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے :
وقيل : أراد به قتل المسلم نفسه.
بغوی، معالم التنزيل، 1 : 418
”اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔”
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں ‌دیا جاسکتا ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔
دہشت گرد افغانستان میں میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں اور ایسا کرنے میں تمام دہشت گرد عناصر متحد ہیں۔ کیا دہشت گردوں کو علم نہ ہے کہ مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اس امر کی اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اور اسلام کی رو سے یہ محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض ہے.
انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور اپنا ہی ملک تباہ کر رہے ہیں۔

Advertisements